ایم ایس ایم ای معاملے پر گڈکری اور سیتا رمن پہلے باہمی تنازعہ حل کریں: چدمبرم

چدمبرم نے کہا ہے کہ ایم ایس ایم ای میں بہتری لانے کا اعلان کرنے والی حکومت کے دو کابینہ وزراء کو پہلے ان صنعتوں کے معاملے میں ان کے درمیان پیدا شدہ تنازعہ کو سلجھانا چاہئے

سینئر کانگریس رہنما پی چدمبرم
سینئر کانگریس رہنما پی چدمبرم
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں ( ایم ایس ایم ای ) میں بہتری لانے کے لئے اقتصادی پیکیج کا اعلان کرنے والی حکومت کے دو کابینہ وزراء نتن گڈکری اور نرملا سیتا رمن کو پہلے ان صنعتوں کے معاملے میں ان کے درمیان پیدا شدہ تنازعہ کو سلجھانا چاہئے۔

چدمبرم نے ٹویٹ کر کے کہا ’’ کابینہ وزیر گڈکری کا کہنا ہے کہ حکومتوں اور پبلک سیکٹر انٹر پرائز ر پر ایم ایس ایم ای کا پانچ لاکھ کروڑ روپے واجب الادا ہے ۔ کابینہ وزیر سیتا رمن کا کہنا ہے کہ وہ ایم ایس ایم ای کو تین لاکھ کروڑ روپے کا بغیر گرانٹی کے قرض فراہم کریں گی ‘‘ ۔

انہوں نے کہا کہ حقائق کیا ہیں ۔ ان میں قرض خواہ کون ہے اور قرض لینے والے کون ہے ۔ دونوں وزراء کو اس تنازعہ کا تصفیہ کرنا چاہئے اور ایم ایس ایم ای کو حکومت کی مدد کے بغیر خود اپنے دفاع کے لئے قدم اٹھانے دینے چاہئے ۔

چدمبرم نے اس سے پہلے پی ایم کیئرس پر بھی سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’پی ایم کیئرس نے مہاجر مزدوروں کے لئے 1000 کروڑ روپے واگزار کئے ہیں۔ برائے کرم غلطی نہ کریں۔ یہ پیسہ مہاجر مزدوروں کو نہیں دیا جائے گا، بلکہ ریاستوں کو مہاجر مزدوروں کے سفر، پناہ، علاج اور کھانے کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے دیا جائے گا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’مہاجر مزدوروں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ ایک مہاجر مزدور کا سوچیں، جو تمام رکاوٹوں کو پار کرتے ہوئے اپنے گاؤں لوٹ آیا ہے۔ گاؤں میں نوکریاں نہیں ہیں۔ اس کے پاس کوئی کام نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ذریعہ معاش۔ وہ کیسے اپنے کنبہ کی پرورش کرتے گا!‘‘