دو پڑوسیوں کو جوڑتی اور بانٹتی ایک ندی....سوربھ سین اور فیصل محمود
گنگا آبی معاہدہ دسمبر 2026 میں ختم ہو رہا ہے، مگر ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجدید کے لیے اب تک باضابطہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے۔ داخلی سیاست، ریاستی مطالبات اور باہمی بداعتمادی اہم رکاوٹیں ہیں

کولکاتا سے سوربھ سین اور ڈھاکہ سے فیصل محمود
ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 1996 میں طے پانے والے گنگا آبی معاہدے کی مدت دسمبر 2026 میں ختم ہو رہی ہے اور اب اس کی تجدید کا وقت آ پہنچا ہے۔ یہ معاہدہ اس وقت ایک دوستانہ ماحول میں طے پایا تھا، جب ہندوستان میں ایچ ڈی دیوے گوڑا وزیراعظم اور بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ وزیراعظم تھیں۔ لیکن آج، جب معاہدے پر نئے سرے سے بات چیت ہونی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان گہری بداعتمادی کی خلیج دکھائی دے رہی ہے۔
مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور گنگا کی بالائی بہاؤ والی ریاستوں، اتراکھنڈ، اتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال، میں بھی بی جے پی یا اس کے اتحادی اقتدار میں ہیں۔ مغربی بنگال وہ ریاست ہے جہاں فرخا بیراج کے مقام پر گنگا دو دھاروں میں تقسیم ہوتی ہے۔ ایک دھارا بنگلہ دیش کی طرف جاتا ہے جسے وہاں پدما کہا جاتا ہے، جبکہ دوسرا کولکاتا کی جانب مڑتا ہے اور بھاگیرتھی-ہوگلی کہلاتا ہے۔
دریائی علاقوں کی ریاستوں کا سیاسی رنگ اس لیے اہمیت رکھتا ہے کہ حکمراں بی جے پی کی بیان بازی اور حالیہ سیاسی اقدامات میں سرحد کے دونوں جانب بنگلہ دیش اور مسلمانوں کے حوالے سے جارحانہ رویہ نمایاں رہا ہے۔ ایسے میں یہ بات فطری ہے کہ ماضی کی باہمی خیرسگالی کمزور پڑ چکی ہے اور اس کا اثر اب معاہدے کے مستقبل پر بھی پڑ رہا ہے۔
بہار سے جنتا دل (یونائیٹڈ) کے رکن پارلیمنٹ سنجے جھا نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ شکل میں اس معاہدے کو آگے نہ بڑھایا جائے۔ ایک پریس نوٹ میں انہوں نے کہا، ’’بہار خیرات نہیں مانگ رہا۔ ہم صرف وہ مانگ رہے ہیں جو ہمارے سائنسی جائزے کے مطابق ہمارا حق ہے، تاکہ 13 کروڑ لوگوں کو اگلے 30 برس تک پینے، آب پاشی اور صنعتی استعمال کے پانی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘
مغربی بنگال کی سیاسی جماعتیں معاہدے کی تجدید کی ضرورت پر تو متفق ہیں، لیکن اس کے طریقۂ کار کو لے کر ان میں گہرے اختلافات ہیں۔ ریاست کی بنیادی تشویش گاد کے جمع ہونے، دریا کے کناروں کے کٹاؤ اور کولکاتا بندرگاہ میں جہازوں کی آمدورفت سے متعلق ہے۔ اقتدار میں رہتے ہوئے ممتا بنرجی نے مرکز کی جانب سے کی جانے والی ان دو طرفہ بات چیت کی سخت مخالفت کی تھی جن میں ریاست کو نظرانداز کیا گیا تھا۔
ریاست میں موجودہ بی جے پی حکومت کے پاس مرکز کے مؤقف کی حمایت کرنے کے علاوہ زیادہ گنجائش نہیں، تاہم وہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ قومی سلامتی اور وفاقی سطح پر آبی وسائل کا انتظام مرکزی ترجیحات ہونی چاہئیں۔ دوسری جانب اپوزیشن میں موجود سی پی آئی ایم اور کانگریس ایک سہ فریقی ماڈل کی وکالت کر رہی ہیں۔ اس میں پارلیمنٹ میں کھلی اور جامع بحث، بہار سمیت تمام متعلقہ ریاستوں سے وسیع مشاورت اور ماحولیاتی سائنس دانوں کے ذریعے تکنیکی جائزہ شامل ہو۔
یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ 1996 میں جس متحدہ محاذ حکومت نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، اسے کانگریس اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی بیرونی حمایت حاصل تھی۔ اس وقت مغربی بنگال میں سی پی آئی ایم کی حکومت تھی۔ بنگلہ دیش کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھنے والے وزیراعلیٰ جیوتی باسو اور کانگریس کے سینئر رہنما پرنب مکھرجی نے اس عمل کو سیاسی قوت فراہم کی تھی، جبکہ مغربی بنگال کے اس وقت کے وزیر خزانہ اسیم داس گپتا نے بنگلہ دیش کے ساتھ ہندوستانی مذاکراتی وفد کی قیادت کی تھی۔ مختلف سیاسی نظریات رکھنے کے باوجود دیوے گوڑا، باسو اور مکھرجی پانی کی تقسیم کے معاملے پر ایک صفحے پر تھے۔
تکنیکی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس معاہدے نے وہ نتائج بڑی حد تک دیے ہیں جن کے لیے اسے وضع کیا گیا تھا، یعنی دونوں ملکوں کے لیے پانی کی مناسب دستیابی۔ ماہرین اسے سرحد پار پانی کی تقسیم کے معاہدوں میں ایک کامیاب مثال قرار دیتے ہیں اور بعض کے نزدیک یہ سندھ طاس معاہدے سے بھی بہتر اور زیادہ مؤثر ماڈل ہے۔ سندھ طاس معاہدہ پہلگام دہشت گرد حملے اور اس کے بعد شروع ہونے والے ’آپریشن سندور‘ سے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں پیدا ہونے والی تلخی سے پہلے بھی تنازعات کا شکار رہا ہے۔
گنگا معاہدے کو سرحد پار آبی معاہدوں کی تاریخ میں کامیاب ترین انتظامات میں شمار کرنے کی وجہ بہت سادہ ہے۔ دریا کے ماہر اور ماحولیاتی معاشیات کے ماہر نیلانجن گھوش نے گفتگو میں کہا، ’’یہ ایک بہترین مثال ہے کہ دو ملکوں کے درمیان دو طرفہ معاہدے کا مسودہ کیسے تیار کیا جائے اور اسے کیسے نافذ کیا جائے۔‘‘ پانی کی تقسیم کا یہ فارمولہ یکم جنوری سے 31 مئی تک 5 ماہ کے خشک موسم میں نافذ ہوتا ہے۔ اس عرصے میں فرخا بیراج پر حقیقی وقت کے اعداد و شمار کی بنیاد پر دریا کے بہاؤ کی پیمائش کی جاتی ہے اور ہر 10 دن کے وقفے سے پانی تقسیم کیا جاتا ہے۔
اگر پانی کا بہاؤ 75 ہزار کیوسک سے زیادہ ہو تو ہندوستان کو 40 ہزار کیوسک پانی ملتا ہے اور باقی بنگلہ دیش کو جاتا ہے۔ اگر بہاؤ 70 ہزار سے 75 ہزار کیوسک کے درمیان ہو تو بنگلہ دیش کو 35 ہزار کیوسک دیا جاتا ہے اور باقی پانی ہندوستان کو ملتا ہے۔ جبکہ 70 ہزار کیوسک سے کم بہاؤ کی صورت میں دستیاب پانی دونوں ملکوں کے درمیان نصف نصف تقسیم کیا جاتا ہے۔
اگر کسی دس روزہ دورانیے میں دستیاب پانی 50 ہزار کیوسک سے بھی کم ہو جائے تو دونوں حکومتیں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے فوری طور پر دو طرفہ ہنگامی مذاکرات شروع کرتی ہیں۔ سب سے زیادہ خشک عرصے، یعنی 11 مارچ سے 10 مئی کے دوران، پانی کی طلب عروج پر ہونے کی صورت میں دونوں ملکوں کو باری باری دس روزہ ادوار میں کم از کم 35 ہزار کیوسک پانی کی دستیابی یقینی بنانے کا انتظام بھی معاہدے میں شامل ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی کا قیام بھی ضروری ہے، جو ہندوستان میں فرخا اور بنگلہ دیش میں ہارڈنگ برج کے مقام پر روزانہ پانی کی سطح کی نگرانی کرتی ہے۔
نیلانجن گھوش کے مطابق خشک موسم میں بنگلہ دیش کو اس کے پہلے پیمائشی مرکز، یعنی ہارڈنگ برج، پر فرخا سے چھوڑے گئے پانی کے مقابلے میں کم از کم 20 سے 25 فیصد زیادہ پانی مل رہا تھا۔ ماہرین نے اس اضافے کی وضاحت کے لیے متعدد سائنسی وجوہات پیش کی ہیں۔ ان میں زیر زمین پانی کا دوبارہ بھرنا، بالائی بہاؤ میں پانی کو منظم کرنے والے نظام اور فرخا کے زیریں حصے اور ہارڈنگ برج کے بالائی علاقے کے درمیان دریائے مہانندا سے ملنے والا اضافی پانی شامل ہے۔
دریا کے زیریں بہاؤ والا ملک ہونے کے ناتے بنگلہ دیش آئندہ معاہدے میں ایسی ترامیم چاہتا ہے جو اس کے مفادات کا بہتر تحفظ کر سکیں۔ 8 ستمبر کو جب ہندوستان کے نئے ہائی کمشنر دنیش ترویدی نے بنگلہ دیش کے صدر مرزا فخر الاسلام سے ملاقات کی تو صدر نے دونوں ملکوں کے درمیان آبی تنازعات حل کرنے اور بالخصوص گنگا اور تیستا دریاؤں سے بنگلہ دیش کو اس کا جائز حصہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے جواب میں ترویدی نے کہا کہ ہندوستان اس سمت میں ’مثبت اقدامات‘ کر رہا ہے۔
گنگا آبی معاہدہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق واحد جامع معاہدہ ہے، حالاں کہ دونوں ملک 54 دریاؤں کے پانی میں شریک ہیں۔ اس معاہدے میں خودکار تجدید کی کوئی شق موجود نہیں اور اس کی مدت ختم ہونے میں اب بمشکل 3 ماہ باقی ہیں۔ اس کے باوجود دونوں حکومتوں نے اب تک نئے معاہدے کے حوالے سے باضابطہ مذاکرات شروع کرنے کا کوئی عوامی اعلان نہیں کیا ہے۔
معاہدے کو یوں ہی ختم ہو جانے دینے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہندوستان اپنی مرضی سے جتنا چاہے پانی روک سکتا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت زیریں بہاؤ والے ملک کی حیثیت سے بنگلہ دیش کے حقوق برقرار رہیں گے۔ ان میں مشترکہ آبی گزرگاہوں کا منصفانہ اور معقول استعمال اور سرحد پار کسی بڑے نقصان سے بچنے کی قانونی ذمہ داری بھی شامل ہے۔ لیکن یہ بین الاقوامی اصول ایسی ٹھوس دو طرفہ دستاویز کا متبادل نہیں ہو سکتے جو پانی کی درست مقدار طے کرتی ہو، مشترکہ نگرانی کا نظام فراہم کرتی ہو اور تنازعات کے حل کا واضح طریقۂ کار متعین کرتی ہو۔
معاہدے کے تحت پانی کی تقسیم کا جو طے شدہ ریاضیاتی فارمولہ موجود ہے، وہ بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ خشک موسم کے ہر دس روزہ دورانیے میں فرخا پر دستیاب پانی کی تقسیم کے لیے کوئی ایسا قانونی طور پر پابند دو طرفہ فارمولا باقی نہیں رہے گا۔ اگر دونوں ملک مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں تو دو امکانات موجود ہیں۔ یا تو موجودہ نظام کی تجدید کی جائے گی، یا پھر دونوں ملک مضبوط ضمانتوں اور جدید دریا مینجمنٹ کی شقوں کو شامل کرتے ہوئے ایک ترمیم شدہ معاہدے پر اتفاق کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مکہ معاہدہ کی طرف کیوں جھک رہا بنگلہ دیش؟... فیصل محمود
دسمبر 2026 تک نیا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں اگرچہ بنگلہ دیش کو فوری طور پر کوئی بڑا فرق محسوس نہ ہو، لیکن آبی وسائل کے ماہر عین النشاۃ نے بتایا کہ ڈھاکہ اب صرف 1996 میں جو کچھ ملا تھا اسے محفوظ رکھنے تک محدود نہیں ہے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش کے سرکاری مذاکراتی مؤقف کا رخ اب پانی میں زیادہ حصہ، مضبوط ضمانتی نظام اور دریا کے بدلتے آبی چکر سے نمٹنے کے لیے بہتر معاہدے کی طرف ہے۔
اصل چیلنج یہ ہے کہ ہندوستان کا مذاکراتی مؤقف اس کے برعکس سمت میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ نئی دہلی کو سب سے پہلے بہار اور دیگر ریاستوں کی داخلی سیاسی کشمکش، مطالبات اور دباؤ کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ بنگلہ دیش مسلسل اور کھلے انداز میں یہ بتا رہا ہے کہ وہ آئندہ معاہدے سے کیا چاہتا ہے۔ ہندوستان نے یہ ضرور کہا ہے کہ مذاکرات کہاں ہونے چاہئیں، یعنی مشترکہ دریائی کمیشن کے پلیٹ فارم پر، لیکن نئی دہلی اب تک یہ واضح نہیں کر سکا کہ وہ مذاکرات کی میز پر بنگلہ دیش کو کیا پیش کش کرنے کے لیے تیار ہے۔
