نوٹ بندی ’ظالم حکومت‘ کا ’تغلقی فرمان‘ تھا، جس کا خمیازہ عوام آج بھی بھگت رہے ہیں: سونیا گاندھی

سونیا گاندھی نے اپنے جاری کردہ بیان میں نوٹ بندی کے فیصلہ کو ’تغلقی فرمان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ظالم حکومت‘ نے ایک جھٹکے میں اپنے ہی ملک کے شہریوں کے کارباروں اور زندگی پر حملہ کیا تھا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس صدر سونیا نے نوٹ بندی کے تین سال مکمل ہونے پر اس فیصلے کو مودی حکومت کا بغیر سوچے سمجھے لیا گیا فیصلہ قرار دیا اور سوال کیا کہ اسے بتانا چاہئے کہ اس فیصلے سے ملک کو کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے نوٹ بندی کے فیصلہ کو تغلقی فرمان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ظالم حکومت‘ نے ایک جھٹکے میں اپنے ہی ملک کے شہریوں کے کارباروں اور ان کی زندگی پر حملہ کیا تھا۔

سونیا گاندھی نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ نوٹ بندی کے فائدے کے سلسلے میں جو دعوے کئے گئے تھے ان کو خود ریزرو بینک آف انڈیا نے غلط قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے ساتھی بھی شاید اسے بے تکا فیصلہ مان چکے تھے۔ اس لئے 2017 کے بعد انہوں نے اس سلسلے میں تبصرہ کرنا بند کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ شاید نریندر مودی ان کے ساتھی اور بی جے پی کے رہنماؤں نے بھی بعد میں سمجھ لیا تھا کہ یہ فیصلہ غلط تھا اس لئے انہوں نے اس سلسلے میں کچھ بھی بولنا بند کر دیا تھا۔ انہیں لگ رہا تھا کہ اس سلسلے میں خاموشی اختیار کرنے سے ملک کے عوام مودی حکومت کے بے تکے فیصلے کو بھول جائے گی لیکن انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ کانگریس ملک کے مفا د میں کام کرتی ہے۔ وہ ایسا نہیں ہونے دے گی اوراس بات کو یقینی بنائے گی کہ ملک کے عوام اور تاریخ کبھی اسے بھول نہیں پائے۔

سونیا گاندھی نے کہا کہ آٹھ نومبر 2016 کو جب نریدنر مودی نے 500 اور 1000 روپے کے نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا تو دعوی کیا تھا کہ اس سے کالا دھن ختم ہو جائے گا، نقلی نوٹ کا کاروبار بند ہوگا اور دہشت گردی پر لگام لگ سکے گی۔ حکومت نے سپریم کورٹ میں بھی دعوی کیا تھا کہ اس سے تین لاکھ کروڑ روپے کا کالا دھن بازار میں نہیں آ پائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس سے دیجیتل اکنامی کو فروغ ملے گی لیکن تین سال ہونے کے بعد ان تمام دعووں کی کیا پیشرفت ہے وہ بتانے سے قاصر ہیں۔

کانگریس صدر نے کہا کہ خود ریزرو بینک نے کہا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد 500 اور 1000روپے کے جتنے نوٹ چلن میں تھے‘ وہ تقریباً سبھی واپس آگئے تھے۔ بڑی تعداد میں نقلی نوٹوں کے کاروبار پر روک لگانے کا دعوی کیا گیا تھا لیکن یہ بہت زیادہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی سے دہشت گردانہ سرگرمیوں پر لگام لگانے کا دعوی کیا گیا تھا لیکن اس کا اثر نہیں ہوا اور نوٹ بندی کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ دعوی خود حکومت نے اپنے اعدادوشمار میں کیا ہے۔ بازار میں نوٹ بندی کے وقت جتنے نوٹ تھے‘ نوٹ بندی کے بعد22 فیصدزیادہ نوٹ چلن میں آئے۔

گاندھی نے کہا کہ اس سے ملک کی معیشت تباہ ہوئی ہے اور چھوٹے موٹے کاروباریوں کے سامنے روزی روٹی کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ ملک میں بے روزگاری کی سطح 45 سال میں سب سے زیادہ رہی ہے۔ مجموعی گھریلوپیداوار کی شرح مسلسل گھٹ رہی ہے اور عالمی ریٹنگ ادارے معیشت کے سلسلے میں منفی اندازے دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان سب سوالوں کے درمیان حکومت کو بتانا چاہئے کہ اس نے تین سال پہلے آج کے دہ نوٹ بندی کا جو فیصلہ کیا تھا اس سے ملک کو کیا ملا۔ مسٹر گاندھی اور ان کے ساتھیوں کو خاموشی توڑنی چاہئے اور اس کی حصولیابیوں سے ملک کو آگاہ کرنا چاہئے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

Published: 8 Nov 2019, 4:07 PM
next