ریپو ریٹ 5.25 فیصد پر برقرار، جی ڈی پی شرح نمو کا تخمینہ 7.4 فیصد کیا گیا

آر بی آئی نے ریپو ریٹ 5.25 فیصد پر برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ مہنگائی قابو میں ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے جی ڈی پی شرح نمو کا تخمینہ 7.4 فیصد کیا گیا، تاہم فیصلے کے بعد بازار حصص میں گراوٹ دیکھی گئی

<div class="paragraphs"><p>آر بی آئی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ریزرو بینک آف انڈیا نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کی حالیہ میٹنگ میں ریپو ریٹ میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک نے شرح سود کو 5.25 فیصد پر برقرار رکھا ہے، جس کے نتیجے میں قرض لینے والوں کی ماہانہ قسطوں پر فوری طور پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ گورنر سنجے ملہوترا نے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کے باوجود ملک میں مہنگائی قابو میں ہے اور یہ ریزرو بینک کی مقررہ حد سے نیچے برقرار ہے۔

گورنر کے مطابق مہنگائی کی شرح تقریباً 4 فیصد کے آس پاس ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ملکی معیشت پر قیمتوں کے دباؤ میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں ملک کو مجموعی گھریلو پیداوار اور مہنگائی کے اعداد و شمار کے لیے نیا بنیادی سال ملنے والا ہے، جس سے معاشی اشاریوں کا اندازہ مزید حقیقت کے قریب ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی معیشت لچکدار بنی ہوئی ہے اور گھریلو سطح پر استحکام نظر آ رہا ہے۔


ریزرو بینک نے مالی سال 2025-26 کے لیے شرح نمو کے تخمینے میں معمولی اضافہ کرتے ہوئے اسے 7.3 فیصد سے بڑھا کر 7.4 فیصد کر دیا ہے۔ گورنر نے امید ظاہر کی کہ بجٹ 2026 میں اعلان کردہ اقدامات سے ترقی کو تقویت ملے گی اور خدمات کے شعبے کی برآمدات میں مضبوطی برقرار رہے گی۔ انہوں نے ہندوستان اور یورپی یونین کے مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے اور ممکنہ ہندوستان۔امریکہ تجارتی سمجھوتے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان معاہدوں سے برآمدات کو فروغ مل سکتا ہے۔

ادھر شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کے اعلان کے بعد بازار حصص میں گراوٹ دیکھی گئی۔ سینسیکس 340 پوائنٹس گر کر 83 ہزار کی سطح سے نیچے آ گیا جبکہ نفٹی 150 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 25 ہزار 500 سے نیچے کاروبار کرتا رہا۔ بینک نفٹی میں بھی تقریباً 300 پوائنٹس کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ آٹو، بینکنگ اور رئیل اسٹیٹ شعبوں کے حصص دباؤ میں رہے اور متعلقہ اشاریوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔