’یَس بینک‘ کے ری-اسٹرکچر منصوبہ کو منظوری، ایس بی آئی خریدے گا 49 فیصد شیئر

آئی سی آئی سی آئی بینک نے یَس بینک میں 1000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح آئی سی آئی سی آئی بینک کی یَس بینک میں 5 فیصد شراکت داری ہوگی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

’یَس بینک‘ بحران کے تعلق سے آج مرکزی حکومت نے ایک انتہائی اہم فیصلہ لیا اور اس بینک کے ری-اسٹرکچر منصوبہ کو کابینہ میٹنگ میں باضابطہ منظوری دے دی۔ مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے اس تعلق سے میڈیا کو جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ یَس بینک میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) 49 فیصد شیئر کی خریداری کرے گا اور بہت جلد یَس بینک میں پیدا بحران ختم ہو جائے گا۔

نرملا سیتارمن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس تعلق سے کچھ تفصیلات سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ 26 فیصد شیئر میں 3 سال کا ’لاک اِن‘ ہے۔ یعنی کہ ایک بار خریدنے کے بعد 3 سال تک کے لیے ان شیئروں کو نہیں فروخت کیا جا سکے گا۔ ساتھ ہی نجی سرمایہ کاروں کو بھی اس کے لیے آگے آنے کو کہا گیا ہے۔ نجی سرمایہ کاروں کے لیے بھی 3 سال کا ’لاک اِن‘ پیریڈہوگا۔ اس درمیان آئی سی آئی سی آئی بینک نے یَس بینک میں 1000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح آئی سی آئی سی آئی بینک کی یَس بینک میں 5 فیصد شراکت داری ہوگی۔

مرکزی حکومت کے اس قدم کے بعدیَس بینک کے اکاؤنٹ ہولڈرس کچھ راحت کی سانس لے سکتے ہیں۔ ایسا اس لیے بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے اشارہ دیا ہے کہ ری-اسٹرکچرنگ منصوبہ سے متعلق نوٹیفکیشن جلد جاری کر دیا جائے گا اور اس کے تین دن کے اندر یَس بینک پر آر بی آئی کی پابندیوں کو بھی ہٹا دیا جائے گا۔ گویا کہ 3 اپریل 2020 تک یَس بینک اکاؤنٹ ہولڈرس پر محض 50 ہزار روپے نکالنے کی حد جو طے کی گئی ہے، وہ پابندی ختم ہو جائے گی۔