کیا مغربی بنگال میں بی جے پی کا ابتدائی جوش و خروش دم توڑنے لگا؟...سوربھ سین

بنگال میں اقتدار سنبھالنے کے چند ہی ماہ بعد بی جے پی کو باروئی پور اجتماعی عصمت دری و قتل کیس، سیاسی تنازعات، نظم و نسق پر سوالات اور بنگالی شناخت سے جڑے اختلافات کے باعث عوامی ناراضی کا سامنا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

سوربھ سین

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مغربی بنگال میں اقتدار سنبھالنے کے صرف دو ماہ بعد ہی بی جے پی نے عوام کی ایک بڑی تعداد کو مایوس کر دیا ہے۔ اگرچہ پارٹی کے پُرجوش حامی آج بھی اس کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن وہ ووٹر ضرور مایوسی کا شکار دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو اقتدار سے ہٹانے کی امید میں بی جے پی کا ساتھ دیا تھا۔

باروئی پور کے مضافاتی علاقے میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور قتل کے لرزہ خیز واقعے نے اگست 2024 کے آر جی کر میڈیکل کالج سانحے کی یاد تازہ کر دی۔ اس کیس میں بی جے پی کے بعض مقامی رہنماؤں کے مبینہ کردار اور پولیس کی ابتدائی سستی پر بھی سوال اٹھے۔ تاہم اس بار مرکزی ملزم پربھاس منڈل پولیس انکاؤنٹر میں مارا گیا، جو اس واقعے اور آر جی کر کیس کے درمیان ایک نمایاں فرق ہے۔

دوسرا بڑا فرق یہ رہا کہ آر جی کر سانحے کے برعکس باروئی پور میں بڑے پیمانے پر رات کے احتجاج، شمع بردار مارچ یا عوامی تحریک دیکھنے میں نہیں آئی۔ ترنمول کانگریس کے حامی سوشل میڈیا حلقوں کا کہنا ہے کہ آر جی کر کے وقت ہونے والی احتجاجی مہم دراصل بی جے پی اور سی پی ایم کی سیاسی حکمت عملی تھی، جس کا مقصد ممتا بنرجی کو نشانہ بنانا تھا۔ وہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ آر جی کر کی متاثرہ لڑکی کی والدہ بعد میں بی جے پی کے ٹکٹ پر اسمبلی انتخابات جیت چکی ہیں۔

گھروں میں رنگ و روغن کا کام کرنے والے آلوک بسواس کہتے ہیں کہ وہ پہلے ترنمول کانگریس کو ووٹ دیتے تھے، مگر اس مرتبہ انہوں نے بی جے پی کا انتخاب کیا۔ اب انہیں احساس ہو رہا ہے کہ شاید یہ فیصلہ درست نہیں تھا۔ ان کے مطابق بدعنوان سیاست دان اب بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں اور باروئی پور جیسے واقعات دیکھ کر انہیں تشویش ہوتی ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو اگلے پانچ برس ریاست کیسے چلے گی۔


باروئی پور واقعے کے فوراً بعد بی جے پی کے ریاستی صدر سمیک بھٹاچاریہ نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کے بارے میں ایک متنازع بیان دے کر نئی بحث چھیڑ دی۔ شیاما پرساد مکھرجی کی یوم پیدائش پر منعقدہ تقریب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ فارورڈ بلاک کے "غنڈوں" نے ماضی میں شیاما پرساد پر حملہ کیا تھا۔ ناقدین نے سوال اٹھایا کہ اگر فارورڈ بلاک کو غنڈوں کی جماعت کہا جائے تو اس کے بانی نیتا جی سبھاش چندر بوس کے بارے میں کیا رائے قائم ہوگی؟

بھٹاچاریہ نے 1940 کے کلکتہ میونسپل کارپوریشن انتخابات سے پہلے شیاما پرساد اور نیتا جی کے درمیان اختلافات کا بھی حوالہ دیا، لیکن مزید تفصیل سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس پر بات کرنے سے غیر ضروری تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔

بی جے پی ایک عرصے سے یہ بیانیہ پیش کر رہی ہے کہ شیاما پرساد مکھرجی نے 1947 میں بنگال کی تقسیم کی حمایت کر کے مغربی بنگال کو ہندوستان کا حصہ بنائے رکھنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ لیکن بیشتر بنگالی تقسیم کو ایک عظیم المیہ سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک شیاما پرساد اس عمل کے اہم ذمہ داروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی لیے بی جے پی کی یہ تاریخی تعبیر عوام میں زیادہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکی۔

اسی تناظر میں نیتا جی پر تنقید بھی عوام کو ناگوار گزری، جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے اسکولوں میں "شیاما پرساد پکھواڑا" منانے اور اس کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کئی حلقوں میں پسند نہیں کی گئی۔


ادھر سیاسی کشیدگی نے ایک اور عجیب رخ اختیار کیا ہے۔ مختلف سیاسی رہنماؤں پر سڑکوں میں انڈے پھینکنے کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی اور مہوا موئترا کو بھی اسی طرح نشانہ بنایا گیا جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ بعد ازاں پوسٹا بازار مرچنٹس ایسوسی ایشن کے 73 سالہ جنرل سکریٹری وشوناتھ اگروال پر بھی انڈے پھینکے گئے، حالانکہ اس انجمن میں زیادہ تر مارواڑی تاجر شامل ہیں جنہیں عموماً بی جے پی کا حامی سمجھا جاتا ہے۔

کولکاتا سے تقریباً 120 کلومیٹر دور بندرگاہی شہر ہلدیا کے سفر کے دوران آلوک بسواس کو ریلوے اسٹیشن پر پانی کی بوتل تک خریدنے کو نہ ملی کیونکہ تمام ہاکروں کو ہٹا دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اصل تشویش یہ ہے کہ ان لوگوں کا روزگار اب کیسے چلے گا۔

ایک سینئر صحافی، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی، کہتے ہیں کہ بی جے پی جس سماجی اور سیاسی بیانیے کو بنگال پر مسلط کرنا چاہتی ہے، وہ ریاست کی تاریخی اور ثقافتی حساسیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تاہم ان کے مطابق ترنمول کانگریس بھی اس کا مؤثر جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ اس کے پاس نہ وہ اخلاقی برتری باقی رہی ہے اور نہ ہی مضبوط نظریاتی بنیاد۔

ترنمول کانگریس کے اندرونی ذرائع کے مطابق ممتا بنرجی نے باروئی پور نہ جانے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ پارٹی ان کے ساتھ بڑی تعداد میں کارکن جمع کرنے میں ناکام رہی۔ اس کے بجائے انہوں نے اپنے حلقے میں شمع بردار مارچ کیا۔ مذکورہ صحافی کے مطابق یہ وہ ممتا بنرجی نہیں رہیں جن کے سڑک پر نکلتے ہی ہزاروں افراد خود بخود ان کے ساتھ شامل ہو جاتے تھے۔

یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر ترنمول کانگریس اقتدار سے باہر ہو گئی تو کیا ریاستی کانگریس بی جے پی کا مؤثر مقابلہ کر سکے گی؟ سی پی ایم نے اگرچہ کسی حد تک اپنی سیاسی موجودگی دوبارہ محسوس کرائی ہے، اور اس کی رہنما میناکشی مکھرجی بھی انڈے پھینکے جانے کے واقعات کا نشانہ بنیں، لیکن اسے فوری طور پر اس بات کی علامت نہیں سمجھا جا سکتا کہ بی جے پی اب سی پی ایم کو اپنا اصل سیاسی حریف ماننے لگی ہے۔


سی پی ایم اب بھی 2019 کی اپنی اس حکمت عملی کے اثرات سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکی جب ترنمول کانگریس کو اقتدار سے ہٹانے کی امید میں اس کے بعض حلقوں نے بالواسطہ طور پر بی جے پی کے لیے سیاسی فضا ہموار ہونے دی۔ اسی دور میں بائیں بازو کے کارکنوں کو طنزیہ انداز میں ’رام ریڈز‘ کہا جانے لگا تھا اور ’آگے رام، پھر بام‘ کا نعرہ مقبول ہوا، جس کا مطلب یہ تھا کہ پہلے ترنمول اقتدار سے ہٹے گی، پھر بایاں محاذ اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین واپس حاصل کر لے گا۔

آج سی پی ایم کی قیادت کو بتدریج احساس ہو رہا ہے کہ دائیں بازو کے عروج میں مدد دینے سے بائیں بازو کی واپسی کی راہ ہموار نہیں ہوتی۔ اگر یہ ادراک مضبوط ہوتا ہے تو شاید یہی مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو۔

(مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا میں مقیم آزاد صحافی اور تجزیہ نگار ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔