شہر نامہ— مینار و اذان، لازم و ملزوم نہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سہیل ہاشمی

تو عزیزو! ڈیڑھ مہینہ پہلے مسجد اور میناروں کے حوالے سے جو گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تھا اب اس کے اختتام تک پہنچنے کا وقت آ گیا ہے۔ اب تک میں نے تین مفروضے آپ کی خدمت میں پیش کیے ہیں۔

پہلا تو یہ کہ قطب الدین ایبک کی ایما پر تعمیر کی گئی جامع مسجد، جس کی تعمیر کا کام 1193 میں شروع ہوا اور قطب مینار جس کی تعمیر کا کام 1199 میں شروع ہوا، ان دونوں عمارتوں کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دراصل قطب مینار کی پہلی منزل ہی سنہ 1210 تک قطب الدین ایبک کے انتقال اور شمس الدین التمش کے تخت نشین ہونے تک بمشکل مکمل ہو پائی تھی اور مینار کی باقی منزلیں سلطان شمس الدین التمش کے دور حکومت میں تعمیر ہوئی تھیں۔

میں نے یہ بھی عرض کیا ہے کہ مینار مسجد کے احاطے کے باہر تھا، نیز یہ بھی کہ علاء الدین خلجی کے دور میں مسجد میں ہونے والی دوسری اور آخری توسیع کے دور میں ہی مینار مسجد کے احاطے کی حدود میں شامل ہوا تھا۔

جو تیسری بات میں نے کہی ہے وہ یہ ہے کہ شاہجہاں کے وقت تک بنی سینکڑوں مسجد میں شاہجہان آباد کی جامع مسجد وہ واحد مسجد ہے جس کے میناروں پر چڑھا جا سکتا ہے، اور کسی مسجد میں مینار ہیں ہی نہیں۔

ایک اور بات، جو میرے مشاہدے پر مبنی ہے اور جو میں نے پہلے بھی عرض کی ہے وہ یہ ہے کہ قطب مینار اور جامع مسجد کے میناروں پر چڑھ کر دی جانے والی اذان کی آواز زمین تک نہیں پہنچ سکتی۔

یہاں اس امر کا ذکر کرنا بیجا نہ ہوگا کہ قطب مینار دراصل فتح کی علامت کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا، چنانچہ شاہجہان آباد کی جامع مسجد جس کی تعمیر 1656 میں مکمل ہوئی، دہلی میں میناروں والی پہلی مسجد ہے۔ گویا دہلی کی وہ پہلی مسجد جس میں مینار ہے وہ 17ویں صدی میں بنی اور 1193 سے 1656 تک کے 463 برس میں دہلی میں تعمیر ہونے والی کسی بھی مسجد میں مینار ہیں ہی نہیں۔

اب آگے بڑھنے سے پہلے بیرون ممالک اور برصغیر کی قدیمی مساجد کا کچھ ذکر کر لیں۔

مدینہ میں تعمیر ہونے والی قبا کی مسجد حضرت محمد کے دور میں تعمیر ہوئی اور اس کی تعمیر میں حضرت محمد نے خود پتھر رکھنےکا کام کیا، یہ دنیا کی پہلی مسجد ہے۔ اس مسجد میں کوئی مینار نہیں تھا، اس میں در اور گنبد بھی نہیں تھے، کیوں نہیں تھے اس بارے میں آگے کسی موقع پر گفتگو کریں گے۔

ہندوستان میں جو پہلی مسجد تعمیر ہوئی وہ کیرالہ کی چیرامن مسجد ہے، ضلع تھریسور کے کوڈنگلور تعلقہ میں میٹھالہ کے مقام پر 629 میں تعمیر کی جانے والی یہ مسجد حضرت محمد کی زندگی میں ہی مکمل ہو گئی تھی۔ اس مسجد میں بھی کوئی مینار نہیں تھا۔

سنہ 742 میں چین میں تعمیر ہونے والی پہلی مسجد ژیان نام کے شہر میں ہے اور اس میں بھی مینار نہیں ہے۔

یروشلم میں ساتویں صدی میں تعمیر ہونے والی قبۃ السخرہ مسجد جو عام طور پر ’ڈوم آف دی راک‘ مسجد کے نام سے مشہور ہے اس میں بھی کوئی مینار نہیں ہے۔

بنگلہ دیش کے باگیر ہاٹ ضلع میں 1459 میں تعمیر ہونے والی ’60 گنبد کی مسجد‘ میں بھی کوئی مینار نہیں ہے۔

اسی طرح افغانستان کے قدیم شہر بلخ میں 9ویں صدی میں تعمیر کی جانے والی مسجد، جو حاجی پیادا یا 9 گنبد مسجد کے نام سے مشہور ہے، مینار سے محروم ہے۔

ایسی بے شمار مساجد ہیں جن میں مینار نہیں ہے، مثلاً یمن کی قدیم ترین مسجد جامع الأشاعرۃ جس کے بارے میں یہ روایت ہے کہ اس کا سنگ بنیاد حضرت محمد کے صحابی ابو موسیٰ الاشعری نے سنہ 629 میں رکھا تھا، اس مسجد کی کئی بار توسیع ہوئی اور بارہویں صدی کے آخری دور میں سلطان تغتکین بن ایوب کی حکمرانی میں مسجد کی فصیل میں ایک مینار کی تعمیر ہوئی۔

اسی طرح عرب ممالک کے علاوہ انڈونیشیا، ملایا، ملیشیا، یمن، عراق، ایران، مصر میں بہت سی قدیم مساجد ہیں جن میں تعمیر کے وقت مینار نہیں تھے اور بعد کی توسیع کا نتیجہ ہیں۔ خود ہندوستان میں خصوصاً وادیٔ کشمیر میں جہاں کی آبادی کا 97 فیصد سے زیادہ حصہ اسلام کا پیروکار ہے، وہاں کی کسی بھی پرانی مسجد میں مینار نہیں ہیں۔

اتنے بہت سے شواہد پیش کرنے کا مقصد صرف یہ دکھانا ہے کہ میناروں اور مساجد کا کوئی ماں جایہ رشتہ نہیں ہے اور یہ بات جو دنیا بھر کی کتابوں میں بار بار لکھی جا رہی ہے کہ مینار موذن کی آواز دور تک پہنچانے کے لیے بنائے جاتے ہیں دراصل غلط ہے۔

تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر مینار کیوں بنائے جاتے ہیں؟

جس وقت حضرت محمد نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اس وقت عرب تقریباً 40 چھوٹے اور بڑے قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے جو آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے تھے اور ایک دوسرے کے کارواں لوٹا کرتے تھے۔

اسلام نے متواتر برسر پیکار رہنے والے قبیلوں کو اس بے معنی جنگ و جدال سے آزاد کروا کر ایک قوم کی شکل میں منظم کیا۔ دن میں پانچ مرتبہ یکجا ہو کر نماز پڑھنے سے عربوں میں آپسی ہم آہنگی اور بھائی چارہ کو فروغ ملا۔

اس وقت عربوں کی آبادیاں چھوٹے چھوٹے نخلستانوں میں بکھری ہوئی تھیں۔ گاؤں عموماً پانی کے چشموں کے دونوں طرف بستے تھے اور گاؤں میں صرف اتنے ہی گھر ہوتے تھے جتنے وہاں ملنے والے پانی کی مدد سے ہونے والی کھیتی کے سہارے جی سکتے تھے۔ اتنی چھوٹی آبادیوں کے لیے ایک چھوٹی سی مسجد کافی ہوتی تھی اور موذن مسجد کے صحن سے ہی اذان دیا کرتے تھے۔

رفتہ رفتہ لوگوں کو نماز کے اوقات کا اندازہ ہو گیا اور لوگ اذان سے پہلے ہی مسجد پہنچنے لگے۔ اب نماز شروع کرنے کے لیے اذان کا انتظار کیا جاتا تھا، خاص طور پر شہر کی بڑی اور مرکزی مساجد میں۔

14ویں صدی کے وقت سے ہی جس طول و عرض کی مساجد بن رہی تھیں ان میں کہیں سے بھی اذان دی جاتی، موذن کی آواز کا مسجد کے باہر جانا دور، اذان کی آواز پوری مسجد میں بھی نہیں سنائی دیتی تھی۔ اب اذان صرف ایک علامتی اہمیت کی حامل تھی۔

تمام قدیم قوموں اور مذاہب کا یقین ہے کہ اس دنیا اور اس کائنات کو تخلیق دینے والا معبود آسمانوں سے پرے کہیں رہتا ہے اور اس لیے شروعاتی دور میں تعمیر ہونے والی عبادت گاہیں بلندیوں پر تعمیر کی گئیں۔ ذہن پر ذرا زور دیجیے تو آپ پائیں گے کہ پرانے مندر، پرانی خانقاہیں، پرانے خالصا، پرانی مساجد سبھی اونچے مقام پر تعمیر کی جاتی تھیں۔ قطب الدین ایبک کی مسجد اراولی کی پہاڑیوں پر تعمیر ہوئی۔ یہاں پہلے دو درجن سے زیادہ مندر تھے۔ شاہجہاں کی جامع مسجد ترکمان گیٹ کی کلاں مسجد، فیروز شاہ کوٹلہ کی جامع مسجد، پرانے قلعے کی شیر شاہی مسجد، تغلق آباد کی جامع مسجد اسی زمرے میں شامل ہوتی ہیں۔ دوسرے شہروں میں تعمیر ہونے والے بڑے مندروں، خالصوں اور مسجدوں کے بارے میں سوچیے اور آپ کو بہت سی ایسی مثالیں ملیں گی۔

پہاڑیوں کے اوپر عبادت گاہیں تعمیر کرنے کے پیچھے غالباً خدا کی قربت حاصل کرنے کا خیال کارفرما رہا ہوگا اور اسی کوشش میں عبادت گاہوں کو بلند سے بلند تر کرنے کی کوشش میں کلیسا میں ’بیل ٹاور‘ اور ’اسٹیپل‘ اونچے ہوئے، مندروں میں گوپورم یا شکھر اور مسجدوں میں مینار۔

ایک اور خیال جو اس تعمیر کا محرک رہا ہوگا اور جس سے اس تعمیراتی تحریک کو تقویت ملی ہوگی وہ یہ خیال تھا کہ ان پرشکوہ عبادت گاہوں کو دیکھنے والے، ان کو تعمیر کروانے والے شہنشاہوں، مہاراجاؤں اور سامراجی آقاؤں کے جاہ و جلال سے مرعوب ہوں اور ان کے تابعدار رہیں۔

اب اگر یہ سب کچھ جو میں نے ان تین مضامین میں کہا ہے، صحیح ہے تو مینار سے اذان دینے کی بات جو اتنے بڑے پیمانے پر کہی جا رہی ہے اس کی شروعات کیسے ہوئی؟

میرے خیال میں اس بات کا ذکر سب سے پہلے یورپ اور عین ممکن ہے کہ انگلینڈ سے آنے والے کسی ’ماہر مشرقیات‘ نے کیا ہوگا، اور کیونکہ یہ بات کسی ایسے شخص نے کہی تھی جس کے ہم نسل نہ صرف تمام تر مشرقی اور جنوبی دنیا پر قابض تھے اور ہمارے دماغوں پر آج بھی حاوی ہیں تو ہم سب نے چون چرا کیے بغیر تسلیم کر لیا اور آج تک کر رہے ہیں۔

مسجدوں میں مینار سامراجیت کے اثر سے پہلے بھی تعمیر ہوئے ہیں لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ تیس چالیس فُٹ سے زیادہ اونچے مینار سے دی جانے والی اذان زمین پر سنائی ہی نہیں دیتی۔ جہاں جہاں مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر نصب کیے گئے ہیں انھیں دیکھیے، وہ 40 فُٹ سے زیادہ اونچائی پر نہیں لگائے جاتے تو ظاہر ہے ساٹھ ستّر میٹر یا اس سے زیادہ اونچائی کے میناروں سے زمین تک آواز پہنچنے کا کوئی طریقہ ہی نہیں ہے۔

چنانچہ یہ صاف ہے کہ اونچے میناروں کی تعمیر کے دو محرک ہیں، آسمانوں کی قربت حاصل کرنا اور دیکھنے والوں کو معمار کے جاہ و جلال سے مرعوب کرنا۔ وقت ملے تو تھوڑی تحقیق کر کے دیکھیے، کن کن قدیم مساجد کے بلند مینار ان مساجد کی تعمیر کے کتنے وقت بعد ان مساجد کا حصہ بنے۔

’قومی آواز‘ کو ان مضامین کے بارے میں اپنی رائے ضرور بھیجیں، اگر یہ سلسلہ آپ کو پسند آیا تو ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیک مشوروں سے بھی نوازیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔