جی ایس ٹی شرح بڑھانے کی تیاری میں مودی حکومت، مزید بڑھے گی مہنگائی

حکومت خزانہ میں ہوئی کمی کو جی ایس ٹی شرح بڑھا کر پورا کرنا چاہتی ہے۔ بھلے ہی حکومت کے پاس یہ واحد راستہ بچا ہو، لیکن اس سے عام لوگوں پر جو بوجھ بڑھے گا، اس سے معیشت بری طرح متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

راہل پانڈے

صرف ایک سال کے اندر ہی مرکز کی مودی حکومت نے مالی مینجمنٹ اور معیشت کو چاروں خانے چت کر دیا ہے۔ حالانکہ حکومت اپنی سطح سے ہر کوشش کرتی رہی کہ اسے جہاں سے بھی پیسہ مل سکتا ہے، نکالے، لیکن اس نے جتنی کوششیں کیں، مصیبتیں اتنی ہی بڑھتی چلی گئیں۔ اب حکومت کی نظر جی ایس ٹی شرح پر ہے، اور اگر جی ایس ٹی شرحوں میں اضافہ کیا گیا تو طے مانیے کہ ملک بحران کے بہت ہی برے دور میں پھنس جائے گا۔

گزشتہ کچھ وقت کے دوران جی ایس ٹی شرحوں سے کھلواڑ کرنا وزارت مالیات کا شاید سب سے پسندیدہ کام رہا ہے، لیکن جیسے کہ خبریں آ رہی ہیں کہ جی ایس ٹی کی بنیادی 5 فیصدی کی شرح کو 10-9 فیصد تک بڑھایا گیا تو ایک بہت بڑا بحران سامنے کھڑا ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف مہنگائی میں نئے سرےسے اضافہ ہوگا، بلکہ صارف میں بھی کمی آئے گی اور حکومت کو ملنے والے خزانہ میں زبردست کمی دیکھنے کو ملے گی۔

لیکن حکومت خود ہی یہ بحران کھڑا کر رہی ہے۔ کارپوریٹ ٹیکس میں تخفیف سے پہلے ہی معیشت پر 1.45 لاکھ کروڑ کا بوجھ بڑھا ہے، ایسے میں حکومت کو لگتا ہے کہ جی ایس ٹی شرحوں میں اضافہ سے اسے ہر سال ایک لاکھ کروڑ کی اضافی آمدنی ہوگی۔ اتنا ہی کافی نہیں تھا کہ ہفتہ کو وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے اشارہ دیا کہ وہ نجی انکم ٹیکس کی شرحوں میں تخفیف کے بارے میں بھی غور کر رہی ہیں۔

جی ایس ٹی شرحوں میں اضافہ کو ایک دفع ضروری بھی مان سکتے ہیں کیونکہ کم از کم پانچ ریاستی حکومتیں ان کے حصے کا پیسہ نہ ملنے کو لے کر مرکز کے خلاف مقدمہ کرنے کی تیاری کرتی نظر آ رہی ہیں۔ مرکز پر کیرالہ، دہلی، راجستھان، پنجاب اور مغربی بنگال کا 12000 کروڑ روپیہ بقایہ ہے، لیکن جی ایس ٹی خزانہ میں کمی کے سبب مرکز کے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ وقت سے ان ریاستوں کو بقایہ چکا پائے۔ اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ بقایہ 20 ہزار کروڑ تک پہنچ سکتا ہے، اس سے مرکز پر اور بھی زیادہ مالی دباؤ بنے گا۔

اس سب کو ایک ساتھ جوڑ کر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ وزیر مالیات کی دلچسپی معیشت کو ٹھیک کرنے سے زیادہ خبروں میں بنے رہنے میں ہے۔ یہ خبریں اچھی ہیں یا بری ہیں، اس سے شاید انھیں فرق نہیں پڑتا، لیکن یہ ضرور صاف ہو جاتا ہے کہ ہم بے حد سنگین پریشانی سے دو چار ہیں۔

اس سال کے خزانہ کے ہدف بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور خطرے کی گھنٹی زور سے بج رہی ہے۔ حکومت پہلے 6 مہینے میں اپنے خزانہ کے ہدف کا صرف 37 فیصد ہی حاصل کر پائی ہے، جب کہ اسے 40 فیصد سے تو اوپر ہی ہونا چاہیے تھا۔ اگر کارپوریٹ ٹیکس میں کی گئی تخفیف کو سامنے رکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ پورے سال کا ہدف پورا ہونا مشکل ہے۔ اور یہ ہدف تبھی پورا ہوگا جب حکومت خرچ میں تخفیف کرے۔

ویسے اس محاذ پر خرچ کٹوتی سے اشارہ ملنے لگے ہیں۔ مثلاً پی ایم کسان یوجنا کے لیے اس سال کل 75 ہزار کروڑ کا انتظام تھا، لیکن 30 نومبر تک صرف 36 ہزار کروڑ ہی خرچ کیے گئے ہیں۔ اس طرح پورے سال میں سا کے 50 سے 55 ہزار کروڑ تک ہی پہنچنے کا امکان ہے۔ اسی طرح دیگر سرکاری منصوبوں میں ہونے والے خرچ میں بھی تخفیف کی تیاری ہے۔

حکومت دباؤ میں ہے اور خزانہ میں ہوئی کمی کو جی ایس ٹی شرحیں بڑھا کر پورا کرنا چاہتی ہے۔ بھلے ہی حکومت کے پاس یہ واحد راستہ بچا ہو، لیکن اس سے عام لوگوں پر جو بوجھ بڑھے گا، اس سے معیشت بری طرح متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ساتھ ہی خزانہ میں اور بھی کمی ہونے کے آثار ہیں۔

پہلے ہی صارف میں کمی سامنے آئی ہے، اور جی ایس ٹی شرحوں میں اضافہ سے پروڈکٹس کی فروختگی میں مزید گراوٹ آنے کے آثار ہیں۔ اس کا اثر فوڈ اینڈ سروسز دونوں پر پڑے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ٹیکس شرحیں بڑھانے سے معیشت کی رفتار کم ہوگی؟ جولائی 2017 میں حکومت نے اثرانداز ٹیکس شرح 14.4 فیصد سے گھٹا کر 11.6 فیصد کیا تھا۔ اس شرح پر بھی لوگوں نے خریداری نہیں کی، ایسے میں اگر شرحیں بڑھتی ہیں تو خریداری میں اضافہ کیسے ہوگا، یہ سب سے بڑا سوال ہے۔