پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں بی جے پی کی نااہلی کا ثبوت، ڈی کے شیو کمار

کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیو کمار نے کہا، اس سال جنوری سے پٹرول کی قیمتوں میں 43 فیصد کا اضافہ واضح طور پر مرکز کی نااہلی کو بیان کرتا ہے

ڈی کے شیو کمار / آئی اے این ایس
ڈی کے شیو کمار / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

رام نگر: کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر ڈی کے شیو کمار نے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے حوالہ سے بی جے پی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس سال جنوری سے پٹرول کی قیمتوں میں 43 فیصد کا اضافہ واضح طور پر مرکز کی نااہلی کو بیان کرتا ہے۔ شیو کمار نے ہفتہ کے روز وبا سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

ڈی کے شیو کمار نے میڈیا سے کہا کہ ملک کے کئی علاقوں میں پٹرول کے دام 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئے ہیں جبکہ خوردنی تیل کی قیمتیں بھی 220 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہیں، جو کہ معاشی گڑبڑی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

کے پی سی سی کے صدر نے کہا کہ برسر اقتدار بی جے پی نے جنوری میں 10 مرتبہ، فروری میں 16 مرتبہ، مئی میں 16 مرتبہ اور جون کے پہلے ہفتہ میں ایک مرتبہ تیل کے داموں میں اضافہ کیا ہے لیکن مارچ اور اپریل کے مہینوں میں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، اس کے پیچھے کی وجہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیل قیمتوں میں مارچ اور اپریل میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا کیونکہ پانچ ریاستوں میں انتخابات تھے۔ اس کے بعد پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں بارہا اضافہ صاف طور پر عام آدمی کے لئے ایندھن کو سستا کرنے کے برسر اقتدار بی جے پی کے عزم کی حقیقت بیان کرتا ہے۔

شیو کمار نے کہا ، ’’آئیے، ہم تمام پٹرول پمپوں پر جائیں اور اپنے احتجاج کو درج کرنے کے لئے مشینوں پر گلہائے عقیدت پیش کریں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔