معاشی پیکیج کی دوسری قسط: مہاجر مزدوروں کو مفت راشن، ریہڑی-پٹری والوں کو قرض

حکومت نے کورونا وائرس کے سبب نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن سے بری طرح متاثر بغیر راشن کارڈ والے مزدوروں کو آئندہ دو ماہ تک فی فرد پانچ کلو چاول یا گیہوں اور فی کنبہ ایک کلو چنے کی دال مفت دینے کا اعلان کیا

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: حکومت نے کورونا وائرس کے سبب نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن سے بری طرح متاثر بغیر راشن کارڈ والے مزدوروں کو آئندہ دو ماہ تک فی فرد پانچ کلو چاول یا گیہوں اور فی کنبہ ایک کلو چنے کی دال مفت دینے کا جمعرات کے روز اعلان کیا۔

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ’آتم نربھر بھارت ابھیان‘ کے تحت دوسری قسط کا اعلان کرتے ہوئے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ آٹھ کروڑ مہاجر مزدور جو نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے دائرے میں نہیں آتے اور جن کے پاس راشن کارڈ بھی نہیں ہے، انہیں آئندو دو ماہ تک فی فرد پانچ کلو چاول یا گیہوں اور ایک کلو چنے کی دال مفت میں دی جائے گی۔ حکومت اس اسکیم پر 3500 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔ اس اسکیم کو نافذ کرنے کی ذمہ داری ریاستی حکومت کی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ون نیشن ون راشن کارڈ اسکیم نافذ کیا جارہا ہے جس میں کسی بھی ریاست کے راشن کارڈ یافتگان کسی بھی دوسری ریاست میں راشن لے سکے گا۔ اگست تک ملک کی 23 ریاستوں میں 67 کروڑ راشن کارڈ کو اس اسکیم میں شامل کرنے کی تیاری کی گئی ہے جو راشن کارڈ کا 83 فیصد ہیں۔ باقی ریاستوں میں بھی اسے 31 مارچ 2021 تک نافذ کردیا جائے گا۔ یہ آدھار کارڈ لنکڈ اسکیم ہے اور اس کے لئے ٹکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت مہاجر مزدوروں کے ٹرانسپورٹ کے مسئلے کا حل نکالنے کے لئے ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے اور اس کے لئے اسپیشل ریل گاڑیاں چلائی جارہی ہیں۔ اس پر ہونے والے خرچ کا 85 فیصد مرکزی حکومت برداشت کررہی ہے۔ ریاستوں کو ان کی ضرورتوں کے لحاظ سے ریل گاڑیاں دستیاب کرائی جارہی ہیں۔

قبائلیوں کو کیپما فنڈ سے ملیں گے 6000 کروڑ

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ قبائلی، دیہی اور نیم شہری علاقوں میں شجر کاری اور کئی دیگر کام کروائے جائیں گے تاکہ مزدوروں کو روزگار مل سکے۔ اس مقصد سے کیمپا فنڈ سے 6000 کروڑ روپیے مہیا کروائے جائیں گے۔

ریہڑی پٹری والوں کو دس ہزار روپے کا قرض ملے گا

وزیر خزانہ نامہ نگاروں سے کہا ہے کہ اس سے پچاس لاکھ ریہڑی پٹری والوں کو فائدہ ہوگا۔ ایک مہینے میں اس کو شروع کردیا جائے گا۔بینک یہ قرض مہیا کرائےگی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے تحت قرض کا ڈیجیٹل ادائیگی کرنے والوں کومالی فائدہ بھی ملے گا اور ورکنگ سرمایہ میں بھی اضافہ کیا جاسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ مالی منصوبہ میں پچاس ہزار روپے تک چائلڈ لون لینے والوں کو راحت دی جارہی ہے اور اس کے لئے 1500کروڑ روپے کا التزام کیاجارہا ہے۔ اس کے تحت مرکزی حکومت مسلسل قرض ادا کرنے والوں کو ایک برس تک سود میں دو فیصد کی راحت دے گی اور اس کی ادائیگی مرکزی حکومت کرے گی۔