جو کہا تھا وہ کیا، ریلائنس انڈسٹریز اب قرض سے آزاد: مکیش امبانی

ملک کے سب سے دولت مند اور ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ (آر آئی ایل) کے مالک مکیش امبانی نے اس گروپ کو مکمل طور پر قرض سے پاک ہونے کا اعلان کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: ملک کے سب سے دولت مند اور ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ (آر آئی ایل) کے مالک مکیش امبانی نے اس گروپ کو مکمل طور پر قرض سے پاک ہونے کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کے روز امبانی نے آر آئی ایل کو قرض سے مکمل طور پر آزاد ہونے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گروپ میں سرمایہ کاروں کے ذریعہ حاصل اعتماد اور ریلائنس کے رائٹ ایشو کوملنے والی زوردار حمایت سے ساڑھے نو ماہ قبل اس ہدف کو حاصل کرنے میں کامیابی مل گئی۔

مکیش امبانی نے 12 اگست 2019 کو مارچ 2021 تک آر آئی ایل کو قرض سے آزاد کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا اور رواں سال 31 مارچ تک اس گروپ پر ایک لاکھ 61 ہزار 35 کروڑ روپے کا قرض تھا۔ کمپنی نے صرف 58 دن میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 68 ہزار 818 کروڑ روپئے اکٹھے کئے جو دس سرمایہ کاروں کی گیارہ تجاویز اور رائٹ ایشو سے کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے باوجود اس کے خالص قرض سے زیادہ ہے۔

کمپنی نے جیو پلیٹ فارمز میں 11 سرمایہ کاری تجاویز میں 24.70 فیصد ایکویٹی فروخت کرکے 1.15 لاکھ 693 کروڑ 93 لاکھ روپے اکٹھے کئے۔ اس کے علاوہ 30 برسوں میں پہلی بار لائے گئے رائٹ ایشو سے 53124.20 کروڑ روپے ہے۔ کسی غیر مالیاتی ادارہ کے10 سال میں آئے رائٹ ایشو کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے تنگی کے باوجودحجم کے مقابلہ میں 1.59 گنا زیادہ حمایت ملی ۔ کمپنی نے پندرہ شیئروں پر ایک شیئر رائٹ رائٹ ایشو پردیا ہے۔ امبانی نے کہا کہ پیٹرو جوائنٹ وینچر میں بی پی کو فروخت کی جانے والی ایکویٹی سمیت جمع کی گئی مجموعی رقم 1.75 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہوگئی ہے۔

امبانی نے قرض سے آزاد ہونے کا اعلان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیئرز ہولڈروں سے کئے گئے وعدے کو ہدف سے پہلے حاصل کرنے مطلع کر کے وہ بہت خوش ہیں۔ ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ اتنے کم وقت میں عالمی سطح پر اتنا سرمایہ اکٹھا کرنا ایک ریکارڈ ہے۔ یہ ہندوستانی کارپوریٹ کی تاریخ کے لئے بھی بے مثال ہے۔ کووڈ۔19 وبائی مرض کے وقت جب لیکویڈیٹی سخت ہو تو اتنی بڑی رقم جمع کرکے جبکہ ہندوستان اور بیرون ملک لاک ڈاو¿ن تھا اور خود کمپنی میں سرمایہ کاروں اور شیئر ہولڈرز کا کمپنی میں اعتماد ناقابل تصور اور انتہائی اہم ہے۔

قرض سے آزادہونے کے موقع پر اظہار تشکر کرتے ہوئے امبانی نے کہا ”میں آج 31 مارچ 2021 کے مقررہ ہدف سے قبل ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرز ہولڈرز سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کرنے پر آج میں بے حد خوش ہوں۔ ہمارے شیئر ہولڈراور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کی توقعات پر پورا اترنا ہماری روایت رہی ہے۔ اسلئے ریلائنس کے قرض سے پاک کمپنی بننے کے فخر موقع پر ، میں یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس سنہرے عشرہ میں ، ریلائنس اوربھی زیادہ کثیر المقاصد اہداف حاصل کر کے اور ان ہداف کوحاصل کرنے کیلئے ہمارے بانی و سرپرست دھیر بھائی بھائی امبانی کے اس نظریہ کو پوری طرح اپنائے گا جو ہندوستان کی خوشحالی اور جامع شرح نمو میں ہمارے تعاون کو مستقل طور پر بڑھانے کا رہاہے۔“۔

انہوں نے مزید کہا ”گزشتہ کچھ ہفتوں سے ہم جیو میں سرمایہ کاری کیلئے عالمی مالیاتی برادری کی ناقابل یقین دلچسپی سے مبہوت ہیں۔ مالیاتی سرمایہ کاروں سے رقوم اکٹھا کرنے کا ہدف حاصل ہوچکا ہے۔ ہم اپنے اہم سرمایہ کاروں کے گروپ کا دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کا گرم جوشی سے جیو پلیٹ فارمز میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ میں تمام خوردہ اور ملکی اور غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کا رائٹ ایشو میں بھاری اور ریکارڈ شراکت کے لئے خلوص دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔“۔

کورونا وائرس کے مشکل دور میں مکیش امبانی کے جیو پلیٹ فارمز نے نو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں 115693.95 کروڑ روپے جمع کیے۔ لاک ڈاؤن کے درمیان جیو پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری کا آغاز 22 اپریل کو سوشل میڈیا کے سرخیل فیس بک کے ساتھ ہوا۔ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں دس سرمایہ کاروں کی گیارہ سرمایہ کاری تجاویز میں جیو پلیٹ فارمز میں 24.70 فیصد ایکویٹی کے لئے 1115693.95 کروڑ روپے رکھے گئے۔ جیو پلیٹ فارمز ریلائنس کی مکمل ملکیت والی کمپنی برقرار رہے گی۔

سرمایہ کاری کی بڑی رقم جیو پلیٹ فارمز کے 4.91 لاکھ کروڑ روپے کی ایکویٹی پرائز اور 5.16 لاکھ کروڑ روپے وینچر بیس پرائز پر ملی ہے۔ جیو پلیٹ فارمز میں پہلی سرمایہ کاری فیس بک کی 22 اپریل کو ہوئی تھی۔ فیس بک نے 43,574 کروڑ روپے سے 9.99 فیصد حصہ داری خریدی ہے اور آج تک جیو پلیٹ فارم میں یہ سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔

اس کے بعد دنیا کی سب سے بڑیتکنیکی سرمایہ کار کمپنی سلور لیک نے 4 مئی کو جیو پلیٹ فارم میں 1.15 فیصد حصہ داری 5665.75 کروڑ روپے میں 1.15 فیصد حصہ داری خریدی ۔ پھر 8 مئی کو ، امریکہ کی وسٹا ایکویٹی پارٹنر نے 11367 کروڑ روپے میں جیوپلیٹ فارمز میں 2.32 فیصد حصہ داری خرید نے کا اعلان کیا۔یہ سلسلہ آگے بڑھا اور 17 مئی کو عالمی ایکویٹی فرم جنرل اٹلانٹک نے 6598.38 کروڑروپے میں 1.34 فیصد حصہ حاصل کیا۔ اس کے بعد امریکی ایکویٹی سرمایہ کار کے کے آر نے 22 مئی کو 2.32 فیصد حصص 11367 کروڑ روپے میں خریدا۔5 جون کو ابوظہبی کی ’مبادلہ‘ اور نجی سرمایہ کار کمپنی سلور لیک نے بھی جیو پلیٹ فارم میں سرمایہ کی اور 1.85 فیصد حصص کے لئے 9093.60 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ، جبکہ سلور لیک نے اسی دن جیو پلیٹ فارمز میں 0.93 فیصد حصص کیلئے 4546.80 کروڑ روپے کی نئی سرمایہ کاری کی۔

اس سے جیو پلیٹ فارمز میں سلور لیک کے ذریعہ مجموعی سرمایہ کاری 10202.55 کروڑروپے اور کل حصہ داری 2.08 فیصد ہوگئی۔ابو ظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی (اے آئی ڈی اے ) نے جیو پلیٹ فارم میں 1.16 فیصد حصص کے لئے 5683.50 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے بعد ٹی پی جی نے 459.08 کروڑ میں 0.93 فیصد حصص کی سرمایہ کاری کی اور ایل کیٹرٹننے 0.39 فیصد کیلئے 1894.5 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔