تلنگانہ: 182914 کروڑ کا بجٹ پیش، اقلیتوں کی بہبود کے لئے 1518 کروڑ روپئے مختص

مندروں کی ترقی کے لئے 500کروڑ روپئے الاٹ کیے گئے ہیں۔ جنگلات وماحولیات کے محکمہ کے لئے 791 کروڑ روپئے الاٹ کیے گئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر فائنانس ہریش راؤ نے آج اسمبلی میں 2020-21 کے لئے 1,82,914کروڑ روپئے کا بجٹ پیش کیا۔ اس بجٹ میں اقلیتوں کی بہبود کے لئے 1518 کروڑ روپئے مختص کیے گئے ہیں۔آج اسمبلی کی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی نے یوم خواتین کی مبارکباد پیش کی جس کے بعد ہریش راؤ نے اپنی بجٹ تقریر میں تلنگانہ حکومت کی ترقیاتی اسکیمات اور فلاحی اقدامات کا مکمل احاطہ کیا۔

تلنگانہ: 182914 کروڑ کا بجٹ پیش، اقلیتوں کی بہبود کے لئے 1518 کروڑ روپئے مختص

انہوں نے بجٹ تقریر میں کہا کہ بلدی نظم ونسق وشہری ترقی کے لئے 14,800کروڑ روپے، موسی ندی کی ترقی کے لئے 10,000کروڑ روپئے، 38 بلدیات میں مشن بھاگیرتا کے لئے 800 کروڑر وپئے، بی سی طبقہ کی بہبود کے لئے 4356.82 کروڑ روپئے، ایم بی سی کارپوریشن کے لئے 500 کروڑ روپئے، کلیانا لکشمی اسکیم کے لئے 1350کروڑ روپئے (سابق بجٹ میں 650 کروڑروپئے کا اضافہ)، سمکیات و افزائش مویشیاں کیلئے 1586کروڑ روپئے الاٹ کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 100کروڑ روپئے صد فیصد خواندگی کے لئے الاٹ کیے گئے ہیں۔ محکمہ صحت وطبابت کے لئے 6186 کروڑ روپئے مختص کیے گئے ہیں۔ آبپاشی کے شعبہ کے لئے گزشتہ کے مقابلہ زائد رقم الاٹ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرون تین ماہ سرکاری اراضیات پر عوامی بیت الخلاوں کی تعمیر کے کام انجام دیئے جائیں گے۔ کسانوں کی بہبود کو حکومت ترجیح دے رہی ہے۔ ان کے وظائف اور تمام طبقات کی ترقی تلنگانہ حکومت کا اصل ایجنڈہ ہے۔

تلنگانہ: 182914 کروڑ کا بجٹ پیش، اقلیتوں کی بہبود کے لئے 1518 کروڑ روپئے مختص

ہریش راو نے کہا کہ گاوں کی ترقی پروگرام کے تحت کیے گئے ترقیاتی کاموں کے نتیجہ میں مواضعات کی ہئیت تبدیل ہو رہی ہے۔ نئے مالیاتی سال سے خواتین گروپس کو سود سے پاک قرضہ جات فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی چیلنجس کا سامنا کرنے کے باوجود تلنگانہ حکومت کی جانب سے ریاست کی ہمہ گیر ترقی کے مقاصد کے ساتھ اس بجٹ کو پیش کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں درجہ حرارت میں اضافہ کے نتیجہ میں کرونا وائرس کا اثر نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رعیتوبیمہ کے لئے 1141کروڑروپئے الاٹ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی کسان کی کسی بھی حالت میں موت کے اندرون دس دن اس کے خاندان کو پانچ لاکھ روپئے رقم کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے پاس بکس منظور کرتے ہوئے رعیتو بندھو کے استفادہ کنندگان کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی وعدہ کے مطابق ہر کسان کو فی ایکڑ دس ہزار روپے کی رقم حکومت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراضیات کی فروخت کے ذریعہ آمدنی میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس بجٹ میں محکمہ داخلہ کے لئے 5852کروڑ روپئے الاٹ کیے گئے ہیں۔ حلقوں کی ترقی کے لئے ارکان اسمبلی وکونسل کے لئے خصوصی فنڈس الاٹ کیے گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ،عمارات وشوارع کے محکمہ جات کے لئے 3494کروڑ روپئے الاٹ کیے گئے ہیں۔ تعلیم، امکنہ، ٹرانسپورٹ، دیہی ترقی، بلدی نظم ونسق جیسے محکمہ جات کے لئے قابل قدر رقمی الاٹمنٹ کئے گئے ہیں۔

مندروں کی ترقی کے لئے 500کروڑ روپئے الاٹ کیے گئے ہیں۔ جنگلات وماحولیات کے محکمہ کے لئے 791 کروڑ روپئے الاٹ کیے گئے ہیں۔ مکانات تعمیر کرنے کے خواہشمند خود کی اراضی رکھنے والے تقریباً ایک لاکھ افراد کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ محکمہ بجلی کے لئے 10,416کروڑ روپئے مختص کیے گئے ہیں۔ زرعی مقصد کے پانی کے لئے 350کروڑ روپئے الاٹ کیے گئے ہیں۔ ہریش راو نے تقریباً ایک گھنٹہ کی بجٹ تقریر کی۔ یہ ان کا پہلا بجٹ ہے۔ ریاستی قانون سازکونسل میں وزیر ایم پرشانت ریڈی نے بجٹ پیش کیا۔