سب کچھ بک جاتا ہے زیر آسماں نخاس میں!

امام باڑہ (لکھنو) - Getty Images
امام باڑہ (لکھنو) - Getty Images
user

حسین افسر

تمام تر کمیوں اور زوال کے باوجود لکھؤایک عجیب و غریب شہر کا نام ہے۔ ایک بار لکھنؤ کی سیر کرنے کے بعد ہر سیاح کی دوسری بار سفر کی خواہش اس کے دل میں موجیں مارتی رہتی ہے۔ شہر کی تاریخی عمارتیں، مقامی لوگوں کا رہن سہن ، ان میں باہم محبت کی جھلک اور شہر کی مہمان نوازی نے اس شہر کو دنیا کے ان گنے چنے شہروں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے جو اپنی ثقافت، چمک، دمک اور رہن سہن کے لیے مشہور ہیں۔ ہم نے اپنے گزشتہ مضمون میں لکھنؤ کی بربادی اور اسکی زبوں حالی پر گریہ کیا تھا۔ یہ سچ بھی ہے کہ سب کچھ مٹ گیا اور جو کچھ بچا ہے وہ مٹتا ہی جا رہا ہے،مگر یہ حقیقت ہے کہ لکھنؤ کے ماضی میں ذرا جھانک کر تو دیکھئے کیا سنہرہ دور، کیانفاست و ظرافت بھی آپ کو خوب ملے گی۔

ہم اگر یہاں کے گلی کوچوں،محلے، ٹولوں اور بازاروں کا ذکر کریں تو انکا شاندار ماضی دلچسپی سے کم نہیں ہے۔ کتنی عمارتیں غریبوں اور بے سہارا لوگوں کے لئے تعمیر ہوئیں۔ ان میں ایک آصف الدولہ کا امام باڑہ بھی ہے۔ قحط اور خشک سالی کے عتاب میں رعایا نان شبینہ کو جب محتاج ہونے لگی تو نواب نے ایسی عمارت کی تعمیر شروع کرائی جو دن کے اجالے میں بنتی اور رات کی تاریکی میں صرف اس لئے توڑی جاتی کہ غریب، شریف اور بھوک سے تلملا رہی رعایا کو دو وقت کی روٹی نصیب ہو سکے۔ کچھ لوگ دن میں بناتے تو کچھ لوگ رات میں اسی تعمیر شدہ عمارت کو توڑتے۔ آج کے اس صارفیت کے دور میں اس فراخدلی اور دریا دلی کو ضرور بیوقوفی کہا جائے گا مگر حقیقت یہ ہے کہ نواب کو اپنی رعایا کی خود داری کا بھی خیال تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ کوئی ہاتھ بھی نہ پھیلائے اور اسکے ہاتھ پر اس کی محنت کی اجرت بھی رکھ دی جائے۔

اودھ اور لکھنؤ نے کافی نشیب و فراز دیکھے، اپنوں کی سازشوں کو بھی برداشت کیا ، چنانچہ تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود اس شہر نے دنیا میں نام کیا۔ آج ہم وکٹوریہ اسٹریٹ کا ذکر کرتے ہیں۔

شہر لکھنؤ کی ایک اہم ترین سڑک وکٹوریہ اسٹریٹ جو اب تلسی داس مارگ کے نام سے مشہور ہے شاعروں،علما،ادیبوں،مصنفوں اور فنون لطیفہ کے ماہرین کا ایک گڑھ تھی۔ یہ سڑک در اصل انگریزوں نے عتاب کے طور پر آبادی سے نکالی تھی اور اسکا نام انہوں نے اپنی ملکہ پر رکھا۔ عہد شاہی میں یہ سڑک نہیں تھی مگر ایک کشادہ علاقہ تھا جہاں معاشرے کے اہم ترین افراد قیام کیا کرتے تھے۔

نخاس، بزازہ، اور اسکے ارد گرد کی گلیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان تنگ گلیوں کے باوجود زندگی اپنے عروج پر تھی۔

برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کے نام پر اس سڑک کو انگریزوں نے ان کی یاد میں بنوایا تھا ۔ چوک ترکاری منڈی سے شروع ہونے والی سڑک کا اختتام کربلا تالکٹورہ پر ہوتا ہے لکھنؤ والوں نے اسی سڑک کے درمیان کے حصے کو وکٹوریہ گنج کے بجائے ٹوریا گنج بھی کہنا شروع کیا، بے شمار واقعات اور کہانیاں، محلوں اور کوٹھیوں اور کرشمائی لوگوں سے متعلق ہیں۔ اس سڑک کو کسی زمانے میں امامیہ بازار بھی کہا جاتا تھا۔ میڈکل کراس کو قصائی والا پل اور فرنگی محل اور جوہری محلے کےعلما کے خانوادے اسی جگہ کی زینت تھے ۔

اس علاقے کے آس پاس پرانی عمارتوں میں سے اب کچھ ہی باقی ہیں زیادہ تر توڑ کر کامپلیکس کا روپ اختیار کر چکی ہیں۔ لیکن اتوار کا مشہورتاریخی نخاس کا بازار آج بھی لگتا ہے ۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ پہلے یہ مارکیٹ چڑیا بازار اور بزازے تک محدود تھی اب اس کی لمبائی بڑھ چکی ہے۔ آصف الدولہ کی تاریخی مسجد اور امام باڑے کی پشت تک اس بازار کا علاقہ پھیل چکا ہے۔

نخاس پہلے اکبری دروازے کے گیٹ کے سامنے چاول والی گلی سے شروع ہوتا تھا مگر وکٹوریہ اسٹریٹ کے وجود میں آنے کے بعد انگریزی حکومت کے دور میں یہ مارکیٹ سڑک پر آگئی اور اس کی لمبائی بڑھتی چلی گئی۔

نخاس اس مارکیٹ کو کہا جاتا ہے جس میں ہر طرح کے مال کی خرید و فروخت کی جائے۔ چڑیا بازار کا بھی شاہی دور سے وجود ہے۔ طرح طرح کے جانور اور بھانت بھانت کے پرندے یہاں ملتے تھے جو آج بھی مل سکتے ہیں۔ اس علاقہ میں جوہوریوں، سادے کاروں، زردوزان اور چکن کے کاروبار کرنے والوں کی بہتات ہے۔

شاہی دور میں بھی نخاس میں دور دراز سے لوگ آکر اپنا کاروبار کرتے تھے بزازہ کپڑے کے کارو باریوں کا حصہ تھا اور اسی میں شامل چڑیا بازار جس میں آج بھی طوطے، مرغ،کووے، خرگوش، بکریاں اور دوسرے جانور فروخت ہوتے ہیں اس مارکیٹ کو منگل کا بازار بھی کہا جاتا تھا کیوں کہ یہ منگل کو بھی لگتا تھا۔ انگریزی دور میں 1910تک یہ منگل بازار بھی رہا۔ یہاں لکھنؤ سے قریب کاکوری۔ ملیح آباد سے لوگ اس مارکیٹ میں آتے اور کاروبار کرتے، انقلابی شاعر جوش ملیح آبادی نے وکٹوریہ اسٹریٹ کو لمبی اور اہم سڑک کی وجہ سے "لکھنؤ کی مانگ" کہا ہے۔

اس علاقے میں اکرام اللہ خان کا امام باڑہ، ناظم صاحب کا امام باڑہ، ناسخ کی قبر، حکیم صاحب عالم کا مکان، افضل محل اور بہت سی پرانی اور نئی کوٹھیاں تھیں جن میں سے بہت سی برباد ہو چکی ہیں، ایک سڑک چوپٹیاں کو نکلتی ہے اسی کے آگے گاما کا پل، مرزا منڈی اور سوندھی ٹولا کا راستہ بھی ہے اسی علاقے میں فرنگی محل، پارچے والی گلی، شاہ چھڑا کا مزار، گدڑی مارکیٹ، گھوڑے والی گلی، آگے بڑھ کر پل غلام حسین، اور نخاس کے دائیں نادان محل روڈ، عیش باغ اور نادان محل کے مقبرے کا علاقہ ہے تھوک کی سب سے بڑی مارکیٹ یحیٰ گنج جس کو لوگوں نے بولتے بولتے احیا گنج کردیا آج بھی موجود ہے۔

اسی علاقے میں کنگھی والی گلی، بللوچ پورا، مرزا دبیر کا مزار اور اکبری دروازے سے آگے چل کر اشرف آباد کا قدیمی محلہ ہے اسی کے برابر میں چوک بھی ہے۔ چوک میں ہی خدائے سخن میر انیس کی محل سرا اور انکا مقبرہ بھی۔

وکٹوریہ گنج پر ہی کھالوں کی بازار ہے، کسی زمانے میں شامل یہاں کھالیں فروخت ہوتی تھیں۔اس لئے کھالہ کی بازار نام پڑ گیا۔ کثرت استعمال سے خالہ کی بازار ہوگیا۔

وکٹوریہ اسٹریٹ پر ہی حیدر گنج سے پہلے شاہی خیرات کھانا ہے، جس کی پرانی عمارت آج بھی موجود ہے مگر عمارت کا حال خستہ ہے۔

بادشاہ نصیر الدین حیدر نے خیرات خانہ اپنے دور میں غریبوں اور ناداروں کی مدد کے لئے قائم کیا تھا ، یہاں معذور اور لاوارث لوگوں کو دونوں وقت کا کھانا دیا جاتالاوارث لوگوں کے رہنے کے لئے کمرے بنے ہوے تھے۔

وکٹوریہ اسٹریٹ پر ہی آگے چل کر کربلا منشی فضل حسین، کربلا سعید الدین دولا، کربلا پتتن صاحبہ، وغیرہ ہیں۔ اس سڑک پر بادشاہ نصیر الدین حیدر کی اعانت سے ایک انگریزی اسپتال جس میں یونانی دوائیں بھی ملتی تھیں 1864 میں قائم کیا گیا اسی کی شاخ حضرت گنج دارالشفا میں منتقل ہو گئی۔

اب نخاس ایک بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔ جس میں اتوار کے علاوہ بھی نیا اور پرانا سامان فروخت ہوتا ہے دور دراز سے کاروبا ر کرنے والے یہاں آج بھی آتے اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اگلی بار پھر کسی بازار سڑک، گلی، کوچے، ٹولے یا عمارت کا ذکر ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 02 Sep 2017, 12:55 PM