بی ایس این ایل کا ایک ملازم کورونا پازیٹو، ساتھی ملازمین میں خوف

عہدیدار نے بتایا کہ متاثرہ ملازم ہوائی اڈے پر ٹیسٹ کرانے کے بعد سیدھے دفتر آیا، جہاں اس کا دوسرے ملازموں کے ساتھ رابطہ بھی ہوا بلکہ انہوں نے کینٹین میں اپنی پلیٹ بھی دوسروں کے ساتھ شیئر کی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: سرکاری مواصلاتی کمپنی بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) سری نگر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی کے ایک ملازم کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود بھی متعلقہ حکام نے ان کے رابطے میں آنے والے دیگر ملازموں کی کوئی ٹریسنگ اور ٹیسٹنگ کی, نہ ہی ایکسچینج روڑ پر واقع کمپنی کمپلیکس کw سینیٹائز کیا گیا۔ا

نہوں نے کہا کہ ایک ملازم کا کورونا ٹیسٹ مثبت آئے قریب ایک ہفتہ گزر گیا ہے لیکن ہمارے ہاں اب تک متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی بھی نہیں آیا اور نہ ہی کسی عمارت کو ریڈ زون قرار دیا گیا۔ بی ایس این ایل کے ایک عہدیدار نے یو این آئی اردو کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہمارے ایک ملازم کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن ابھی تک یہاں باقی ملازموں کا ٹیسٹ کرنے کے لئے کوئی نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ 'ہمارا ایک ملازم جو مہاراشٹر سے آیا ہے، کا یہاں ہوائی اڈے پر ٹیسٹ کیا گیا جس کی رپورٹ جمعے کو مثبت آئی لیکن ابھی تک یہاں سرکار کی طرف سے باقی ملازموں کی ٹریسنگ اور ٹسیٹنگ کے لئے کوئی نہیں آیا'۔ موصوف نے کہا کہ متاثرہ ملازم نے ہوائی اڈے پر ٹیسٹ کرانے کے بعد سیدھے دفتر پہنچ کر ڈیوٹی جوائن کی جہاں اس کا دوسرے ملازموں کے ساتھ رابطہ بھی ہوا بلکہ انہوں نے کینٹین میں اپنی پلیٹ بھی دوسروں کے ساتھ شیئر کی۔

انہوں نے کہا کہ حکام کی طرف سے کمپنی کمپلیکس کو سینیٹائز بھی نہیں کیا گیا اور نہ ہی دوسرے ضروری احتیاطی اقدام کیے گئے۔ کمپنی کے بل کلیکشن سینٹر کے بند ہونے کے حوالے سے موصوف نے بتایا کہ وہ کھلا ہے اور لوگ اپنے بل جمع کر رہے ہیں۔ دریں اثنا یو این آئی اردو کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ بدھ کی صبح کے وقت بی ایس این ایل کا بل کلیکشن سینٹر بند تھا لیکن اس کو پھر دوپہر کے وقت کھول دیا گیا جس کے بعد وہاں انتظار میں بیٹھے صارفین نے اپنے بل جمع کیے۔

next