صنعت و حرفت

’صنعتوں کو رعایت پر ہلہ نہیں ہوتا، تو بدحال کسانوں کی قرض معافی پر ہنگامہ کیوں!‘

تین ریاستوں میں حکومت سازی کے بعد کانگریس حکومتوں نے کسانوں کے لئے قرض معافی کا اعلان کیا ہے، بی جے پی اس قدم پر تنقید کر رہی ہے لیکن ماہر اقتصادیات پروفیسر ارون کمار اس فیصلہ کوصحیح قرار دے رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

تین ریاستوں (مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ) میں کانگریس حکومت کی جانب سے کی گئی قرض معافی پر تنقید کی جا رہی ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ کانگریس حکومتوں نے قرض معافی تو کر دی لیکن اس کے لئے وسائل کہاں سے آئیں گے! اس کا دو ٹوک جواب یہ ہے کہ جب ہم صنعتوں کے قیام کے لئے خرچ کر سکتے ہیں، صنعتوں کو رعایات دی جا سکتی ہے تو پھر شعبہ زراعت کو ریاعت کیوں نہیں دی جا سکتی؟ آخر کار شعبہ زراعت سے ملک کی آبادی کا 70 فیصد حصہ وابستہ ہے اور ہم اس کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں یہ ترجیح کی بات ہے۔

اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وسائل موجود نہیں تو انہیں پیدا کیجئے۔ آخر حکومتوں کا کام کیا ہے؟ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ریاست کی ذمہ داری نہیں تو پھر اور کس کی ہے؟۔

شعبہ زراعت کو فوری راحت دینے کے لئے قرض معاف کرنا ہی ہوگا اور نہ صرف قرض معافی بلکہ تعلیم اور صحت کی جانب بھی توجہ دینی ہوگی۔ دیہی علاقوں میں اگر تعلیم اور صحت کے لئے علاقہ میں سرمایہ کاری کی جائے تو اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اصل بات سیاسی عزم کی ہے، آپ ترجیحات میں جو کام شامل کرتے ہیں اس کے لئے وسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ آپ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ریاست میں جو وسائل ہیں یا جو پیدا کئے جانے ہیں انہیں کہاں خرچ کیا جا رہا ہے۔

قرض معافی کی وجہ سے زراعت کے شعبہ میں آئے بحران کا پوری طرح حل تو نہیں ہوگا لیکن کچھ وقت کے لئے بڑی راحت ملے گی۔ مودی حکومت کی طرف سے نافذ کی گئی اسکیموں، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے غیر منظم شعبوں پر بے حد منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ شعبہ زراعت بھی اسی غیر منظم علاقہ میں آتا ہے۔ ان دونوں منصوبوں کی وجہ سے زراعت کا بحران مزید سنگین ہو گیا تھا۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ قرض معافی سے کسانوں کو بڑی راحت ملے گی۔

آپ کو معلوم ہوگا کہ ملک میں غیر منظم طبقہ 93 فیصد افراد کو کام دیتا ہے۔ جب شعبہ زراعت ہی بحران میں ہوگا تو ظاہر ہے کہ اس کا اثر تقریباً پوری آبادی پر ہوگا۔ زرعی شعبہ میں بحران کی وجہ سے مانگ کم ہو جاتی ہے جس کا اثر قیمت پر پڑتا ہے۔ اور جب قیمت گر جاتی ہے تو آمدنی بھی کم ہو جاتی ہے۔

ٹرانسپورٹ انڈسٹری سے وابستہ تاجر اور کسانوں کی مصنوعات خریدنے والے کاروباری اپنا منافع کم نہیں کرتے۔ اس طرح سے دیکھا جائے تو کسانوں پر دہری مار پڑ رہی ہے۔ ایک طرف ان کی آمدنی کم ہو گئی ہے چونکہ قیمتوں میں گراوٹ آئی ہے دوسری طرف ان کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ کسان اس سے ابھرنے کے لئے سیٹھ ساہوکاروں سے قرض لیتا ہے اور پھر ان کے چکر میں پھنستا ہی چلا جاتا ہے۔ آپ اکثر ایسی خبریں پڑھتے ہیں کہ کسان نے قرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے خود کشی کر لی۔ کسانوں کو فوری راحت دینے کا قرض معافی سے بہتر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

حکومت کچھ طویل مدتی قدم بھی اٹھا سکتی ہیں جس کے لئے سلسلہ وار طریقہ سے کام کرنا ہوگا۔ مثلاً ایسی کوآپریٹیو سوسائٹیز قائم کی جائیں جس سے کسان براہ راست صارفین سے رابطہ میں آجائیں اور شہری بازارں میں اپنی مصنوعات کو فروخت کر سکیں۔ جس سے کسانوں کو واجب دام ملیں گے۔ اسی طرح کاروباریوں کے منافع کو بھی کم کرنے کی ضرورت ہے۔ کسان کھیت سے جس مصنوعات کو ایک روپے فی کلو کی شرح سے بیچتا ہے اسی چیز کو کاروباری 20 روپے فی کلو پر بیچتا ہے۔ کوآپریٹیو سوسائٹیز اس سلسلہ کو ختم کر سکتی ہیں۔

کسانوں کی فصلوں پر آنے والی لاگت کو بھی کم کرنے کی ضرورت ہے، اس کے لئے پانی، بجلی اور کھاد وغیرہ کی قیمتیں کم کی جانی چاہیں۔

تیسرا طویل مدتی راستہ ہے برباد ہو جانے والی فصلوں پر مناسب معاوضہ دیا جانا۔ مودی حکومت نے فصل بیمہ کے منصوبہ کا اعلان کیا ہے لیکن اسے ٹھیک سے نافذ نہیں کیا جا سکا ہے۔ جو فائدہ کسانوں کو ملنا چاہئے اس کا فائدہ بیمہ کمپنیاں اٹھا رہی ہین۔ یہ خبر بار بار آ رہی ہے کہ فصل بیمہ کا معاوضہ ٹھیک سے مل نہیں رہا ہے۔ اسے پالیسی بنا کر ٹھیک کرنا چاہیے۔ لب و لباب یہ کہ کسانوں کو قرض معافی کا فیصلہ بہت اچھا ہے لیکن اسے اگر صرف یہیں پر چھوڑ دیا جائے تو مزید مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔

(پروفیسر ارون کمار سے وشودیپک کی فون پر ہوئی گفتگو پر مبنی)