2025 صحافیوں کے لیے سب سے خونیں سال...سہیل انجم
2025 صحافیوں کےلیے تاریخ کا سب سے خونیں سال ثابت ہوا، جس میں دنیا بھر میں 128 صحافی مارے گئے۔ مغربی ایشیا خصوصاً فلسطین سب سے زیادہ خطرناک رہا۔ صحافیوں کو ہدف بنا کر قتل اور گرفتاریاں بڑھتی جا رہی ہیں

2025 عالمی سطح پر صحافیوں کے لیے تاریخ کے بدترین سال کی حیثیت سے گزرا ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ سال صحافیوں کے لیے سب سے خونیں سال ثابت ہوا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ اس سال کے اختتام تک آتے آتے صحافیوں کی متعدد عالمی تنظیموں نے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں وہ تشویش ناک ہیں۔ ان کے مطابق صرف اسی ایک سال میں دنیا بھر میں 128صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ مزید افسوسناک اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مغربی ایشیا سب سے خطرناک ثابت ہوا ہے اور اس میں بھی فلسطینی صحافیوں نے سب سے زیادہ اپنی جانیں گنوائی ہیں۔ صرف اس ایک سال میں 56 فلسطینی اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔صحافیوں کی ایک عالمی تنظیم ”انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس“ (آئی ایف جے) کے مطابق صرف مغربی ایشیا میں 74 صحافیوں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ تعداد مجموعی ہلاک شدہ صحافیوں کا 58 فیصد ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 2024 میں 126 صحافی مارے گئے تھے۔
صحافیوں کی ایک دوسری عالمی تنظیم ”کمیٹی ٹو پروٹکٹ جرنلسٹس“ (سی پی جے) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد سے اب تک اسرائیل 250 صحافیوں کو ہلاک کر چکا ہے۔ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ غزہ کی صورتحال کی رپورٹنگ کر رہے تھے۔ جس کے نتیجے میں اسرائیل پوری دنیا میں بدنام ہو رہا تھا۔ لہٰذا اس نے اس بدنامی سے بچنے کے لیے صحافیوں کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔ اس کی افواج فیلڈ میں اپنے فرائض میں مصروف صحافیوں کو نشانہ بناتیں اور جو بھی سامنے آتا اس کو ہلاک کر دیتیں۔ اس نے سب سے زیادہ عالمی میڈیا ادارے الجزیرہ کے صحافیوں کو ہلاک کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے صحافیوں کی رپورٹنگ اسرائیل کو بے نقاب کر رہی تھی۔ بنجامن نیتن یاہو کیسے برداشت کرتے کہ صحافیوں کے ہاتھوں ان کی ذلت و رسوائی کا سامان ہو۔ حالانکہ جنگی قوانین میں صحافیوں کو نشانہ نہ بنانا شامل ہے۔ لیکن چونکہ اسرائیل نے تمام عالمی قوانین کو اپنے پیروں تلے روندا۔ لہٰذا اس کے لیے صحافیوں کے تحفظ کے قانون کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
آئی ایف جے نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مغربی ایشیا کے بعد سب سے زیادہ افریقہ میں 18 صحافی ہلاک ہوئے۔ ایشیا بحر الکاہل خطے میں 15 اور یوروپ میں دس صحافی مارے گئے۔ خلیجی ملکوں کی بات کریں تو فلسطین کے بعد یمن میں 13، یوکرین میں آٹھ اور سوڈان میں چھ صحافیوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں اپنی جانیں گنوائیں۔ پیرس میں قائم صحافیوں کی تنظیم نے اسرائیل کی طرف سے الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کے قتل کو گزشتہ سال فلسطین میں غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کی کوریج کرنے والے ہلاک شدہ 56 صحافیوں میں قتل کی سب سے بڑی علامت قرار دیا ہے۔ انھیں دس اگست کو قتل کیا گیا۔ 28 سالہ الشریف کئی ساتھیوں کے ساتھ اس وقت مارے گئے جب اسرائیلی فورسز نے غزہ شہر کے الشفا اسپتال کے باہر میڈیا کے خیمے پر حملہ کیا۔
اس حملے میں الجزیرہ کے نامہ نگار محمد قریقہ، الجزیرہ کے کیمرہ آپریٹرز ابراہیم ظہیر اور محمد نوفل، فری لانس کیمرہ آپریٹر مومن علیوا اور فری لانس صحافی محمد الخالدی بھی مارے گئے۔ ایف جے نے ستمبر کے اوائل میں ایک یمنی اخبار کے دفتر پر اسرائیلی حملے کا حوالہ بھی دیا اور بتایا کہ وہ حملہ میڈیا دفاتر پر ہونے والے بدترین حملوں میں سے ایک تھا۔ 26 ستمبر مذکورہ اخبار کے 13 صحافی اور میڈیا ورکرز 20 سے زیادہ دیگر افراد کے ساتھ مارے گئے۔ رپورٹ میں مزید نو اموات کی بات کہی گئی ہے۔ جبکہ شام اور ایران میں دو دو صحافیوں کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔
خیال رہے کہ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ پہلے جو صحافی جنگ زدہ ملکوں میں ہلاک ہوتے تھے وہ حادثاتی طور پر ہلاک ہوتے تھے لیکن ان برسوں میں صحافیوں کو ہدف بنا بنا کر مارا گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان برسوں میں عالمی سطح پر دائیں بازوں کے نظریات کے حامل گروپوں کو طاقت حاصل ہوئی ہے۔ وہ کئی ملکوں میں برسراقتدار آگئے ہیں۔ ایسے گروپوں میں انتہاپسندی پائی جاتی ہے۔ وہ اس بات کو گوارہ نہیں کر سکتے کہ ان کے کرتوت دنیا کے سامنے آئیں۔ وہ اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے صحافیوں کو ہلاک کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ کیونکہ صحافی خواہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ ہو یومیہ پیش آنے والے واقعات کی رپورٹنگ کرتا ہے اور یہ رپورٹنگ دائیں بازو کی مقصد برآوری میں رکاوٹ بنتی ہے۔
آج صحافیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری بھی ہوتی ہے۔ تاکہ آزاد آوازوں کو کچل دیا جائے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 533 صحافی جیلوں میں بند ہیں۔ حالانکہ بعض ذرائع اس کی تعداد کہیں زیادہ بتاتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک میں دور دراز کے علاقوں میں ہلاک کیے جانے یا گرفتار کیے جانے والے صحافیوں کے بارے میں عالمی تنظیموں کو یا تو خبر نہیں ہو پاتی یا بہت تاخیر سے ہوتی ہے۔ تاہم گرفتار شدہ صحافیوں کی جو 533 کی تعداد بتائی گئی ہے اس میں 277 صحافی ایشیا بحر الکاہل خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن میں چین میں سب سے زیادہ صحافیوں کو جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔ چین اور ہانگ کانگ میں 143 صحافی جیلوں میں بند ہیں۔ سال 2025 میں ہندوستان میں چار صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ یہاں صحافیوں کے متعدد اداروں پر چھاپے ڈالے گئے ہیں تاکہ ان کی آزاد آوازوں کو دبا دیا جائے۔ اس رجحان کے خلاف صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ حالانکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ صحافت پر کوئی پابندی لگانا نہیں چاہتی اور صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کی پوری آزادی ہے۔
اس وقت عالمی سطح پر جو حالات پیدا ہو رہے ہیں ان میں آزاد میڈیا کے لیے گنجائش کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ متعدد ملکوں میں انہی میڈیا اداروں کو زندہ رہنے کے مواقع دیے جا رہے ہیں جو حکومت کی خوشامد کو صحافت کا طرہ امتیاز سمجھتے ہوں۔ جو ادارے حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں ان پر مختلف بہانوں سے قدغن لگائی جاتی ہے۔ خواہ وہ اخبارات ہوں یا نیوز چینل یا نیوز ویب سائٹ۔ آزاد میڈیا کے تنگ ہوتے دائرے کے تناظر میں یہ بات اکثر و بیشتر کہی جاتی ہے کہ امریکہ کا میڈیا جتنا آزاد ہے اتنا کسی اور ملک کا نہیں ہے۔ لیکن صحافیوں کے لیے تنگ ہوتی زمین کا اندازہ آٹھ دہائیوں سے 45 زبانوں میں خدمات انجام دینے والے عالمی ادارے ”وائس آف امریکہ“ کو جبراً بند کر دیے جانے سے لگایا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مارچ میں ایک انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اس سرکاری میڈیا کی فنڈنگ روک دی جس کے نتیجے میں ادارہ بند ہو گیا۔ مستقل ملازموں کو جبری تعطیل پر بھیج دیا گیا اور کانٹریکٹ ملازموں کو برخاست نامے تھما دیے گئے۔ اس فیصلے پر پوری دنیا میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا اور اسے آزاد میڈیا کے لیے بہت بڑا خطرہ بتایا گیا۔ وائس آف امریکہ امریکی حکومت کا میڈیا ہونے کے باوجود آزاد پالیسی پر گامزن رہا ہے۔ اس نے فریق بنے بغیر انتہائی غیر جانبداری کے ساتھ مسائل کو دیکھا اور اپنے قارئین و ناظرین کو حقیقی صورت حال سے واقف کرانے کا فریضہ انجام دیا۔ اسرائیل حماس جنگ کے بارے میں امریکہ کی پالیسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود وائس آف امریکہ نے حماس کو دہشت گرد تنظیم کبھی نہیں کہا۔ اس کی اس آزاد پالیسی کی زد بعض اوقات امریکی حکومت کے فیصلوں پر بھی پڑتی تھی۔ لہٰذا ٹرمپ نے وی او اے کو ٹرمپ مخالف میڈیا قرار دے کر یکلخت بند کر دیا۔ حالانکہ ان کے فیصلے کو امریکی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے اور عدالت نے اس فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ لیکن حکومت نے عدالتی فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔
بہرحال اس وقت دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ پہلے اتنے صحافیوں کی ہلاکت نہیں ہوتی تھی۔ لیکن اب یہ تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ جنگ زدہ ملکوں میں صحافیوں کو نشانہ بنا کر ہلاک کرنے کے علاوہ انھیں حکومتی جبر کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صورت حال آزاد آوازوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گی اور عوام صرف وہی جان سکیں گے جو حکومت ان کو بتانا چاہے گی۔ اس کے برعکس موقف سے دنیا لا علم ہی رہے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔