شہرنامہ: جب ہندوستان میں ’ترک محراب‘ کی برتری قبول کی گئی!

محراب اور گنبد کا ارتقاء ۔۔۔ دوسری قسط

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سہیل ہاشمی

مضمون کی پچھلی قسط کے آخری حصّے میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ ہندوستان میں پہلی بار محراب کا استعمال سنہ 1287 میں یعنی ترکوں کے ہندوستان وارد ہونے کے 95 برس بعد اتنی دیر سے کیوں شروع ہوا؟

جس وقت یہ سلسلہ شروع کیا تھا اس وقت منصوبہ یہ تھا کہ اسے بالترتیب ڈھنگ سے اختتام تک پہنچایا جائے مگر اللہ بھلا کرے دلی کی زہریلی ہوا کا کہ ٹھنڈ کے پہلے ہی ہلّے میں پھیپھڑے گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے ابھی دوبارہ سانس لینی شروع ہی کی تھی کہ ایک اور بیماری کی زد میں آ گیا، اب’ آلتو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو‘کہتے ہوئے چلنے پھرنے کے قابل ہوئے ہیں تو اس سلسلے کو دوبارہ شروع کرنے کی جسارت کی ہے۔

مضمون کی پچھلی قسط کے آخری حصّے میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ ترک 1192 سے دہلی میں مقیم تھے اور جس علاقے سے وہ ہندوستان آئے تھے وہاں ایک عرصہ دراز سے محراب کا استعمال ہو رہا تھا مگر ہندوستان میں پہلی بار محراب کا استعمال سنہ 1287میں یعنی ترکوں کے ہندوستان میں وارد ہونے کے 95 برس بعد شروع ہوا- سوال یہ ہے کے ایسا کیوں ہوا؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
دہلی کے محرولی میں واقع غیاث الدین بلبن کا مقبرہ جس میں پہلی بار ترکی طریقہ سے محراب تعمیر کی گئی

قطب الدین ایبک کی بنائی ہوئی مسجد جامع، اس کی توسیع میں شمس الدین التمش کی بنائی ہوئی محرابیں ،نصیر الدین محمود اور خود التمش کا مزار۔ اور یہ دونوں مزار التمش کی نگرانی میں تعمیر ہوئے۔ان مین سےکسی میں بھی اصلی محراب نظر نہیں آتی۔ حیرت کی بات یہ ہے کے مخروطی محراب کی شکل تو نظر آنے لگتی ہے اور اوپر جن تین تعمیرات کا ذکر ہوا ہے ان تینوں میں مخروطی محراب کی شکل نظر آتی ہے مگر دراصل یہ تینوں ہی توڑے دار محرابیں ہیں اور ان میں استعمال کئے جانے والے توڑے کے پتھروں کو مخروطی محراب کی شکل میں تراش دیا گیا ہے ۔ ان سبھی محرابوں میں وہ سنگ کلیدی غائب ہے جو اصلی محراب کو محراب بناتا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ توڑے دار محراب کو مخروطی محراب کی شکل میں کیوں پیش کیا جا رہا تھا۔

میرا خیال یہ ہے کہ وہ معمارجنہوں نے ان تینوں عمارات کے نقشے بنائے ہوں گے وہ یہاں اصلی محراب ہی استعمال کرنا چاہتے ہوں گے مگر ہندوستانی کاریگر جن کے لئے محراب بنانے کی یہ تکنیک بالکل نئی تھی انہیں یقین تھا کہ اس طرح کی محراب جس عمارت میں استعمال ہوگی وہ ہرصورت میں ٹوٹ کر بکھر جائے گی۔ ہندوستانی کاریگروں کے شک کی بنیاد لا علمی پر مبنی تھی ۔ ہندوستان میں تعمیر کا جو طریقہ رائج تھا ، خاص طور پرعظیم عمارات کی تعمیر میں جو طریقہ استعمال ہوتا تھا اس میں پتھر کے بڑے بڑے تودے اس طرح سے ایک دوسرے میں پھانسے جاتے تھے کے بنا گارے کے بھی وہ سیکڑوں برس تک ٹس سے مس نہیں ہوتے تھے، دنیا بھر میں اس طریقے سے بہت سی عظیم الشان عمارات تعمیر کی گی تھیں۔مثال کے طور پر احرامِ مصر، انگکور واٹ کے مندر اور خود ہندوستان میں کونارک اور کھجوراہو کے مندر ۔دنیا کے ایک بڑے حصے میں تعمیر کا یہی طریقہ رائج تھا۔

تصویر سوشل میدیا
تصویر سوشل میدیا
سلیم گڑھ قلعہ کی گنبد کے باقیات

ترکی اور وسط ایشیا سے ہندوستان آنے والے ترک اور دوسری قوموں کے لوگوں کے ذریعہ تعمیر کا ایک نیا طریقہ ہندوستان میں آیا۔ اب تعمیر گڑھے ہوئے پتھروں سے نہیں ہوتی تھی بلکہ ملبے سے ہوتی تھی۔ پتھروں کو کسی بھی شکل میں توڑ لیا جاتا تھا ان کو کوئی شکل دینے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ لکڑی کے تختوں کی مدد سے ایک کھانچا بنایا جاتا تھا اور اس میں ٹوٹے ہوئے پتھروں کے ٹکڑے بھر دیے جاتے تھے۔ خالی جگہوں میں اینٹوں کے چورے اور بھیگے ہوئے چونے کا گارا بھر دیا جاتا تھا۔ گارا سوکھنے کے بعد کھانچا الگ کر دیا جاتا اور عمارت کا ڈھانچہ اس طرح تعمیر ہو جاتا پھر عمارت کے باہر اور اندر چونے کا پلاسٹر کیا جاتا تھا ۔جسے گچ کہتے تھے اور پھر اس میں نقاشی کی جاتی تھی یا پتھروں کی ٹائلیں چونے کے پلاسٹر کی مدد سے لگا دی جاتی تھیں۔ علائی مینار اور قطب مینار کو دیکھ لیں تو تعمیر کے اس طریقہ کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
تغلق آباد واقع غیاس الدین تغلق کے مقبرے میں تعمیر کی گئی گنبد

ٹوٹی ہوئی اینٹوں اور چونے کے گارے کی مدد سے پتھروں کے ملبے سے عمارت تعمیر کرنے کے اس طریقے کے ساتھ ساتھ محراب بھی ہندوستان آئی۔ ہندوستانی کاریگروں کے سامنے یکلخت یہ مسئلہ درپیش آیا کہ ان سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اب تک جس طریقے سے عمارت سازی کا کام وہ کرتے رہے ہیں اسے یکسر بدل دیں اور پتھروں کے بڑے بڑے تودوں کے بجائے پتھروں کے ملبے سے عمارتیں بنائیں۔ پہلے بغیر پلاسٹر کے عمارتیں بنانے کے عادی تھے اب سرخی (اینٹوں کا چورا) اور چونے کے گارے کا استعمال کرنے لگیں اور اس پر طرّہ یہ کہ ستونوں اور شہتیروں کی مدد سے بننے والی توڑے دار محرابوں کے بجائے اب چھوٹے چھوٹے قاش کی شکل میں تراشے گئے پتھر کے ٹکڑوں سے محرابیں تعمیر ہوں گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
محرولی میں واقع علائی دروازہ کی تعمیر

ملبے اور گارے سے تعمیر کا طریقہ تو طوہاً و قرہاً ہندوستانی راج مستریوں نے برداشت کر لیا مگر محراب بنانے کا یہ طریقہ ان کی سمجھ میں نہیں آیا اور پھر وہی ہوا جو آرکیٹیکٹ اور مستری کے بیچ سینکڑوں برس سے ہوتا آیا ہے۔ مستری نے آرکیٹیکٹ سے کہا تمہیں یہ شکل چاہیے تو مل جائے گی، اب مجھے مت بتاؤ کہ یہ کیسے بنے گی۔ تم نے فن تعمیر کتابوں میں پڑھا ہے اور استادوں سے سیکھا ہے مگر میں اور میرا خاندان 20 پیڑھی سے یہی کرتے آرہے ہیں تو میں تمہیں یہ شکل بنا کر دے دوں گا۔

اور اس طرح ہندوستانی مستری نے توڑے دار محراب کی شکل کو مخروطی محراب کی شکل میں ڈھال دیا اور یہ عمل تقریباً 5 پیڑھی تک چلتا رہا۔ 1192 سے 1287 تک کل 95 برس، اور تب کہیں جا کر ہندوستانی راجگیر اور مستری اصلی محراب کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہوئے۔ اس وقت پہلا گنبد بھی تعمیر ہوا، یہ دونوں پہلی بار غیاث الدین بلبن کے مزار میں استعمال ہوئے۔

یہاں جو دلچسپ بات ہم دیکھ رہے ہیں وہ ترک معمار اور ہندوستانی راجگیر کے درمیان ہونے والا مکالمہ ہے۔ یہ مکالمہ عمارت سازی کے دو بالکل مختلف طریقوں اور عمارت سازی کی ایک دوسرے سے بالکل جدا تکنیکوں کے درمیان ہے۔ اس مکالمے کا ایک پہلو ہے توڑے دار محراب اور اصل محراب کے درمیان ہونے والا سمجھوتہ۔ اور یہ اسی سمجھوتے کا نتیجہ تھا کہ ترکوں کی لائی ہوئی محراب اور ہندوستانی توڑے دار محراب ایک ساتھ 300 برس تک ایک ہی چھت کے نیچے گزر کرتے رہے، حتیٰ کہ توڑے دار محراب بنانے والوں نے ترکی سے ہندوستان آنے والی محراب کی برتری کو قبول کر لیا۔

وہ گنبد جو غیاث الدین بلبن کے مزار پر تعمیر ہوا تھا وہ ٹوٹ گیا۔ نہ ٹوٹا ہوتا تو حیرت ہوتی، ہندوستانی معمار مستری اور راجگیر ابھی گنبد بنانا سیکھ ہی تو رہے تھے۔ اس سے پہلے بھی ایک بار گنبد بنانے کی کوشش ہوئی تھی، ایک نہیں دو بار، کہتے ہیں کہ التمش کے مزار پر گنبد بنانے کی کوشش دو مرتبہ ہوئی اور دونوں مرتبہ گنبد ٹوٹ گیا، التمش کے بیٹے نصیرالدین محمود کے مزار پر گنبد بنانے کے لیے ہشت پہل چبوترا بنایا گیا مگر اس کے آگے کام نہیں بڑھا، علاء الدین خلجی کا بنوایا ہوا علائی دروازہ کا گنبد ہے جو اس نے قطب الدین ایبک کی بنائی ہوئی مسجد کی دوسری توسیع کے وقت بنوایا۔ مگر خود علاؤالدین خلجی کے مزار پر بننے والا گنبد ٹوٹ کر گر گیا۔علائی دروازہ کے بعد جو اگلے دو گنبد بنے وہ غیاث الدین تغلق کے مزار پر اور اس کی فوج کے ایک افسر ظفر خان کے مزار پر بننے والے گنبد ہیں۔

محراب اور گنبد کا باہمی رشتہ بہت گہرا ہے۔ جنہیں محراب بنانی نہیں آتی وہ گنبد نہیں بنا سکتے۔ اس باہمی رشتے اور گنبد اور محراب کے بارے میں کہی جانے والی بہت سی غیر تاریخی باتوں کے بارے میں اس مضمون کی اگلی قسط میں گفتگو کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں۔ شہرنامہ: محراب اور گنبد کا ارتقاء ... پارٹ-1

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 01 Jan 2018, 9:54 AM