یو پی کا بجٹ صرف اعدادوشمار کی بازی گری: اجے کمار للو

اترپردیش اسمبلی میں یوگی حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے بجٹ پر کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للو نے کہا کہ اعدادوشمار کی بازی گری میں ماہر یوگی حکومت نے نوجوانوں اور کسانوں کے ساتھ فریب کیا ہے

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

لکھنؤ: اترپردیش اسمبلی میں منگل کو یوگی حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے بجٹ پر اپنا تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للو نے کہا کہ اعدادوشمار کی بازی گری میں ماہر یوگی حکومت نے نوجوانوں اور کسانوں کے ساتھ فریب کیا ہے۔

للو نے کہا کہ گذشتہ دوسالوں کے اندر ریاست میں نوجوان بے روزگاروں کی تعداد 12.5 لاکھ تک بڑگئی ہے۔ بجٹ میں سبکدوش ٹیچروں کو ثانوی تعلیمی بورڈ میں نوکری دینے کا اعلان بے روزگار نوجواں کے ساتھ اعتماد شکنی ہے۔وہیں فروغ ہنر مندی اسکیم بھی فریب دہی پر مبنی ہے۔

ریاستی صدر نے کہا کہ 18 ڈویژنوں کے ہیڈکوارٹر میں اٹل رہائشی کالجوں کے قیام کا اعلان بھی جھوٹ کا پلندہ ہے اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ذریعہ قائم کئے گئے نودئے ودیالے کو ختم کرنے کی سازش ہے کیونکہ نہ تو اس کے لئے بجٹ کو بڑھایا گیا ہے بلکہ فیس میں اضافہ اور دیگر سہولیات میں تخفیف کی گئی ہے۔

للو نے کہا کہ زراعت پر اخراجات کم کرنے،کھاد،بیج،پانی، زرعی آلات،جرائم کش ادویات،بجلی وغیرہ کی قیمتوں میں کمی کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ اور نہ ہی چھتیس گڑھ،راجستھان،مدھیہ پردیش، پنجاب وغیرہ دوسری ریاستوں کی طرح مرکزی حکومت کی جانب سے اعلان شدہ زرعی پیداواروں گیہوں، دھان اور تلہن کی فصلوں کی قیمتوں پر فی کوئنٹل200 روپئے سے لے کر 1500 روپئے تک بونس دینے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسے ریاستی حکومت نے بجٹ میں کوئی اہمیت نہیں دی ہے۔جبکہ گذشتہ تین سالوں میں ان روز مرہ کی زندگی میں استعمال کی جانے والی اشیاء کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوچکا ہے۔ 450 روپئے فی کوئنٹل گنے کی قیمت دینے کا وعدہ کر کے اقتدار میں آئی بی جے پی تین سالوں میں گنے کی قیمت میں صرف 10 روپئے کا ہی اضافہ کیا ہے۔

کانگریس ریاستی صدر نے کہا کہ 3200 روپئے فی کونٹل گیہوں کی قیت ہونی چاہئے تھی جو نہیں کیا گیا۔ علاوہ ازیں کسان کمیشن کی تشکیل اور کھیتوں میں رکھوالی کرنے والوں کے لئے بھتے کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے۔ ایسے میں کسانوں کی آمدنی دو گنی کرنے کا اعلان کسانوں کے ساتھ بھدا مذاق اور ان کے ساتھ کھلی فریب دہی ہے۔

انہوں نے تعلیمی بجٹ میں بڑے پیمانے پر تخفیف کئے جانے کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ سال 2019۔20 میں تعلیمی بجٹ48044 کروڑ روپئے کا تھا جو اس بار 18633 کروڑ روپئے کردیا گیا ہے۔ یہ تعلیم کے نجکاری کے اشارے ہیں وہیں آیوشمان اسکیم کے لئے بجٹ مختص نہ کرنا نجکاری کو فروغ دینے جیسا ہے۔