یومِ پیدائش پر خاص: ڈاکٹر امبیڈکر نے جیسا کہا تھا ویسا ہی نظر آ رہا آج کا میڈیا

ڈاکٹر امبیڈکر نے کہا تھا کہ ”خبروں کے ذریعہ سنسنی پھیلانا، غیر ذمہ دارانہ اشتعال پیدا کرنا اور ذمہ دار لوگوں کے دماغ میں غیر ذمہ دارانہ جذبات کو بھرنے کی کوشش میں لگے رہنا ہی آج کی صحافت ہے۔“

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

انل چمڑیا

"کسی مقصد کو دھیان میں نہ رکھ کر غیر جانبدار خبریں دینا، سماج کے مفاد میں عوامی پالیسی کا نظریہ پیش کرنا، بغیر کسی خوف کے بڑے سے بڑے اور اونچے سے اونچے شخص کے قصور و غلط کام کا پردہ فاش کرنا اب ہندوستان میں صحافت کی پہلی اور اہم ذمہ داری نہیں مانی جاتی۔ اب ہیرو کی پوجا ہی اس کی اہم ذمہ داری بن گئی ہے۔"

ان سطور کو پڑھ کر لگ سکتا ہے کہ یہ سچائی ہندوستان میں آج کی مین اسٹریم میڈیا کے بارے میں کوئی کہہ رہا ہے۔ لیکن یہ بات انگریزوں کی حکومت کے وقت کی ہے، جس وقت ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش غلامی کے دور سے گزر رہا تھا۔ اور یہ باتیں ہندوستانی آئین لکھنے والی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے کہی تھی۔


ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر ہندوستان میں میڈیا کے رویہ کو لے کر بہت افسردہ اور فکرمند رہتے تھے۔ اتنے زیادہ کہ ان کے سامنے مین اسٹریم میڈیا کے بارے میں تلخ تبصرہ کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچتا تھا۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے ٹھیک وہی کہا تھا جس طرح میڈیا کے بارے میں آج کل عام طور پر رائے رکھی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا تھا "خبروں کے ذریعہ سنسنی پھیلانا، غیر ذمہ دارانہ اشتعال پیدا کرنا اور ذمہ دار لوگوں کے دماغ میں غیر ذمہ دارانہ جذبات کو بھرنے کی کوشش میں لگے رہنا ہی آج کی صحافت ہے۔"

ہندوستان میں میڈیا کے موجودہ رویہ اور حرکتوں کا موازنہ کس ملک کی صحافت سے کیا جا سکتا ہے، یہ اپنے آپ میں ایک تحقیق کا موضوع ہو سکتا ہے۔ لیکن جس وقت ڈاکٹر امبیڈکر نے میڈیا کے رویہ پر تبصرہ کیا، اس وقت ان کے سامنے ہندوستان کی میڈیا کا موازنہ کرنے کے لیے ایک مناسب مثال تھا۔ اپنے گھر کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے ڈاکٹر امبیڈکر کو پوری دنیا کا گہرا تجربہ تھا۔


ڈاکٹر امبیڈکر نے ایک بار بتایا کہ "لارڈ سیلسبری نے نارتھ کلف کی صحافت کے بارے میں کہا تھا کہ وہ دفتر کے بابوؤں کے لیے دفتر کے بابوؤں کے ذریعہ لکھی جاتی ہے۔ ہندوستانی صحافت میں بھی یہ سب ہے، لیکن اس میں یہ بھی شامل کیا جا سکتا ہے کہ وہ ڈھول بجانے والے لڑکوں کے ذریعہ اپنے ہیرو کی تعریف کرنے کے لیے لکھی جاتی ہے۔" لارڈ نارتھ کلف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے جمہوریت کی اور جمہوریت کے لیے صحافت کی جگہ جمہوریت کے حقوق کا استعمال کر مالکوں کے مفاد کی صحافت کا ماڈل تیار کیا تھا۔

ڈاکٹر امبیڈکر نے میڈیا کے بارے میں جو باتیں کہیں ہیں وہ آج کے سیاسی ماحول سے بھی میل کھاتا ہے۔ انھوں نے اسوقت کہا تھا کہ ہندوستانی سیاست جدید ہونے کی جگہ ہندوتوا کا عضو بن گئی ہے اور اس کا اتنا زیادہ بازارکاری ہو گیا ہے کہ اس کا دوسرا نام بدعنوانی ہو گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی میڈیا کے بارے میں رائے سیاست کے ہندوتوا کا عضو ہونے اور میڈیا کے ذریعہ ڈھول بجانے اور ہیرو کی تعریف کرنے کی باتوں کے ساتھ جڑ کر سامنے آئی ہے۔


ڈاکٹر امبیڈکر نے وقت وقت پر ہندوستانی میڈیا کے بارے میں تبصرہ کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے مین اسٹریم میڈیا میں اعزاز بخشے جانے والی مثالوں پر باتیں نہیں کیں۔ انھوں نے کہا کہ ہیرو کی پوجا کی تشہیر کے لیے اتنی بے دردی سے ملک کے مفاد کی بھی قربانی نہیں کی گئی۔ لیکن کچھ معزز استثنیٰ بھی ہیں۔ لیکن وہ آوازیں اتنی کم ہیں کہ کبھی سنی نہیں گئیں۔

ڈاکٹر امبیڈکر نے میڈیا پر اپنے تبصرہ میں اس کے اسباب کی طرف بھی واضح اشارہ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ "اپنی بالادستی کو قائم کرنے میں سیاستدانوں نے بڑے صنعت کاروں کا سہارا لیا ہے۔" انھیں افسردہ ہو کر کہنا پڑا کہ "ہندوستان میں صحافت کبھی ایک پیشہ ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ ایک تجارت بن گیا ہے۔ اب تو صابن بنانے کے سوا اس کا کوئی اور کام نہیں رہ گیا ہے۔ یہ خود کو عوام کا ایک ذمہ دار رہنما نہیں مانتی ہے۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔