بجٹ پیش ہونے میں تین روز باقی، جانیں کیوں خاص ہے اس بار کا بجٹ

مودی حکومت آخری بجٹ یکم فروری کو پیش کرے گی لیکن لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر یہ مکمل بجٹ نہیں ہوگا، بلکہ عبوری بجٹ ہی پیش کیا جائے گا۔ مکمل بجٹ جولائی ماہ میں نومنتخب حکومت پیش کرے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ملک کا عام بجٹ پیش ہونے میں اب صرف تین دن باقی ہیں، مودی حکومت نے اپنے آخری بجٹ کے لئے تیاریاں مکمل کرلی ہیں، اس بار بجٹ ارون جیٹلی نہیں بلکہ عبوری وزیر خزانہ پیوش گوئل پیش کریں گے، ارون جیٹلی امریکہ میں اپنا علاج کرا رہے ہیں۔

اس دوران بجٹ کی پرنٹنگ کا کام جاری ہے اور اگلے ایک دو دن میں یہ دستاویز تیار ہو جائیں گے، بجٹ یکم فروری کو صبح 11 بجے لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا، اس دوران عبوری وزیر خزانہ بجٹ کے سلسلہ میں تقریر دیں گے، بجٹ میں عام طور پر مالی سال کے آغاز یعنی یکم اپریل سے 31 مارچ تک آمدنی اور خرچ کا بیورا ہوتا ہے، ساتھ ہی حکومتیں بجٹ میں کچھ نئی پالیسیوں کا اعلان بھی کرتی ہیں، جس سے کئی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔

جس دن بجٹ پیش کیا جاتا ہے اسی دن صبح بجٹ کاپیاں پارلیمنٹ ہاؤس لائی جاتی ہیں، اس کے بعد وزیر اعظم کی صدارت میں کابینہ کی میٹنگ ہوتی ہے، اس اجلاس میں بجٹ فیصلوں پر بحث کے بعد منظوری دے دی جاتی ہے، عام طور پر بجٹ تقریر تقریباً 2 گھنٹے کی ہوتی ہے، اس بار چونکہ عبوری بجٹ ہے، تو یہ بجٹ تقریر اس بار کچھ چھوٹی ہو سکتی ہے۔

ویسے یہ روایت رہی ہے کہ بجٹ سے ایک یا دو دن پہلے حکومت اقتصادی سروے پارلیمنٹ میں پیش کرتی ہے، لیکن عبوری بجٹ میں ایسا نہیں ہوتا، اس بار اقتصادی سروے تبھی پیش کیا جائے گا جب مکمل بجٹ پیش ہوگا، اقتصادی سروے میں ملک کی اقتصادی صحت کا اندازہ لگتا ہے۔

عام بجٹ کو لے کر ہر سال عام لوگوں، کاروباری اور کارپوریٹ دنیا کے ساتھ ساتھ شیئر بازار وغیرہ میں کافی دلچسپی رہتی ہے۔ عام لوگوں کی سب سے زیادہ دلچسپی ضروری اور روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کے کم ہونے یا بڑھنے کو لے کر ہوتی ہے، حکومت براہ راست تو کسی چیز کے دام میں کمی یا اضافہ کا اعلان نہیں کرتی ہے، لیکن کسٹم اور ایکسائز میں تبدیلی سے اشیاء کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے۔

وہیں کارپوریٹ کی توقع پالیسی فیصلوں کو لے کر ہوتی ہے، ان فیصلوں میں کچھ اشیاء کی درآمد برآمد کی پالیسی میں تبدیلی یا کسی خاص شئی پر ٹیکس کی شرح میں تبدیلی وغیرہ شامل ہوتی ہیں، اسی طرح شیئربازار بھی بجٹ کی اعلانات سے متاثر ہوتا ہے، کیونکہ بجٹ میں جس شعبہ سے متعلق پالیسی میں اعلان ہوتا ہے، اس شعبہ سے منسلک کمپنیوں کے حصص میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملتا ہے۔

لیکن سب سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے ذاتی انکم ٹیکس کی شرح کو لے کر، ملک کے نوکر پیشہ لوگوں کے لئے سب سے بڑی کشش اسی کو لے کر ہوتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔