ہچکولے کھاتی ’عآپ‘، کانگریس کو ملا ’پائلٹ‘...ہرجیشور پال
پنجاب میں ’عآپ‘ حکومت کے خلاف بڑھتی بے چینی، منشیات، بدعنوانی اور نظم و نسق کے مسائل کے درمیان کانگریس نے سچن پائلٹ کو ریاستی انچارج بنا کر دھڑوں میں بٹی پارٹی کو متحد کرنے کی نئی حکمت عملی اختیار کی

پانچ ماہ بعد ہونے والا اسمبلی انتخاب طے کرے گا کہ پنجاب میں جھاڑو دوسری بار چلتی ہے یا پھر باہر ہی سے صفائی کر دی جاتی ہے۔ وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے لیے فی الحال تقریباً ہر سڑک پر کانٹے دار تاریں بچھی نظر آ رہی ہیں۔
آغاز اس سنت-سپاہی تصادم سے کرتے ہیں، جس کا سامنا حالیہ تاریخ میں پنجاب کے کسی بھی وزیر اعلیٰ کو نہیں کرنا پڑا۔ 15 جون 2026 کو اکال تخت نے مان کو ’گرو دروہی‘ اور ’خالصہ پنتھ مخالف‘ قرار دیا۔ یہ کارروائی اس مبینہ ویڈیو کے بعد ہوئی جس میں وہ سکھ گوروؤں اور سنت جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کی تصاویر پر شراب چھڑکتے دکھائی دیے تھے۔ اس کے بعد سنگت کو ان سے تمام تعلق توڑنے کا حکم جاری کیا گیا۔ اکال تخت کے احکامات آج بھی لاکھوں پنجابیوں کے لیے مذہبی حکم نامہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وی آئی پی کلچر اور فرقہ وارانہ سیاست کے مقابلے میں صاف ستھرے متبادل کے طور پر اپنی شبیہ بنانے والی پارٹی کے لیے سکھوں کی اعلیٰ ترین مذہبی پیٹھ کی جانب سے بے دخل کیا جانا مان کے سیاسی اور اخلاقی وجود پر براہِ راست ضرب تھی۔
دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے خیمہ میں شدید بے چینی ہے۔ وزارت کے ملازمین، کمپیوٹر اساتذہ اور ملازمین کی یونینوں کا ایک بڑا حلقہ تنخواہوں سے متعلق نامکمل وعدوں کے خلاف کئی ماہ سے دھرنے دے رہا ہے۔ متحدہ کسان مورچہ کے بینر تلے کسان تنظیمیں دو مرتبہ چنڈی گڑھ-موہالی سرحد پر جمع ہو چکی ہیں۔ ان کا احتجاج مان کو یاد دلا رہا ہے کہ ’حکومت بدلو‘ کا ہتھیار دونوں طرف وار کرتا ہے۔
معاملہ اب سیاسی نہیں بلکہ ذاتی بھی ہو چکا ہے۔ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج نے وزیر اعلیٰ کی اہلیہ گرپریت کور پر ایک عصمت دری کے معاملے کو دبانے کے لیے 5 کروڑ روپے رشوت لینے کا کھلا الزام عائد کیا ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے اس معاملے میں کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے، جب کہ شرومنی اکالی دل نے وزیر اعلیٰ دفتر سے چلنے والے مبینہ ادارہ جاتی ’لوٹ ماڈل‘ کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر مان نے زیرہ میں ایک ریلی کے دوران گرپریت سنگھ سیخوں کو، جو 2016 کے نابھا جیل بریک کیس کا مرکزی ملزم ہے اور جس کے ذریعے خالصتان لبریشن فورس کے سربراہ ہرمندر منٹو کو فرار کرایا گیا تھا، پارٹی میں شامل کر لیا۔ یہی وہ نابھا جیل بریک تھا جسے ٹھیک ایک دہائی قبل اروند کیجریوال نے پنجاب میں ’قانون و انتظام کی تباہی‘ کا سب سے بڑا ثبوت قرار دیا تھا۔
دو دیگر واقعات بھی توجہ طلب ہیں۔ سنگرور میں منشیات کی دہشت کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک سکھ نوجوان موہن جیت سنگھ نے مان کے قافلے کو سیاہ جھنڈے دکھائے۔ الزام ہے کہ حراست کے دوران اسے بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور اس کے ککاروں، یعنی سکھ مذہبی ضابطے کے پانچ لازمی علامات، کی بے حرمتی کی گئی۔ اس پر اکال تخت کے جتھیدار نے ریاستی حکومت کا موازنہ مغلیہ دور کے ایک ’ظالم‘ گورنر سے کر دیا۔
اس کے چند ہی دن بعد سنگرور کے ایک دلت یومیہ مزدور گلزار سنگھ نے وزیر خزانہ ہربال چیمہ سے انہی کے گاؤں میں مبینہ طور پر فروخت ہونے والی ’چِٹّا‘ یعنی مصنوعی منشیات کے بارے میں سخت سوالات کیے۔ اس کے بعد سرپنچ اور پولیس کی جانب سے عوامی طور پر معافی مانگنے کے لیے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے سے دل برداشتہ ہو کر گلزار نے زہر کھا لیا۔ قومی کمیشن برائے درج فہرست ذاتوں نے اس معاملے میں پنجاب کے اعلیٰ حکام کو نوٹس جاری کیے ہیں، جب کہ راہل گاندھی نے پورے واقعے کو ’سوال پوچھنے والوں کو کچلنے والی آمریت‘ قرار دیا ہے۔
منشیات کا مسلسل پھیلتا جال، بے لگام گینگسٹروں کا راج، بدعنوانی کے سنگین الزامات اور چنڈی گڑھ کے بجائے دہلی میں کیجریوال کے دربار کے تئیں جواب دہ سمجھے جانے والے وزیر اعلیٰ کی شبیہ، ان سب نے مل کر ’عآپ‘ کو ہر محاذ پر کمزور کیا ہے۔ دوسری طرف مخالف جماعتیں محض شکایات کرنے کے بجائے زمینی سطح پر صف بندی اور عوامی رابطے میں مصروف ہو گئی ہیں۔
سکھبیر بادل منشیات، صحت، پینے کے پانی، خستہ حال سڑکوں اور تباہ حال تعلیمی نظام جیسے مسائل کو اٹھاتے ہوئے ’پنجاب بچاؤ‘ ریلیاں کر رہے ہیں۔ اکالی دل (وارث پنجاب دے) نے جیل میں بند رکن پارلیمنٹ امرت پال سنگھ کو 2027 کے انتخابات میں وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے اور سکھ ’شہیدوں‘ کے اہل خانہ کو بھی انتخابی میدان میں اتار رہا ہے۔ ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ منشیات کے گہرے ہوتے بحران اور خود کو بحران سے نجات دلانے والے کے طور پر پیش کرنے والے امرت پال کے ذریعے انتخابی فائدہ حاصل کیا جائے۔
یہاں تک کہ دیہی پنجاب میں حاشیے پر موجود بی جے پی کو بھی اسی منشیات اور ناقص قانون و انتظام کے بیانیے میں اپنے لیے گنجائش نظر آ رہی ہے، جسے کبھی مان نے انتخابی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا۔ بی جے پی نے 12 روزہ منشیات مخالف مہم شروع کی ہے اور ’عآپ‘ کی ماہانہ 1,000 روپے والی ’ماؤں-بیٹیوں ستکار یوجنا‘ کے مقابلے میں اپنی ماہانہ 2,100 روپے والی ’ہریانہ لاڈو لکشمی یوجنا‘ کی تشہیر پنجاب میں شروع کر دی ہے۔
اس سیاسی گہماگہمی کے درمیان کانگریس ہائی کمان کی جانب سے بھوپیش بگھیل کو پنجاب انچارج کے عہدے سے ہٹا کر یہ ذمہ داری سچن پائلٹ کو سونپنے کا فیصلہ پہلی نظر میں ایک معمول کی تنظیمی تبدیلی محسوس ہو سکتا ہے۔ لیکن گہرائی میں جائیں تو یہ ایک بڑی اور حکمت عملی پر مبنی اصلاح ہے۔
فروری 2025 میں ذمہ داری سنبھالنے والے بھوپیش بگھیل کا کام کم از کم تین دھڑوں میں بٹی پنجاب کانگریس کو ایک لڑی میں پرونا تھا۔ ایک جانب چرنجیت چنی اور سکھجندر رندھاوا تھے، دوسری جانب قائد حزب اختلاف پرتاپ باجوا کا خیمہ، جب کہ تیسرے سرے پر ریاستی کانگریس صدر امریندر سنگھ راجا وڑنگ تھے۔ سب کو متحد کرنے کے بجائے بگھیل خود ایک دھڑا بن گئے اور ان پر وڑنگ خیمے کے تئیں کھلے عام جانبداری کے الزامات لگے۔ یہاں تک کہ جولائی میں راہل گاندھی کی جانب سے کی گئی تنظیمی تبدیلیوں کے بعد بھی کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔ اس تبدیلی میں وڑنگ کو برقرار رکھتے ہوئے چنی کو انتخابی مہم کمیٹی کا سربراہ اور رندھاوا کو کور کمیٹی کا صدر بنایا گیا تھا۔
پائلٹ کی تقرری اس بات کا اشارہ ہے کہ راہل گاندھی کے ریاست گیر دورے سے پہلے چنی خیمے، جس میں زیادہ تر سینئر رہنما شامل ہیں، کو ساتھ لانے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ چنی، رندھاوا اور وڑنگ—تینوں نے عوامی طور پر پائلٹ کی تقرری کا خیر مقدم کیا ہے۔ 2022 کے بعد شاید ہی کسی معاملے پر اتفاق کرنے والی اس تین رکنی قیادت میں اس طرح کی اتفاق رائے ایک نادر لمحہ تھا۔ سیاسی حلقوں میں اب یہ سوال گونج رہا ہے کہ کیا وڑنگ ریاستی صدر کی کرسی بچا پائیں گے؟ بحث ہے کہ ہائی کمان انہیں کسی ’دوسری ذمہ داری‘ کے بہانے دہلی بلا سکتی ہے—جو کانگریس کی سیاسی زبان میں باعزت رخصتی کا دوسرا نام سمجھا جاتا ہے۔
ویسے، یہاں ایک بڑا سبق بھی پوشیدہ ہے۔ کانگریس ہائی کمان میں اپنی غلطیوں کی اصلاح، کارکنوں کی بات سننے، تنظیمی ردوبدل کرنے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت موجود ہے، جب کہ بی جے پی کی قیادت فیصلے مسلط کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ کاغذ پر دیکھا جائے تو پائلٹ ایک مثالی انتخاب ہیں۔ پنجاب کی دھڑے بندی کی پرانی لڑائیوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں، ہر خیمے میں ان کی قبولیت ہے، اور وہ راجستھان سے آتے ہیں، جو چھتیس گڑھ کے مقابلے میں جغرافیائی اور مزاجی اعتبار سے پنجاب کے کہیں زیادہ قریب ہے۔
سابق بیوروکریٹ اور پنجاب کانگریس کے سینئر رہنما ہردیپ سنگھ کنگرا کا ماننا ہے کہ نوجوان اور پُرجوش پائلٹ ’عام کارکنوں اور زمینی کیڈر کے ساتھ بہت آسانی سے جڑ جاتے ہیں۔‘ ایک دہائی پر محیط طویل سیاسی جدوجہد سے نکھرا سچن پائلٹ کا سیاسی فلسفہ بھی اس اعتبار سے خاصا موزوں ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ کانگریس کارکنوں سے کہا تھا: ’رہنما کئی ہو سکتے ہیں اور رائے بھی کئی ہو سکتی ہیں، لیکن دھڑا کوئی نہیں ہے۔‘
راہل گاندھی کے دورے سے پہلے پائلٹ نے ریاست کے رہنماؤں کے ساتھ براہِ راست بات چیت شروع کر دی ہے۔ ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ پنجاب کے لیے ان کا پیغام بالکل واضح ہے: ہر دھڑے کو شراکت دار بننا ہوگا، لیکن نظم و ضبط کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ بگھیل کبھی یہ توازن قائم نہیں کر سکے۔ وہ پہلی مرتبہ ایک چھوٹی سی ٹیم کے ساتھ انچارج بن کر آئے تھے اور ریاست کی زمینی نبض کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ وڑنگ خیمے سے باہر کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ ان کی دوری اور رابطے کا فقدان ان کی ثقافتی ناواقفیت، مزاج کی کمزوریوں اور زمینی نیٹ ورک کے فقدان کا نتیجہ تھا۔
کیا پائلٹ اگلے پانچ ماہ میں وہ کرشمہ دکھا پائیں گے جو بگھیل اٹھارہ ماہ میں نہیں کر سکے؟ یہی طے کرے گا کہ کانگریس ’عآپ‘ کے سامنے ایک مضبوط اور ناقابل شکست متبادل بن کر کھڑی ہوتی ہے یا پھر خود کو نقصان پہنچانے والی اندرونی کشمکش کے اسی پرانے چکر ویوہ میں پھنسی رہتی ہے۔ کثیر رخی انتخابی دنگل میں جو جماعت اپنے ہی گھر کو درست کرنے میں بہت زیادہ وقت ضائع کر دیتی ہے، وہ اکثر یہ پاتی ہے کہ اس وقت تک ووٹر کسی دوسری سمت آگے بڑھ چکا ہوتا ہے۔
(مضمون نگار ہرجیشور پال سنگھ، ایس جی جی ایس کالج، چنڈی گڑھ میں تاریخ کے پروفیسر ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
