’مودی کی کٹھ پتلی ہیں شندے، ممبئی کو گجرات کے حوالہ کرنے کے لئے لائے گئے!‘

’ویدانتا – فاکسکون‘ کے سیمی کنڈکٹر پروجیکٹ کو مہاراشٹر  سے گجرات منتقل کئے جانے پر سیاست دان اور کاروباری افراد افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

سجاتا آنندن اور آدتیہ آنند

اپنے منشی سے انعام دینے کا وعدہ کرنے والے زمیندار کی طرح نریندر مودی نے  بھی مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو یقین دہانی کرائی کہ ’’فکر نہ کریں۔ اگلا بڑا پروجیکٹ میں آپ کو ہی دوں گا!‘‘

یہ بیان بی جے پی اور شندے کے بارے میں بہت کچھ ظاہر کرتا ہے۔ مہا وکاس اگھاڑی حکومت نے مودی کے بڑے پروجیکٹوں کو مہاراشٹر سے گجرات منتقل کرنے اور ممبئی کو اس کے وسائل سے محروم کرنے کی کوششوں کے خلاف سخت احتجاج درج کرایا تھا۔ مودی اور ممبئی کے درمیان جاری یہ جنگ اس قدیم لڑائی کا حصہ ہے جو گجراتیوں کی طرف سے ممبئی پر قبضہ کرنے اور مہاراشٹر کے باشندگان کی اہمیت کو کم کرنے کے لئے کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اور مہاراشٹریوں و ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کے درمیان عدم اعتماد کی کھائی بڑھتی جا رہی ہے۔

لیکن اب جبکہ شندے اور ان کے نائب دیویندر فڈنویس کی کوئی رائے لئے بغیر 1,54,000 کروڑ روپے کے ویدانتا-فاکسکون پروجیکٹ کو ان کی آبائی ریاست سے باہر کر دیا گیا ہے، یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ بی جے پی مہاراشٹر میں کٹھ پتلی حکومت کیوں چاہتی تھی! کیونکہ ایم وی اے اس طرح کے تمام حربوں کے خلاف سخت مزاحمت کر رہی تھی اور مہاراشٹر کے مقابلہ گجرات کی قدر میں اضافہ کرنے کے مودی اور امت شاہ کے وسیع تر منصوبوں پر قدغن لگا رہی تھی۔ وزیر اعلیٰ کے طور پر ایکناتھ شندے کا انتخاب ایک تیر سے دو شکار کی طرح ہے۔ اپنے جنگجو والے پس منظر کے باوجود  شندے میں وہ جرأت نہیں ہے کہ مرکز کے سامنے کھڑے ہو سکیں۔ فڈنویس کو ان کا نائب بنانے کا مطلب یہ ہے کہ جب فڈنویس حقیقت میں فیصلے لیتے ہیں اور حکومت چلاتے ہیں، وہ ممبئی اور مہاراشٹر کو غرق کرنے کے الزام سے بچ جاتے ہیں، جس کا ٹھیکرا اب نمایاں طور پر شندے کے سر پھوڑا جا رہا ہے!


اس معاملے میں ایم وی اے کے تینوں اتحادیوں کی جانب سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے نے ویدانتا-فاکسکون کو ریاست میں برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد نہ کرنے اور ریاست کو روزگار کے بے شمار مواقع سے محروم کرنے کے لیے ’ای ڈی حکومت‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ’اس غیر آئینی حکومت‘ کو تین لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے ’بلک ڈرگ پارک پروجیکٹ‘ کو تین دیگر ریاستوں - گجرات، ہماچل پردیش اور آندھرا پردیش  میں منتقل کرنے کی اجازت دے کر ترقی میں دلچسپی نہ لینے کا الزام عائد کیا۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی مہاراشٹر کے صدر جینت پاٹل تو براہ راست حملہ بولتے ہوئے کہتے ہیں کہ شندے حکومت مہاراشٹر کے بجائے گجرات کی مدد کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے تاکہ بی جے پی کو وہاں انتخابات جیتنے میں آسانی ہو!

مہاراشٹر پردیش کانگریس کے سربراہ نانا پٹولے کم الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے شندے کو ’ ڈمی‘ وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شندے خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے تھے اور یہاں تک کہ اس پروجیکٹ کو پونے کے تلیگاؤں سے منتقل کر دیا گیا، جہاں اس سے مختلف لوگوں کے لیے 200,000 ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر فڈنویس پر الزام لگایا کہ انہوں نے اپنی وزیر اعلیٰ مدت کار میں بہت سے پروجیکٹوں کو بغیر کسی مزاحمت کے گجرات منتقل کرنے کی اجازت دے کر منظم طریقے سے ممبئی اور مہاراشٹرا کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’مجھے حیرت نہیں ہوگی اگر ’ای ڈی حکومت‘ ممبئی کے ذخائر اور بیرل کو گجرات کے حوالے کرنے کی سازش میں ملوث پائی جائے!‘‘


تاہم غصہ صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں ہے۔ صنعت کاروں اور کاروباریوں نے بھی مراٹھا چیمبرز آف کامرس، انڈسٹریز اینڈ ایگریکلچر (ایم اے سی سی آئی اے) کے ڈائریکٹر پرشانت گیربانے سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’یہ افسوسناک ہے کہ مہاراشٹر نے اتنی بڑی، مستقبل کی مینوفیکچرنگ سہولت کی میزبانی کا موقع کھو دیا۔ مہاراشٹر کو سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ریاستی حکومت کی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے میں خوشی ہوگی۔‘‘

لیکن اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا شندے اور فڈنویس کی قیادت والی یہ حکومت مہاراشٹر میں سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے میں واقعی دلچسپی رکھتی ہے؟ ویدانتا فاکسکون پروجیکٹ کا گجرات منتقل ہونا مہاراشٹر کے لیے حقیقی نقصان ہے (حالانکہ ہندوستان کے لیے نہیں) کیونکہ دنیا میں صرف کوریا کے پاس ایسا ہی پروجیکٹ ہے۔ یہ تلیگاؤں میں 10 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوتا اور اس کے آس پاس بہت سی ذیلی صنعتیں قائم کی جاتیں۔


مربوط ڈسپلے اور سیمی کنڈکٹرز تیار کرنے کے اس پروجیکٹ میں ملٹی نیشنل مائننگ کمپنی ویدانتا لمیٹڈ اور تائیوان کی فاکس کان کے درمیان  بالترتیب 60 فیصد اور 40 فیصد کی شراکت داری ہے۔  گجرات کے ساتھ دستخط شدہ ایم او یو کے مطابق، کل 1,54,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری میں سے 94,000 کروڑ روپے ڈسپلے کی مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرنے کے لیے اور 60,000 کروڑ روپے سیمی کنڈکٹرز تیار کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ مجوزہ مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام پیچیدہ اور نازک آلات کی تیاری، اعلیٰ طہارت والی گیسوں کی سپلائی، کیمیکلز، فوٹو ماسک اور دیگر متعلقہ آلات سروس فراہم کرنے والی یونٹ کے طور بھی کام کرے گا۔

ہندوستان کو الیکٹرانکس میں خود مختار بنانے کے لئے لائے جا رہے اس پروجیکٹ کو اگر مہاراشٹر میں قائم کیا جاتا، تو ایک اندازے کے مطابق ریاستی جی ایس ٹی میں 26200 کروڑ روپے کے اضافہ کے ساتھ ریاستی جی ڈی پی میں نمایاں اضافہ ہوتا، بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر 80000 سے ایک لاکھ ملازمتوں کے مواقع حاصل ہوتے، 21 بلین ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری اور 5 سے 8 بلین کی اضافی سرمایہ کاری حاصل ہوتی۔ اس کے علاوہ اس پروجیکٹ سے مہاراشٹر میں 150 سے زیادہ کاروباری اداروں کو بھی فائدہ پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔


مہاراشٹر حکومت کی طرف سے پونے کے قریب تلیگاؤں صنعتی علاقے میں پلانٹ کے قیام کے لیے سرمایہ پر 30 فیصد تک کی سبسڈی فراہم کی جانی تھی۔ ترغیبی پیکیج میں ویدانتا کے لیے 750 میگاواٹ کی سولر پاور یونٹ کے قیام کے ساتھ ساتھ ایک روپے فی یونٹ بجلی کی قیمتوں میں سبسڈی بھی شامل تھی۔ زمین، پانی اور بجلی کے اخراجات کے لیے سبسڈی کے ساتھ، مہاراشٹر حکومت نے اسٹامپ ڈیوٹی اور بجلی میں بھی رعایت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مزید برآں ویدانتا فاکسکون کو ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے بھی مراعات فراہم کی جاتیں۔

تلیگاؤں میں اس پروجیکٹ کے لئے الیکٹرانکس شہر کے قیام کے مقصد سے 10 ہزار ایکڑ کی معقول زمین فراہم کی جا رہی تھی، جبکہ برعکس گجرات کے دھولیڑا کی زمین اتنی معقول نہیں ہے۔ اس کے علاوہ گجرات کے برعکس مہاراشٹر کی سائٹ پونے کے قریب ہے اور شہر میں پائی جانے والی سہولیات تک آسان رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ ویدانتا-فاکسکون کے 22 بلین امریکی ڈالر کے منصوبے کے لئے تلیگاؤں اور بھی کئی وجوہات کی بنا پر زیادہ معقول ثابت ہوتا۔ مثلاً یہاں زیادہ ہنرمند مزدوروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ مقام بندرگاہوں سے رابطہ میں ہے، یہاں بہتر گھریلو سپلائی چین اور ترقی یافتہ صنعتی انفراسٹرکچر بھی موجود ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔