ایسا سب منتخب نمائندے کریں تو کیا ہی اچھا ہو...

جامعہ میں پروفیسر ڈاکٹر شہزاد انجم کہتے ہیں کہ والدین ہمیشہ بچوں کا فلاح دیکھتے ہیں نہ کہ اسکول کا۔ سرکاری اسکولوں میں معیارِ تعلیم بہتر ہوگا تو وہ پرائیویٹ اسکولوں میں اپنا پیسہ کیوں خرچ کریں گے۔

تنویر احمد

اوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی امانت اللہ خان نے اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکول سے نکال کر سرکاری اسکول میں داخلہ کیا کرایا، چہار جانب ان کی تعریف ہونے لگی اور ان کے اس قدم کو مثالی قدم قرار دیا جانے لگا ہے۔ چونکہ موجودہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے اس لیے جیسے ہی امانت اللہ نے اپنے ٹوئٹر پر بچوں کا داخلہ سرکاری اسکول میں کرائے جانے سے متعلق خبر دی، نیوز ویب سائٹ اور اخبارات نے فوراً اس کو کیچ کیا اور سرخیاں بن گئیں۔ جب ’قومی آواز‘ نے عآپ ممبر اسمبلی سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر انھوں نے یہ فیصلہ کیوں لیا، تو انھوں نے بتایا کہ ’’گزشتہ تین سالوں میں دہلی کے سرکاری اسکولوں کا معیار بہت بہتر ہوا ہے اس لیے مناسب یہی ہے کہ سرکاری اسکولوں کو ترجیح دی جائے۔ میں نے اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں اس لیے بھی ڈالا تاکہ لوگوں میں یہ پیغام جائے کہ اب سرکاری اسکولوں کا معیارِ تعلیم بہتر ہو چکا ہے اور اپنے بچوں کا داخلہ یہاں کرانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ امانت اللہ نے اوکھلا واقع جوگا بائی سرکاری اسکول میں اپنے بیٹے انس احمد خان اور بیٹی طہورا خان کا داخلہ کرایا ہے۔ انس نے درجہ 9 میں جب کہ طہورا نے درجہ 6 میں داخلہ لیا ہے۔ ’قومی آواز‘ نے امانت اللہ خان سے جب یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا وہ ایسی کوئی مہم چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ متوسط اور اعلیٰ طبقہ کے لوگ بھی اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری اسکولوں میں کرائیں! اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’’میں چاہتا ہوں کہ لوگ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں سے جوڑیں اور اس کے لیے میں نے ہورڈنگ وغیرہ لگانے کا ارادہ کیا ہے۔ اس کے ذریعہ میں لوگوں سے کہوں گا کہ میں نے اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری اسکول میں کرا دیا اور اب آپ کی باری ہے۔‘‘

امانت اللہ کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم سے متعلق جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر شہزاد انجم سے جب ’قومی آواز‘ نے بات کی اور ان سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا واقعی سرکاری اسکولوں کے معیارِ تعلیم میں بہتری آئی ہے، تو انھوں نے بتایا کہ ’’دہلی کے سرکاری اسکولوں کی حالت یقیناً پہلے سے بہتر ہوئی ہے اور نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے اس شعبہ میں اچھا کام کیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’والدین ہمیشہ اپنے بچوں کا فلاح دیکھتے ہیں نہ کہ اسکول کا۔ سرکاری اسکولوں میں معیارِ تعلیم اچھا ہوگا تو وہ پرائیویٹ اسکولوں میں اپنا پیسہ کیوں خرچ کرنا چاہیں گے۔‘‘ امانت اللہ کے ذریعہ اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری اسکول میں کرائے جانے کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر شہزاد انجم کہتے ہیں کہ ’’ان کا قدم قابل تعریف ہے۔ سرکاری اسکولوں کے معیارِ تعلیم میں لگاتار بہتری کی کوشش ہونی چاہیے اور سب سے بڑی بات یہاں باصلاحیت اساتذہ کی تقرری پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایسا ہوتا ہے تو دھیرے دھیرے لوگ خود اس سے رجوع کریں گے۔‘‘

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ریسرچ اسکالر شاہ نواز حیدر شمسی بھی اخبارات میں اس خبر کو پڑھ کر خوش نظر آئے کہ عآپ ممبر اسمبلی امانت اللہ خان نے اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری اسکول میں کرایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’امانت اللہ عوام میں جو پیغام دینا چاہتے تھے وہ ان تک پہنچ گیا۔ کسی سیاسی لیڈر کے ذریعہ اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری اسکول میں کرانا ایک اچھی علامت ہے۔ یہ ایسی پیش قدمی ہے جس سے ایلیٹ طبقہ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ کیا وہ اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری اسکول میں کرا سکتے ہیں! ‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ابھی تک سرکاری اسکولوں کے تئیں لوگوں کا نظریہ منفی ہی رہا ہے لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں دہلی کے سرکاری اسکولوں کا معیارِ تعلیم بہتر ہوا ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ سیاسی لیڈروں اور اعلیٰ طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے بچے سرکاری اسکول میں پڑھنے لگیں تو یہاں کے نظام اور تعلیمی معیار میں مزید اصلاح یقینی ہے۔‘‘ امانت اللہ خان نے تو سرکاری اسکول پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے ایک مثال پیش کر دی لیکن کیا ہی اچھا ہو اگر سبھی منتخب نمائندے اس پر عمل کریں۔ ویسے ایک دیگر عآپ ممبر اسمبلی گلاب سنگھ نے امانت اللہ خان سے بہت پہلے ہی اپنے بچے کا داخلہ سرکاری اسکول میں کرایا تھا لیکن اس کی تشہیر اتنی نہیں ہوئی تھی جتنی امانت اللہ کی ہو رہی ہے۔ اس کا تذکرہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں کیا ہے۔

Published: 27 Jul 2018, 2:00 PM