موتیہاری یونیورسٹی تنازعہ اعلیٰ تعلیم میں جاری خاموش انہدام کی جھلک... اپوروانند

مہاتما گاندھی سنٹرل یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے خلاف اساتذہ طبقہ تحریک چلا رہا تھا۔ یونیورسٹی بند تھا۔ نتیش کمار کیا کر رہے تھے؟ نائب وزیر اعلیٰ نے تو اساتذہ پر حملے کو جائز تک ٹھہرا دیا۔

By اپوروانند

موتیہاری واقع مہاتما گاندھی یونیورسٹی نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ صدر جمہوریہ نے ان کا استعفیٰ منظور بھی کر لیا ہے جو کہ یونیورسٹی کے چانسلر ہیں۔ لیکن اس خبر کے ساتھ جو بات سامنے آئی ہے وہ زیادہ فکر انگیز ہے۔ خبر ہے کہ انھوں نے اپنی ورکنگ کونسل میں باقاعدہ تجویز رکھی کہ یونیورسٹیوں میں تقرری سے متعلق کاغذات کو ضائع کرنے کی اجازت انہیں دی جائے۔ وجہ ہے جگہ کی کمی، جو کہ محض ایک بہانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان پر طرح طرح کے الزامات ہیں۔ ان میں تقرریوں کی گڑبڑی کے بھی الزامات ہیں۔ بغیر جانچ کے کسی نتیجہ پر پہنچنا جلدبازی ہے، لیکن دستاویزات ضائع کرنے کی یہ تجویز انھیں خود بہ خود شک کے دائرے میں کھڑا کرتی ہے۔

موتیہاری کی اس یونیورسٹی میں ہم ہندوستان میں آج کی اعلیٰ تعلیم کی اصل تصویر دیکھ سکتے ہیں۔ یونیورسٹیوں کی قیادت کی حقیقی بدحالی کی تصویر۔ موتیہاری واقع مہاتما گاندھی سنٹرل یونیورسٹی بہار کے وزیر اعلیٰ کی ضد سے بنا۔ 2009 میں ملک میں ایک ساتھ 16 سنٹرل یونیورسٹیوں کے قیام کا اعلان ہوا تو ان میں بہار کے حصے میں بھی ایک آیا۔ قاعدے سے ریاستی حکومت کو دو تین مقامات کی نشاندہی اور دستیاب کرانی تھیں، جن میں سے کسی ایک جگہ کا انتخاب اس کی موزونیت کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کی تکنیکی کمیٹی کرتی۔ لیکن بہار کے وزیر اعلیٰ نے پتہ نہیں کیا سوچ کر پہلے ہی موتیہاری میں سنٹرل یونیورسٹی بنانے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس پر انھوں نے صرف ایک ہی جگہ مرکزی حکومت کی ٹیم کو دکھایا جسے اس نے سنٹرل یونیورسٹی کی ضرورتوں کے لائق بھی نہیں پایا۔

اس کے بعد بہار حکومت سے ایک متبادل جگہ کی تجویز مانگی گئی۔ اس مشورہ پر عمل کرنے کی جگہ نتیش کمار نے اسے اپنی ناک کا سوال بنا لیا۔ انھوں نے ضد پکڑ لی کہ یونیورسٹی موتیہاری میں ہی قائم ہوگی۔ سنٹرل یونیورسٹی کو کوئی جگہ نہ ملے، صرف یہی انھوں نے یقینی نہیں کیا بلکہ اسے اس کے غیر مستقل دفتر سے باہر نکلوانے کی پوری کوشش بھی کی۔ یہ عجیب صورت حال تھی کہ ایک وزیر اعلیٰ اپنی ریاست میں ایک سنٹرل یونیورسٹی کو قائم کرنے میں مدد کرنے کی جگہ اس کا جینا دشوار کرنے میں لگا تھا۔

آخر کار ریاستی حکومت کے مخالفانہ رخ کا مقابلہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کے لیے مرکزی حکومت نے کسی طرح گیا میں فوج کی زمین کا ٹکڑا حاصل کیا۔ لیکن نتیش کمار کی ضد کی وجہ سے موتیہاری میں بھی ایک سنٹرل یونیورسٹی کا اعلان ہوا۔ اس طرح سے بہار واحد ایسی ریاست ہو گئی جسے دو یونیورسٹی ملی۔

خیر، پہلے کا قصہ چھوڑیں۔ یہ دیکھیں کہ آخر اس دوسری یونیورسٹی کا کیا ہوا؟ کچھ وقت پہلے یہ یونیورسٹی خبروں میں تھی۔ اس وجہ سے نہیں جس سے تعلیمی ادارے کو ہونا چاہیے۔ وہاں کے ایک استاد کو گھر سے کھینچ کر بری طرح پیٹا گیا۔ جس نے پیٹا اسے ضابطوں کو درکنار کرتے ہوئے، مانو شاباشی دینے کے لیے یونیورسٹی میں داخل دے دیا گیا۔ جس استاد پر حملہ ہوا تھا اس کا ساتھ دینے کی جگہ اسی کے خلاف انتظامیہ نے دو مقدمے دائر کروا دیے۔ وائس چانسلر خود حملہ آوروں کے ساتھ تصویروں میں دکھائی پڑے۔ اساتذہ طبقہ وائس چانسلر کے خلاف تحریک چلا رہا تھا۔ یونیورسٹی بند تھی۔ نتیش کمار کیا کر رہے تھے؟ آخر ان کی ضد کا نتیجہ تھا یہ یونیورسٹی! وہ اب تک خاموش ہیں اور ان کے نائب وزیر اعلیٰ نے استاد پر حملے کو جائز تک ٹھہرا دیا۔

وزیر اعلیٰ چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ سنٹرل یونیورسٹی میں ان کا دخل نہیں۔ لیکن اس خاموشی سے تعلیم کے تئیں ان کے نظریہ کا پتہ چلتا ہے۔ اس حساسیت کا اندازہ بہار کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی حالت زار سے ہوتا ہے۔ برسوں سے اساتذہ کے بغیر، لائبریریوں اور تجربہ گاہوں کے بغیر بے کار تعلیمی ادارے ایک ایسی ریاست کی علامت ہیں جسے خود کو لے کر کوئی خواہش نہیں۔ یہ بہار میں نہ تو عوام کے لیے اور نہ سیاسی طبقہ کے لیے غور کا موضوع ہے۔ ان کے ذریعہ کسی تحریک کی امید تو چھوڑ ہی دیجیے۔

بہر حال، یہ اس تبصرہ کا اہم موضوع نہیں۔ ہم ابھی سنٹرل یونیورسٹیوں پر بحث کر رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا انتظام و انصرام اکثر ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو دراصل قائدانہ صلاحیت سے محروم ہیں۔ عام طور پر وہ غیر محفوظ جان پڑتے ہیں اور اس لیے اساتذہ طبقہ سے ان کا تعلق ہمیشہ کشیدہ رہتا ہے۔ اساتذہ فطری طور پر ان کی قیادت قبول کر لیں، اس کے لیے ضروری ذہانت یا اکیڈمک اثر ان کے پاس نہیں ہے۔ ان کا سلیکشن محض ایک اتفاق تصور کیا جاتا ہے، سیاسی طبقہ کی پشت پناہی کا نتیجہ۔ اس لیے وائس چانسلر کا رجحان اساتذہ طبقہ سے زیادہ سیاسی طبقہ کی طرف ہوتا ہے۔ جب تک ان کا ہاتھ سر پر ہے، وہ یونیورسٹی احاطہ میں جو چاہے کر سکتے ہیں، ہر کسی کو روند سکتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی اس وقت جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں انتہائی غلط اور ظالمانہ طریقے سے ہو رہا ہے۔ اساتذہ اور طلبا کی رائے کو پوری طرح نظر انداز کرتے ہوئے یونیورسٹی کے منظرنامہ کو پوری طرح سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اسے یونیورسٹی کی بربادی کہنا زیادہ مناسب ہے اور یہ سب کچھ راجدھانی میں ہو رہا ہے۔ لیکن ایسا نہیں کہ یہ سب پہلی بار ہو رہا ہے۔ چار سال پہلے دہلی یونیورسٹی نے ایسی ہی تکلیف تقریباً پانچ سال تک برداشت کی ہے۔پہلے سیمسٹر اور پھر چار سال کے گریجویشن پروگرام کو جبراً نافذ کرنے میں ہی نہیں، بی ٹیک (ہیومنٹیز) جیسے عجیب و غریب نصاب کو نافذ کرنے اور وائس چانسلر کے دوسرے فطوروں کے سبب اسے جو زخم لگے، ان کا پوری طرح بھرنا ابھی باقی ہے۔ وہ وقت ایک زیادہ روادار حکومت کا تھا۔ لیکن وائس چانسلر تاناشاہ تھے اور انھیں نظریہ سے زیادہ نجی اسباب سے اقتدار کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اس لیے وہ دہلی یونیورسٹی جیسی جمی جمائی یونیورسٹی میں بھی منمانی کر پائے۔ لیکن ابھی جے این یو میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے۔ سماج تب بھی خاموش تھا اور اب بھی خاموش ہے۔

وائس چانسلر کی تاناشاہی قوتوں پر کبھی سوچا نہیں گیا۔ نہ ہی یونیورسٹی انتظامیہ پر غور کیا گیا۔ ورکنگ کونسل اگر اعلیٰ فیصلہ ساز ادارہ ہے اور وائس چانسلر ہی اس کا سربراہ ہے تو وہ اس کے تئیں جوابدہ کیوں ہوگا! کونسل کبھی بھی وائس چانسلر کے کاموں کا تجزیہ نہیں کر پاتی۔ یہ عام حالت کی بات ہے، آج کے غیر معمولی ماحول کی نہیں جب حکمراں طبقہ یونیورسٹیوں پر قبضے کی کوشش کر رہا ہے۔

آج عموماً وائس چانسلر کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی ورکنگ کونسل میں بھی ایسے لوگوں کی تقرری کی گئی ہے جن کا یونیورسٹی سے کوئی سروکار نہیں۔ وہ یونیورسٹی کی تاریخ اور اس کی خاص نوعیت سے نہ تو آشنا ہیں اور نہ اس کے تئیں خود کو جواب دہ تصور کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہندوستان میں ہر ریاست میں اعلیٰ تعلیم میں ایک خاموش انہدامی ماحول چل رہا ہے جو کبھی کبھی موتیہاری کی طرح ظاہر ہو جاتا ہے۔ ضرورت بس اس بات کی ہے کہ آپ کے پاس وہ کان ہو جو یونیورسٹی نامی ادارہ کے منہدم ہونے کی آواز سن سکے۔