تانبا، ایلومینیم اور نکل کی قیمتوں میں تیزی؛ اے سی، باتھ فٹنگ اور کچن کا سامان مہنگا ہونے کا خدشہ
عالمی منڈی میں تانبا، ایلومینیم اور نکل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مینوفیکچررز کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں اے سی، باتھ فٹنگ اور کچن کے سامان کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں

نئی دہلی: عالمی منڈی میں تانبا، ایلومینیم اور نکل جیسی بنیادی دھاتوں کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ گھریلو صارفین کے لیے مہنگائی کا سبب بن سکتا ہے۔ ان دھاتوں پر انحصار کرنے والی صنعتوں، خاص طور پر اے سی، باتھ فٹنگ، کچن کے آلات اور کک ویئر بنانے والی کمپنیوں پر لاگت کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جس کا اثر آئندہ دنوں میں صارفین تک پہنچنے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی بازار میں ایلومینیم کی قیمت 3 ہزار ڈالر فی ٹن سے تجاوز کر گئی ہے، جو گزشتہ 3 برسوں کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ تانبا 12 ہزار ڈالر فی ٹن کی آل ٹائم ہائی سطح کے پار پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق دھاتوں کی اس غیر معمولی تیزی نے مینوفیکچرنگ لاگت میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور بہت سی کمپنیاں مزید بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں۔
ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج پر تانبا 1300 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔ صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ منافع برقرار رکھنے کے لیے کئی مینوفیکچررز قیمتوں میں 5 سے 8 فیصد تک اضافہ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ باتھ ویئر تیار کرنے والی کمپنیوں کو بھی دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ تانبا پر مبنی دھات پیتل کی قیمتیں مالی سال کے آغاز سے دوہرے ہندسوں میں بڑھ چکی ہیں۔
ایلومینیم کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ چین میں اسمیلٹنگ صلاحیت پر عائد پابندیاں اور یورپ میں توانائی کی بلند لاگت کے باعث پیداوار میں کمی ہے۔ اس کے برعکس تعمیرات، قابلِ تجدید توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں سے طویل مدت کی طلب مضبوط بنی ہوئی ہے، جس نے قیمتوں کو مزید سہارا دیا ہے۔
تانبے کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر دو ہزار نو کے بعد سب سے بڑی بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ انڈونیشیا، چلی اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں کان کنی کے حادثات، چلی کی ایک بڑی کان میں مزدوروں کی ہڑتال اور عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اسی طرح انڈونیشیا کی جانب سے پیداوار میں کٹوتی کے اشارے اور ایک کان میں عارضی روک نے نکل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔
دوسری جانب قیمتی دھاتوں میں بھی غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔ رواں سال کے دوران سونے نے تقریباً پینسٹھ فیصد اور چاندی نے ایک سو پینتالیس فیصد کے قریب منافع دیا ہے، جس سے مجموعی طور پر دھاتوں کی منڈی میں تیزی کا رجحان واضح ہوتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔