سال :2019 راہل گاندھی ،نئی سوچ ، نئی امید

سال 2018 رخصت ہو گیا ہے اور 2019 کا نیا سال شروع ہو گیا ہے ۔ ہندوستانی سیاست کے اعتبار سے سال 2019 انتہائی اہم ہے کیونکہ سال 2018 میں راہل ایک مضبوط قائد کے طور پر سامنے آ ئے ہیں۔

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا

سید خرم رضا

سال 2017 کے ماہ دسمبر میں جب راہل گاندھی بلا مقابلہ کانگریس کے صدر منتخب ہوئے تھے تو اس وقت کانگریس کارکنان کے سامنے نہ تو کوئی سمت تھی اور نہ ہی کچھ کر گزرنے کا جوش ۔ اس وقت کانگریس ایسی پارٹی تھی جس نے ذہنی طور پر اپنی شکست تسلیم کر لی تھی یا یوں کہئے کہ اس کے ذہن میں شکست اور مایوسی گھر کر چکی تھیں ۔ اس وقت گجرات اسمبلی کے انتخابات ہو رہے تھے اور نتائج بھی زیادہ امید افزا نہیں آئے تھے کیونکہ ایک مرتبہ پھر عوام نے ریاست کا اقتدار بی جے پی کے ہاتھوں میں دے دیا تھا ۔ایسے حالات میں پارٹی کی قیادت سنبھالنا حقیقت میں ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔

کانگریس میں صدر بننے کے بعد اس کی توثیق کے لئے پلینیری اجلاس طلب کیا جاتا ہے جس میں صدارت کے عہدے پر مہر لگتی ہے ۔ یہ اجلاس جو مارچ 2018 میں منعقد ہوا تھا اس کا نعرہ تھا ’وقت ہے بدلاؤ کا‘ اور اجلاس کے دوران یہ نعرہ بہت کچھ بول رہا تھا ۔ پرانی نسل کی جگہ پورے اجلاس کی ذمہ داری نوجوان نسل کے کاندھوں پر ڈال دی گئی دوسرے الفاظ میں بہت خوبصورتی سے اس اجلاس میں نوجوان قیادت کو کانگریس کارکنان سے متعارف کرا دیا گیا ۔ انہوں نے اپنے اختتامی خطاب میں اپنی سوچ، اپنےنظریہ، اپنے دشمن اور اپنی خامیوں پر کھل کر روشنی ڈالی ۔

پلینری اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ’’ہزاروں سال پہلے کروکشیتر میں مہابھارت کی جنگ ہوئی تھی۔ کوروں کے پاس دولت تھی، وہ منظم تھے جبکہ پانڈؤں کے پاس چھوٹی سی فوج تھی۔ کوروں نشہ میں چور تھے اور خود کو بڑا سمجھتے تھے جبکہ پانڈو نرم دل تھے اور کم بولتے تھے۔ وہ پانچ بھائی تھے جنہوں نے سب کچھ کھو دیا تھا۔ لیکن کورؤں کے برخلاف پانڈو سچائی کے حامی تھے۔ کورؤں کی طرح بی جے پی اور آر ایس ایس اقتدار کے لئے لڑتے ہیں۔ جبکہ پانڈؤں کی طرح کانگریس سچائی کے لئے لڑ رہی ہے۔‘‘

اس اجلاس میں راہل گاندھی نے ملک کے دشمن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا ’’ہندوستان کبھی بی جے پی اور آر ایس ایس کی طرح نہیں ہو سکتا۔ بی جے پی ایک تنظیم کی آواز ہے جبکہ کانگریس قوم کی آواز ہے۔اس لئے قوم ہم سے بہت امیدیں رکھتی ہے ۔ اگر ہم کچھ نہیں کریں گے تو عوام ہمیں سزا دیں گے۔‘‘ راہل گاندھی نے پارٹی کی خامیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے کارکنان بہت طاقتور ہیں لیکن ان کے اور کانگریس کے سینئر رہنماؤں کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہے ۔ راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ’’میری پہلی کوشش یہ ہوگی کہ یہ دیوار توڑی جائے اور یہ دیوار غصہ سے نہیں بلکہ پیار سے توڑی جائے ۔ ہمیں اپنے سینئر رہنماؤں کی عزت کرتے ہوئے اس دیوار کو اپنے پیار سے گرانا ہوگا‘‘۔

راہل گاندھی نے اس کے بعد سے اپنے عمل سے دو نسلوں کے درمیاں ایک خوشگوار ماحول پیدا کر نے کی کامیاب کوشش کی ۔ انہوں نے اگر نوجوان نسل کو آگے آنے کے لئے حوصلہ افزائی کی تو انہوں نے اشوک گہلوت جیسے سینئر لوگوں کو مشورہ کے لئے اپنے ساتھ بھی رکھا ۔ راہل گاندھی نے مایوسی کے شکار اپنے کارکنان کو بار بار شیر سے تعبیر دے کر ان میں زبردست جوش پید اکیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس ورکر میں جان پیدا ہو گئی اور اس کو ایک پہچان مل گئی۔ راہل گاندھی نے صرف اپنے کارکنان میں ہی جوش نہیں بھرا بلکہ بی جے پی پر بھی اپنے حملہ اس قدر تیز کر دئے کہ بی جے پی کے دگج رہنما بشمول وزیر اعظم بوکھلا گئے ۔ ان کی پریشانی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ کانگریس کارکنان میں اعتماد پیدا ہوا کہ نریندر مودی کو شکست دی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب میڈیا بھی اس تبدیلی کو نظر انداز نہیں کر پائی ۔ ادھر راہل گاندھی بالکل ایک نئے انداز میں سامنے آئے انہوں نے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کو پارلیمنٹ میں ان کی نشست پر جا کر ان کو گلے بھی لگایا اور انتخابی مہم کے دوران انہوں نے اس چوکیدار کو چور بھی کہا۔ ان کے اس انداز سے جہاں کانگریس کارکنان میں جوش اور اعتماد پیدا ہوا وہیں ان کے سامنے ایک حد بھی موجود رہی جو راہل گاندھی نے مودی کو گلے لگاکر پیش کر دی تھی ۔

دیکھتے ہی دیکھتے راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس میں جان آ گئی او ر پھر 11 دسمبر کی تاریخ آئی جب کانگریس نے بی جے پی سے تین بڑی ریاستوں کے اقتدار چھین لئے ۔ راہل گاندھی نے ان ریاستوں میں کانگریس کا پرچم لہرایا جہاں کی اکثریت آبادی ہندوؤ ں کی ہے ۔ راہل گاندھی نے جہاں بی جے پی کو پوری طرح ہلا دیا وہیں انہوں نے کانگریس کارکنان میں زبردست حوصلہ پید ا کیا ۔ سب سے زیادہ کامیابی کی بات یہ رہی کہ راہل کی قیادت میں کانگریس اور خود راہل پر جو مسلم پرست ہونے کی مہر لگی ہوئی تھی وہ پوری طرح دھل گئی اور ان کو قومی قائد تسلیم کر لیا گیا ۔ حققیت تو یہ ہے کہ سال 2018 کو اگر ہندوستان کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ سال پوری طرح راہل گاندھی کا سال رہا جہاں انہوں نے نہ صرف خود کو منوایا بلکہ نریندر مودی کی قیادت پر سوال کھڑے کر دئے ہیں ۔ راہل گاندھی سال 2019 کے لئے ایک نئی امید کی کرن ہیں ۔