فلسطینیوں کو صومالی لینڈ منتقل کرنے کی سازش!... اشوک سوین
اسرائیل نے صومالی لینڈ کو یوں ہی ایک علیحدہ ملک کے طور پر منظوری نہیں دی ہے، اس کے پیچھے ایک سازش ہے۔ یہ کوئی خارجہ پالیسی نہیں، بلکہ سیاسی زہر ہے۔

اسرائیل 26 دسمبر 2025 کو صومالی لینڈ کو بطور ملک باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ابراہم معاہدوں کے مطابق یہ فیصلہ کیا اور وہ اسے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ آبنائے باب المندب پر مضبوط پوزیشن رکھنے والے یمن کے قریب واقع صومالی لینڈ نامی ملک کو تسلیم کرنا یہ دکھانے کا ایک اسٹریٹجک طریقہ ہے کہ فلسطین حامی کیمپ اس قدر منتشر ہے کہ وہ اسرائیل پر کوئی عملی دباؤ ڈالنے کی حالت میں نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس قدم نے ان نہایت خطرناک قیاس آرائیوں کو بھی زندہ کر دیا ہے کہ صومالی لینڈ پر غزہ سے جبراً بے دخل کیے گئے فلسطینیوں کو قبول کرنے کا دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ گرچہ وہ صورت حال کبھی نہ بھی آئے، لیکن محض یہ خیال ہی شدید تشویش کا باعث بن جاتا ہے۔
صومالی لینڈ برطانوی سرپرستی کا علاقہ تھا جسے 1960 میں کچھ عرصہ کے لیے آزادی ملی اور اس نے رضاکارانہ طور پر اطالوی کنٹرول والے صومالیہ میں شمولیت اختیار کر لی، اور اس طرح صومالی ریپبلک وجود میں آئی۔ صومالی ملک کے ٹوٹنے اور سیاد برّے حکومت کے ظالمانہ جبر کے بعد صومالی لینڈ نے 1991 میں آزادی کا اعلان کیا۔ تب سے اس کی اپنی حکومت، کرنسی اور فوج ہے۔ یعنی وہ ایک ملک کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس کے برعکس صومالیہ کو بین الاقوامی سطح پر ایک خود مختار ملک کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ نیتن یاہو سے پہلے کسی بھی ملک نے صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا تھا اور بین الاقوامی قانون اور افریقی یونین کے قواعد کے تحت اسے صومالیہ کا علاقہ مانا جاتا ہے۔
صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا محض خارجہ پالیسی کے تحت اٹھایا گیا قدم نہیں ہے۔ غزہ میں جنگ سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کو اسرائیل کی جانب سے بے معنی ثابت کیے جانے کے درمیان یہ قدم ظاہر کرتا ہے کہ سرحدوں، خود مختاری اور اپنے بیانیے کے حوالے سے اسرائیل کس طرح کی چالیں چل سکتا ہے۔ لیکن یہ حکمت عملی الٹی بھی پڑ سکتی ہے، اور اس کی وجہ یہ نہیں ہوگی کہ صومالی لینڈ کے پاس تسلیم کیے جانے کی مضبوط بنیاد نہیں ہے (اس نے دہائیوں سے کام کرنے والے ادارے قائم کر کے بین الاقوامی جواز حاصل کرنے کی کوشش کی ہے) بلکہ اس لیے کہ اسرائیل کے ارادوں کو غزہ بے دخلی اور توسیع کے زاویے سے دیکھا جائے گا۔ اس تناظر میں اس کی علامتی اہمیت دھماکہ خیز ہے اور سلامتی کی دلیل بہت کمزور ہے۔
اسرائیل کئی برسوں سے تسلیم کیے جانے کے معاملے میں ایک سخت پالیسی کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اس کا موقف رہا ہے کہ یکطرفہ علیحدگی کو انعام نہ دیا جائے، الگ ہوئے علاقوں کو جائز حیثیت نہ دی جائے، اور مذاکرات کے بعد طے پانے والے معاہدوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اسرائیل یہ موقف اس لیے رکھتا ہے تاکہ اس کی رضامندی کے بغیر فلسطین کو تسلیم نہ کیا جا سکے۔ اسی بنیاد پر صومالی لینڈ کو یکطرفہ طور پر تسلیم کر کے اسرائیل اپنے ہی بیانیے کی جڑ کاٹ رہا ہے۔ اس سے مخالفین کو ایک آسان اور مضبوط دلیل مل جاتی ہے کہ اسرائیل خود ارادیت کی حمایت تب کرتا ہے جب یہ اس کی حکمتِ عملی کے لیے فائدہ مند ہو، اور جب یہ فلسطینیوں کو بااختیار بنائے تو اسے مسترد کر دیتا ہے۔ ممکن ہے کہ اسرائیل کو لگتا ہو کہ اس نے فلسطینی حقوق کی حمایت کرنے والے ممالک کی منافقت کو بے نقاب کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے اپنے ہی قانونی اور سفارتی موقف کی منافقت کو عیاں کر دیا ہے۔
صومالیہ اس فیصلے کی مخالفت کر رہا ہے، کیونکہ وہ صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کو اپنی علاقائی سالمیت پر حملہ سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ مصر، ترکی، جبوتی، افریقی یونین، عرب لیگ اور خلیجی تعاون کونسل بھی اس کے خلاف متحرک ہو گئے ہیں۔ عرب لیگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے صومالی لینڈ کو اسرائیل کے ذریعہ ’غیر قانونی‘ طریقے سے تسلیم کیے جانے کے خلاف سخت موقف اپنانے کی درخواست کی ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ اسرائیل پہلے ہی افریقہ میں اپنی سفارتی موجودگی برقرار رکھنے اور اس کے پھیلاؤ کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ صومالی لینڈ کے معاملے میں پہلا قدم اٹھانے سے جو بھی معمولی فائدہ ہو، یہ اسرائیل کے لیے ایک مستقل بوجھ بن سکتا ہے کیونکہ صومالی لینڈ کے بارے میں افریقی اور عرب ممالک مل کر موقف طے کرتے ہیں، قواعد نافذ کرتے ہیں اور خطرناک مثال سمجھے جانے والے اقدامات پر سختی سے رد عمل دیتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مخالفت متوقع تھی، لیکن اسے سنبھالنا آسان نہیں۔ ہارن آف افریقہ میں سفارت کاری محض دکھاوا نہیں، بلکہ سلامتی کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ مصر اور ترکی محض بیان بازی نہیں کر رہے۔ بحیرۂ احمر کی سلامتی، صومالی ملک کے وجود، دنیا کے توانائی راستوں اور علاقائی اثر و رسوخ سے متعلق ان کے ٹھوس مفادات ہیں۔ خود صومالیہ بھی ہر فورم کا استعمال کرے گا تاکہ دوسرے ممالک کو اسرائیل کے راستے پر چلنے سے روکا جا سکے۔ اسرائیل جتنا زیادہ اس تسلیم کو فتح کے طور پر پیش کرے گا، اتنا ہی زیادہ وہ اپنے مخالفین کو اس کے خلاف اکسانے کا سبب بنے گا۔
اس قدم کے پیچھے سلامتی کی دلیل اور بھی کمزور ہے۔ ہاں، صومالی لینڈ یمن کے سامنے واقع ہے، جو نگرانی اور لاجسٹکس کے لحاظ سے خاصہ قریب ہے۔ لیکن غیر مستحکم ماحول میں نئی غیر ملکی مداخلت نئے اہداف پیدا کرتی ہے۔ اسرائیل یہ سیکھ چکا ہے کہ حوثیوں پر حملہ کرنے سے اس کا خطرہ ختم نہیں ہوتا۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ اسرائیل صومالی علاقے میں ایک اڈہ بنانا چاہتا ہے، تو اس سے نہ صرف یمن کی جنگ بھڑکے گی بلکہ اس کا مزید انٹرنیشنلائزیشن بھی ہوگا۔ اس طرح ایک بحری ’چوک پوائنٹ‘ پراکسی حملوں، تخریب کاری اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سبب بن جائے گا۔
ہارن آف افریقہ میں پہلے ہی فوجی مقابلہ آرائی جاری ہے۔ جبوتی میں کئی ممالک کی افواج موجود ہیں۔ متحدہ عرب امارات پورے علاقے میں بندرگاہیں چلاتا ہے۔ ایتھوپیا نے سمندر تک رسائی کے لیے متنازعہ معاہدے کر رکھے ہیں۔ ایسے ماحول میں اسرائیلی موجودگی جوابی اتحاد کو فروغ دے گی۔ اسرائیل یا اس کے اتحادیوں کو نقصان پہنچانے کی خواہش رکھنے والوں کو کئی کمزور نکات مل جائیں گے، یعنی بندرگاہیں، شپنگ لائنس اور اہم انفراسٹرکچر۔ ایسے ماحول میں شامل ہونے والا ہر نیا فریق میدان جنگ کو وسیع کرتا ہے اور غلط اندازے کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔
سب سے بڑا خطرہ پرتشدد غیر ریاستی تنظیموں سے ہے۔ الشباب نے پہلے ہی اس ’تسلیم‘ کو غیر ملکی مداخلت قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ صومالی لینڈ کے کسی بھی اسرائیلی استعمال کی مخالفت کرے گا۔ یہ اعلان خود بخود ایک مضبوط بیانیہ بن جاتا ہے، یعنی صومالی زمین پر ایک صہیونی منصوبہ، مسلم یکجہتی کے ساتھ دھوکہ اور جہاد کے لیے ایک نیا محاذ۔ اسرائیل شاید اسے نظر انداز کر دے، لیکن سلامتی کے لحاظ سے اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ انتہا پسند تحریکیں ایسے ہی علامتی اقدامات پر پنپتی ہیں جو مقامی تکالیف کو عالمی بیانیے سے جوڑتی ہیں۔ اسرائیل نے ایسا ہی ایک نشان ایسے وقت میں تھما دیا ہے جب غزہ کے حوالے سے غصے کو بھڑکانا خاصا آسان ہے۔
صومالی لینڈ کے اندر بھی یہ قدم سیاسی زہر بن سکتا ہے۔ صومالی لینڈ کی قیادت رضامندی اور سرمایہ کاری چاہتی ہے، لیکن وہاں کے معاشرے میں فلسطینیوں کے لیے گہری ہمدردی موجود ہے۔ اگر اس تعلق کو غزہ میں فلسطینیوں کی زمین چھیننے میں ملی بھگت کے بدلے سفارتی تسلیم کے طور پر دیکھا گیا، تو عوامی اعتماد کم ہو جائے گا۔ یہ کوئی نظریاتی اندیشہ نہیں ہے۔ صومالی لینڈ کو اندرونی تنازعات، متنازعہ علاقوں اور حالیہ تشدد کے واقعات کا سامنا ہے، جس کے باعث حکمرانی پر اعتماد پہلے ہی کمزور ہو چکا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ شراکت داری اندرونی مخالفت کو بھڑکا سکتی ہے۔
اب سب سے بڑے خطرے، یعنی جبری بے دخلی کی بات۔ اسرائیل نے غزہ سے نکال کر فلسطینیوں کو کہیں اور بسانے کی بات بارہا کی ہے۔ اس ماحول میں کوئی بھی اشارہ کہ صومالی لینڈ بے دخل غزہ کے باشندوں کے لیے ایک ٹھکانہ ہو سکتا ہے، اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کا فیصلہ اسی سلسلے میں اٹھایا گیا قدم ثابت کرے گا۔ چاہے صومالی لینڈ اسے مسترد کر دے اور واشنگٹن خود کو اس سے الگ کر لے، شبہ برقرار رہے گا۔
اگر اسرائیل کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ فلسطینی یکجہتی کھوکھلی ہے، تو اس کا الٹا اثر ہو سکتا ہے۔ صومالی لینڈ کے قدم نے پہلے ہی مختلف فریقوں کو اس سادہ اصول پر متفق ہونے پر مجبور کر دیا ہے کہ کسی بھی موقع پرستانہ تسلیم کی بنیاد پر سرحدیں دوبارہ نہیں کھینچی جا سکتیں اور اسرائیل کے سیاسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے فلسطینیوں کو بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات باہمی دشمنیوں اور علاقائی تقسیم سے بالاتر ہے۔ یہ ان ممالک کو بھی ایک ساتھ کھڑا ہونے کا موقع دیتی ہے جو تقریباً ہر دوسری بات پر اختلاف رکھتے ہیں، مگر ایک مشترکہ ’سرخ لکیر‘ پر متفق ہیں۔
نیتن یاہو حکومت نے نادانستہ طور پر ایسے وقت میں اپنے مخالفین کے لیے ایک نیا مشترکہ سفارتی مرکز بنا دیا ہے جب وہ اکٹھا ہونے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے غزہ غائب نہیں ہو جائے گا۔ اس سے اسرائیل کے لیے مسئلہ مزید بڑھ جائے گا۔ یہ مسئلہ بحیرۂ احمر میں اسرائیل کے مزید قریب آ جائے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔