وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ’منی بجٹ‘ سے کس کو فائدہ؟

جی ایس ٹی کی کاری ضرب سے تاجر طبقہ ہنوز پریشان ہے۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے عوام کے اندر گھٹن کا لاوا پک رہا ہے جس کے عنقریب پھوٹنے کے اشارے بھی ملنے لگے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

نواب علی اختر

نوٹ بندی کی کاری ضرب کے بعد دوسری میعاد کی مودی حکومت میں ہندوستان کی معیشت ہچکولے کھا رہی ہے، کساد بازاری کے باعث ملک کے اندر کئی فیکٹریاں بند کرنا پڑی ہیں، کئی کمپنیوں میں تالا لگ چکا ہے یا لگنے والاہے،لاکھوں نوجوان بے روزگار ہوگئے ہیں۔ جی ایس ٹی کی کاری ضرب سے تاجر طبقہ ہنوز پریشان ہے۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے عوام کے اندرگھٹن کا لاوا پک رہا ہے جس کے عنقریب پھوٹنے کے اشارے بھی ملنے لگے ہیں۔ سابق یو پی اے حکومت کے سربراہ ماہر معاشیات منموہن سنگھ نے اپنی 10 سالہ حکمرانی کے آخری 18 ماہ کے دوران ملک کی معیشت کو بہتر بنانے والے اقدامات کیے تھے۔ اس کی بدولت آج معیشت ہنوز اپنی بہتری کی جدوجہد کر رہی ہے لیکن موجودہ مودی حکومت نے معاشی امور سے نمٹنے میں کوتاہیاں کیں تو سارا ملک معاشی انحطاط کے نقصانات سے دوچار ہورہا ہے۔

آسمان سے تارے توڑ لانے جیسی کہاوت پرچلتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ہندوستانی معیشت کو رفتار دینے کے لئے اتنے بڑے بڑے قدم اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے کہ شیئربازار سے لے کر دنیائے صنعت کی تمام ہستیاں ایک ماہ پہلے ہی دیوالی منا رہی ہیں۔ روپئے کی قدر میں اچھال آ گیا توشیئربازاروں میں دس سال کی سب سے بڑی تیزی درج کی گئی۔ یہی نہیں ایک صنعت کار نے تو ٹوئٹ کر دیا ہے کہ یہ 20 سال کے بجٹوں میں کیے گئے اعلانات سے بھی بڑے اعلان ہیں۔ جمعہ کا دن جیسے کارپوریٹ سیکٹر کے لئے ’عید کا دن‘ بن گیا جب وزیر خزانہ نے کمپنیوں کے لئے انکم ٹیکس کی شرح تقریباً 10 فیصد کم کر کے 25.17 فیصد اور نئی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے لئے کارپوریٹ ٹیکس کی موجودہ شرح کم کرکے 17.01 فیصد کرنے کا اعلان کیا۔ ان فیصلوں سے کارپوریٹ سیکٹرمیں تو جشن منایا گیا لیکن اس سے عام لوگوں اور تنخواہ پر گزر بسرکرنے والوں کو کتنا فائدہ ہوگا؟ اس پرمغزماری کرنا اپنے دماغ کومزید تکلیف پہنچانا ہوگا کیونکہ حکومت کے فیصلوں سے صاف ظاہر ہے کہ اس کی دریا دلی صرف صنعتکاروں تک محدود ہے جومستقبل میں اس کے لئے انڈا دینے والی مرغی ثابت ہوسکتے ہیں۔

حکومت کی طرف سے ’پیسے والوں‘ کے لئے کیے گئے اعلانات سے سرکاری خزانہ کو 1.45 لاکھ کروڑ روپئے کا نقصان ہوگا۔ گزشتہ ہفتہ بھی وزیر خزانہ نے برآمد بڑھانے اور ان کے دھول چاٹ رہے ہاؤسنگ پروجیکٹوں میں پھنسے خریداروں کو راحت دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلہ سے بھی حکومت کو 50 ہزار کروڑ روپئے کا نقصان ہونے کا اندازہ ہے۔ معیشت کو رفتار دینے کے نام پرایک مخصوص طبقے کے لئے اب تک کیے گئے راحتی اقدامات سے سرکاری خزانہ پر تقریباً دو لاکھ کروڑ روپئے کا بوجھ پڑے گا۔ حکومت اس خسارے کی تلافی کہاں سے کرے گی؟ ساری باتیں کھل کر بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ وزیر خزانہ نے جولائی میں اپنا پہلا بجٹ پیش کیا تھا جو جمعہ کوپیش کیے گئے’منی بجٹ‘ کے بعد کافی پیچھے چھوٹ چکا ہے۔ پنکچر پڑی’میک ان انڈیا‘ کی گاڑی کو دھکا دینے کے لئے بھی ٹیکس میں تخفیف کردی گئی ہے۔ کئی بار کمپنیاں ٹیکس چھوٹ کے لئے طرح طرح کے طریقے اپناتی ہیں جس کی وجہ سے حکومت کم سے کم رقم طے کر دیتی ہے تاکہ ٹیکس تو دینا ہی دینا ہے تاکہ کمپنیاں زیرو ٹیکس کا جگاڑ نہ کر پائیں۔

مودی نے جب دوسری میعاد کے لئے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تھا تو ان سے مرکزی حکومت کے سابق سکریٹری نے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرنے سے متعلق سوال کیا تھا۔ اعلیٰ دستوری عہدہ پر فائز اس بیوروکریٹ نے واضح کردیا تھا کہ سال 2015ء میں ہی تمام تجاویز و سفارشات پیش کی جاچکی ہیں۔ خاص کر وزیراعظم کے دفتر کی ایک اہم میٹنگ میں اس پر غور و خوض بھی کیا گیا، لیکن چار سال گزرنے کے بعد بھی حکومت کے اس پالیسی ایجنڈہ کو روبہ عمل نہیں لایا گیا جس کے نتیجہ میں آج ملک کو کساد بازاری کا سامنا ہے۔ مودی حکومت کی طرف سے ماہرین معاشیات اور بیوروکریٹس کی جانب سے پیش کردہ سفارشات پر عمل آوری سے گریز کرنے کے سبب آج معیشت کمزور پڑگئی ہے۔

ہندوستان کی معیشت انتہائی خراب دور سے گزر رہی ہے، بات روزگار کی ہو رہی تھی، مانگ کی ہو رہی تھی کہ لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ وزیر خزانہ کے تازہ فیصلے سے کارپوریٹ کو تو فائدہ ملا ہے لیکن لوگوں کو کیا ملا؟ ان کے پاس مانگ کو بڑھانے کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ کیا کارپوریٹ ٹیکس میں جو کمی آئے گی اس کا فائدہ تنخواہ میں اضافہ کے طور پر دیکھنے کو ملے گا۔ حال ہی میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق 2018-19 میں پرائیویٹ سیکٹر میں گزشتہ دس سال میں سب سے کم تنخواہ بڑھی ہے۔ تنخواہ میں اوسط اضافہ 6 فیصد اور 9 فیصد ہی رہا ہے۔ اگر افراط زر سے ایڈجسٹ کریں تو تنخواہ میں 0.53 فیصد ہی اضافہ ہوا ہے۔

مانگ بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر اپنے ملازمین کی تنخواہ بڑھائیں لیکن ان پر دباؤ سرمایہ کاری بڑھانے کا بھی ہے تاکہ نیا روزگار پیدا ہو۔ تنخواہ پر کیا اثر پڑے گا، اس پر ٹھوس طور پرکچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ حکومت کارپوریٹ کے ٹیکس میں تخفیف کے بعد عام لوگوں کے لئے بھی انکم ٹیکس میں راحت دے گی؟۔ ماہرین معاشیات کے تجزیات سے اخذ کردہ نتائج سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ اب کارپوریٹ کو دکھانا ہوگا کہ وہ یہ رعایت کا فائدہ کس طرح سے حکومت اور عام آدمی کو دیتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ موجودہ وقت میں عوام کو کئی مسائل کا سامنا ہے مگرکوئی اُف تک نہیں کررہا ہے۔ شاید ایسے لوگوں کو لوجہاد، گئورکشا، ہجومی تشدد کے نام پرملک کی دوسری سب سے بڑی اقلیت کو نشانہ بنائے جانے پرچٹخارے لینے میں زیادہ مزہ آرہا ہے۔ اگرایسا ہے تویہ وہی بات ہوئی کہ’پڑوسی کی دیوار گرنی چاہیے، خواہ اپنی ماں مرجائے‘۔

حکومت پر جب عوام اندھا اعتبار کرنے لگتے ہیں تو دھیرے دھیرے حکومت بھی عوام کو اندھا سمجھنا شروع کردیتی ہے اور پھر ایک ایسا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا جاتا ہے جس کی تاریکی میں عوام کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ موجودہ حکمراں طاقت پر بھی عوام نے اندھا اعتبار کر رکھا ہے جس کا خمیازہ وہ بھگتنے لگے ہیں۔ مئی 2014ء میں جب نریندر مودی کی کابینہ نے حلف لیا تھا یہ واضح کردیا گیا تھا کہ نئی حکومت ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے کے لئے کام کرے گی لیکن اصلاحات کے عمل کے بغیر یہ کام ادھورا رہ گیا۔ کرنسی کی گرتی قدر ڈالر کے مقابل روپیہ کی قدر میں کمی نے ملک کی معیشت کی حقیقی صورتحال کو ظاہر کردیا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین نے حکومت کی رہنمائی کرتے ہوئے معاشی امور میں بہتری لانے کی جانب توجہ دلائی لیکن مذہبی جذبات، ہجومی تشدد اور نفرت کے ماحول کو فروغ دینے میں مصروف حکمرانوں نے ملک کی معیشت کی فکر نہیں کی جس کے بعد مودی حکومت کی جانب سے معاشی بہتری کے لئے کیے گئے اقدامات میں کامیابی نہیں ملی جس کا خمیازہ ملک کے عام لوگ بھگت رہے ہیں۔

Published: 22 Sep 2019, 7:10 PM