مودی حکومت 2019 میں دکھانا چاہتی ہے ’اچھے دن‘ کا عکس، نظریں آر بی آئی خزانہ پر

سردار پٹیل کی آدم قد مورتی کے سر پر چڑھ کر دیکھنے کی کوشش کی جائے تو بھی ’اچھے دن‘ نظر نہیں آئیں گے۔ ایسی صورت میں اچھے دنوں کا عکس پیش کرنے کے لیے حکومت کی نظر آر بی آئی کے خزانے پر گڑی ہوئی ہے۔

وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

فیض احمد فیض کا یہ شعر ان دنوں یوں ہی یاد نہیں آیا۔ دراصل ریزرو بینک اور مرکزی حکومت کے درمیان رسہ کشی کی وجہ اسی شعر کی وضاحت یعنی تشریح میں پوشیدہ ہے۔ اب یہ بات صاف ہو چکی ہے کہ مرکزی حکومت آخر آر بی آئی سے کیا چاہتی ہے۔ دراصل مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ ریزرو بینک کے پاس جو اربوں روپے کے کیش جمع ہیں، وہ مرکزی حکومت کے ساتھ شیئر کرے۔ لیکن آر بی آئی اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ حکومت کے ارادوں کا اشارہ آر ایس ایس سے جڑی تنظیم سودیشی جاگرن منچ نے دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹر کے ساتھ بات چیت میں سودیشی جاگرن منچ سے منسلک اشونی مہاجن نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ریزرو بینک اپنے تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار کروڑ کے کیش ریزرو کا بڑا حصہ حکومت کو دے تاکہ اس پیسے کو اقتصادی ترقی کا پہیہ دوڑانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔‘‘

یہاں جاننا ضروری ہے کہ آر بی آئی کے پاس آخر ہے کتنا پیسہ جس پر مرکزی حکومت نظریں گڑائے بیٹھی ہے۔ آر بی آئی اپنے خزانے کا ہفتہ واری تفصیلات جاری کرتی ہے۔ 31 اکتوبر یعنی بدھ کو جاری ریزرو بینک کی ’ریزرو منی‘ رپورٹ کے مطابق 26 اکتوبر کو ختم ہفتہ میں اس کے پاس 3.68 لاکھ کروڑ روپے کا کیش ریزرو ہے۔ اس میں سے بڑا حصہ نقدی کی شکل میں چلن میں ہے اور دوسرا بڑا حصہ مرکزی حکومت کو دیا ہوا ہے۔

آخر کیوں چاہیے حکومت کو ریزرو بینک سے پیسہ؟

دراصل گزشتہ کچھ مہینوں میں ملک کی معیشت خستہ حال ہے، بازار میں نقدی کا بحران نظر آنے لگا تھا، آئی ایل ایف ایس جیسی غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیاں اپنا قرض نہیں ادا کر پا رہی ہیں، روپیہ زوال پذیر ہوتا جا رہا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ کا فرق بڑھتا جا رہا ہے، مالی خسارہ بجٹ امکان کی طے مدت سے 5 مہینے پہلے ہی توڑ چکا ہے، ڈھانچہ پر مبنی حلقہ میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی اور حکومت کے کئی منصوبے پیسے کی وجہ سے مشکل حالات میں پہنچے نظر آ رہے ہیں۔ اس سب کی وجہ اس حکومت کا مالیاتی مینجمنٹ یا بدانتظامی ہے جس کے سبب خزانے میں پیسہ ہی نہیں بچا ہے۔

تاکہ 2019 میں نظر آئے اچھے دن!

حکومت کو اب ریزرو بینک سے پیسہ چاہیے، تاکہ ٹھپ ہونے کے دہانے پر پہنچے پروجیکٹ کے لیے سرمایہ کاری کی جا سکے۔ حکومت کے مالیاتی مینجمنٹ اور ڈسپلن پر نظر رکھنے والے ماہرین بتاتے ہیں کہ اس سے حکومت کے کئی مسائل سیدھے سیدھے حل ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلا یہ کہ اس سے معاشی سرگرمیاں پہیہ گھومنے لگے گا اور اس سے کچھ روزگار وغیرہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔ دوسرا یہ کہ مالی خسارہ قابو میں رکھنے میں مدد ملے گی۔ تیسرا یہ کہ جب انفراسٹرکچر شعبہ میں کام ہوگا تو اس میں نجی سیکٹر کی شراکت داری ہوگی، اور حکومت نجی سیکٹر سے سیاسی چندہ کا حصول کر سکے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آر بی آئی کے پیسے کا استعمال کرنے کا نظریہ سودیشی جاگرن منچ سے جڑے رہے ایس گرومورتی کا ہے۔ انھیں گزشتہ دنوں حکومت نے ریزرو بینک بورڈ سے منسلک کیا ہے۔ اکونومک ٹائمز کی خبر کے مطابق ایس گرومورتی نے حال ہی میں آر بی آئی گورنر اُرجت پٹیل کو ایک خط لکھ کر ریزرو بینک کے ڈپٹی گورنر ورل آچاریہ کی شکایت کی ہے۔ اخبار کے مطابق حالانکہ گرومورتی نے اپنے خط کا مضمون بتانے سے انکار کر دیا ہے لیکن مانا جاتا ہے کہ انھوں نے ورل آچاریہ کے اس تبصرہ پر ناراضگی ظاہر کی ہے جس میں آچاریہ نے گزشتہ جمعہ کو آر بی آئی کی خود مختاری میں سرکاری مداخلت کا تذکرہ کیا تھا۔

ورل آچاریہ نے کہا تھا کہ حکومت مداخلت سے کیپٹل مارکیٹ میں بحران آ سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ریزرو بینک کی طاقت میں تخفیف سے بینک کے کام پر منفی اثر پڑے گا۔ آچاریہ کے تبصرہ کے بعد ہی آر بی آئی اور حکومت کی رسہ کشی کھل کر سامنے آ گئی تھی۔ حالانکہ اس کے بعد ہوئی ایف ایس ڈی سی یعنی اقتصادی استحکام اور ترقیاتی کونسل کی میٹنگ میں وزیر مالیات ارون جیٹلی اور آر بی آئی کے گورنر کا آمنا سامنا ہوا تھا۔ اس کے بعد وزارت مالیات نے ایک نوٹیفکیشن جاری کر صفائی دی جس میں کہا تھا کہ حکومت ریزرو بینک کی خود مختاری کا احترام کرتی ہے اور مرکز اور بینک کے درمیان مفاد عامہ کے ایشوز پر رائے مشورہ ہوتا رہتا ہے۔

وزارت مالیات کا یہ بیان رسہ کشی کی آگ میں پانی کے چھینٹے جیسا ہی تھا، لیکن اس کے بعد جس طرح ایس گرومورتی کی اصل تنظیم اور آر ایس ایس سے جڑے سودیشی جاگرن منچ نے دو ٹوک کہا کہ آر بی آئی گورنر حکومت کے حساب سے کام کریں، یا پھر استعفیٰ دے دیں، اس سے جنگ بندی ہوتی نظر نہیں آتی۔

اب چونکہ وہ بات سب کے سامنے آ گئی ہے جس کا فسانے میں ذکر تک نہ تھا، تو ساری نظریں 19 نومبر کو ہونے والی ریزرو بینک بورڈ کی میٹنگ پر ہیں جو گورنر اُرجت پٹیل نے طلب کی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول