فیوچر ریٹیل لمیٹڈ ہوا کنگال، دیوالیہ قرار دینے کے عمل کو ملی ہری جھنڈی

این سی ایل ٹی کی ممبئی بنچ نے بدھ کے روز بینک آف انڈیا کی عرضی پر سماعت کی، اس کے بعد ٹریبونل نے کہا کہ اس نے قرض میں ڈوبے فیوچر ریٹیل لمیٹڈ کے خلاف دیوالہ کا عمل شروع کرنے کی اجازت دی ہے۔

فیوچر ریٹیل لمیٹڈ
فیوچر ریٹیل لمیٹڈ
user

قومی آوازبیورو

کشور بیانی گروپ کی کمپنی فیوچر ریٹیل لمیٹڈ (ایف آر ایل) کے خلاف دیوالہ کارروائی شروع کرنے کی منظوری مل گئی ہے۔ یہ اجازت نیشنل کمپنی لاء ٹریبونل (این سی ایل ٹی) کی ممبئی بنچ نے دی ہے۔ دراصل اپریل 2022 میں بینک آف انڈیا نے ایف آر ایل کے خلاف دیوالہ معاملے کی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عرضی داخل کی تھی۔ اسی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے این سی ایل ٹی کی ممبئی بنچ نے یہ منظوری دے دی۔

’بزنس ٹوڈے‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق این سی ایل ٹی کی ممبئی بنچ نے بدھ کے روز بینک آف انڈیا کی عرضی پر سماعت کی۔ اس کے بعد ٹریبونل نے کہا کہ اس نے قرض میں ڈوبے فیوچر ریٹیل لمیٹڈ کے خلاف دیوالہ کا عمل شروع کرنے کی اجازت دی ہے۔ این سی ایل ٹی نے دفعہ-7 کے تحت بینک آف انڈیا کی عرضی منظور کر لی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اپریل میں بینک آف انڈیا نے قرض ادا نہ کرنے پر ایف آر ایل کے خلاف دیوالہ کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے این سی ایل ٹی کا رخ کیا تھا۔ بینک آف انڈیا فیوچر ریٹیل لمیٹڈ کی اہم قرض دہندہ ہے۔ وجئے کمار ایر کو کمپنی کا ’آئی آر پی‘ تقرر کیا گیا ہے۔


آج ہوئی سماعت میں این سی ایل ٹی نے امیزون کے ذریعہ اس معاملے میں داخل مداخلت کی عرضی کو خارج کر دیا۔ یعنی ایف آر ایل کو اب جلد ہی دیوالیہ عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گزشتہ 12 مئی کو داخل کی گئی اپنی عرضی میں امیزون نے دلیل دی تھی کہ ایف آر ایل نے اکتوبر 2020 میں آئے سنگاپور ثالثی کے فیصلے کا احترام نہیں کیا ہے۔ حالانکہ بینک آف انڈیا نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ ایف آر ایل کے خلاف قرض دہندہ کی عرضی کا امیزون سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ یہ کارروائی آر بی آئی کی ہدایات اور دیوالہ اور دیوالیہ پن کوڈ (آئی بی سی) کے التزامات کے مطابق ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیوچر ریٹیل لمیٹڈ (ایف آر ایل) اپنے قرض دہندگان کو 5322.32 کروڑ روپے کی ادائیگی کر چکی ہے۔ اس درمیان فیوچر گروپ کا ریلائنس کے ساتھ ہونے والا مجوزہ سودا رَد ہو گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔