سینسیکس 2467 پوائنٹس نیچے، شیئر مارکیٹ میں ہڑکمپ، دس سالوں کی سب سے بڑی گراوٹ

آج شیئر مارکیٹ میں کاروبار آغاز سے ہی فروخت کے دباؤ میں رہا اور آخر میں 2467 پوائنٹس یعنی 6.56 فیصد نیچے آگیا جو گزشتہ دس سالوں کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بازار میں زبردست گراوٹ کی وجہ سے شئیر مارکیٹ میں حالات سنگین ہو گئے ہیں اور دس سال میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے جب شئیر مارکیٹ میں اتنے پوائنٹس کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ سینسیکس کے2467 پوائنٹس نیچے آنے کی وجہ سے اس وقت سینسیکس 35,109.18 پر آ گیا ہے۔

يس بینک اور کورونا وائرس کے اثرات سے ملک کا اسٹاک مارکیٹ بری طرح متاثر ہے۔ کاروباری ہفتے کے پہلے دن چاروں طرفہ فروخت کے دباؤ میں نفٹی 695 پوائنٹس گر کر 10,294.45 پر آگیا ہے۔

پیر کو آغاز میں ہی سینسیکس جمعہ کو بند 37576.62 کے مقابلے میں 626.42 پوائنٹس گھٹ کر 37 ہزار سے نیچے 36950.20 پوائنٹس پر کھلا۔ کاروبار کے شروع سے ہی چہار جانب فروخت کا دباؤ رہنے سے تقریباً 1200 پوائنٹس نیچے یعنی 36388.28 پوائنٹس پر آ گیا۔ اس کے بعد معمولی بہتری سے یہ 36427.44 پوائنٹس پر پہنچا۔ یہ سطح جمعہ کے بند کے مقابلہ میں تقریباً 1150 پوائنٹس نیچے ہے لیکن اس کے بعد بازار میں مزید گراوٹ آئی۔

اس سارے معاملہ پر کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹوئٹ کر کے کہا ’’سینسیکس 2419 پوائنٹس نیچے آیا (گزشتہ دس سال میں سب سے زیادہ)۔ ایک امریکی ڈالر کی قیمت ہندوستانی روپے میں 74.04 روپے (اب تک کی سب سے کم)۔ آئی ڈی بی آئی بینک، پی ایم سی بینک، آئی ایل اینڈ ایف سی اور یس بینک کے ڈوبنے کی وجہ سے لوگوں کا بینکنگ نظام پر سے اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ لیکن میڈیا صرف یہی کہے گا۔ جے مودی جی۔ اچھے دن یہاں پر ہیں۔‘‘

گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری دن اسٹاک مارکیٹ میں زبردست افراتفری تھی اور جمعہ کو کاروبار کے اختتام پر بی ایس ای کا سینسیکس 893.99 پوائنٹس اور نفٹی بھی 289.45 پوائنٹس گرکر بالترتیب 37576.62 اور 10979.55 پوائنٹس پر بند ہوا۔