پالیسی شرحیں غیر تبدیل، اقتصادی ترقی کی شرح 9.5 فیصد رہنے کا اندازہ: آر بی آئی

سیمی کنڈکٹر کی کمی، اجناس کی مہنگائی اور عالمی مالیاتی منڈی میں ممکنہ اتار چڑھاؤ کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے رواں مالی سال کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو کے 9.5 فیصد پر برقرار رہنے کا اندازہ لگایا ہے

آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس / تصویر یو این آئی
آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس / تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

ممبئی: ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے کورونا کی دوسری لہر کی شدت کم ہونے سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنے، خریف کی عام بوائی سے دیہی مانگوں میں اچھال رہنے اور تہواروں کے سیزن میں سروس کی مانگ بڑھنے جیسے مثبت اشاروں کے درمیان سیمی کنڈکٹر کی کمی، اجناس کی مہنگائی اور عالمی مالیاتی منڈی میں ممکنہ اتار چڑھاؤ کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے رواں مالی سال کے لیے مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) کی شرح نمو کے 9.5 فیصد پر برقرار رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔

آر بی آئی کے گورنر شکتی کانت داس نے ان کی قیادت میں مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی آج تین روزہ دو ماہانہ جائزہ میٹنگ کے بعد بتایا کہ کورونا کی دوسری لہر کی شدت میں کمی کی وجہ سے گھریلو معاشی سرگرمیوں میں تیزی آرہی ہے۔ آگے عام خریف کی بوائی کومدِ نظر رکھتے ہوئے دیہی مانگ میں تیزی برقرار رہنے کا امکان ہے ، وہیں ربیع پیداواربھی بہتر رہنے کی توقع ہے۔ کورونا ٹیکہ کاری کی رفتار میں خاطر خواہ تیزی ، نئے کیسز میں مسلسل کمی اور آنے والے تہواروں کے سیزن میں کنٹیکٹ انٹینسیو سروس میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ نیزنان کنٹیکٹ انٹینسیو سروس کی مانگ مضبوط رہنے کے ساتھ شہری مانگ میں بھی اضافہ ہوگا۔


انہوں نے کہا کہ مالیاتی اور مالی صورتحال آسان بنی ہوئی ہے ، جو ترقی کے لیے سازگار ہوتی ہے ۔ ملک میں صلاحت کے استعمال کے ساتھ ہی کاروباری نقطہ نظر اور صارفین کے اعتماد میں بہتری ہو رہی ہے ۔ سرکار کی جانب سے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ، ایسٹ منیٹائزیشن ، ٹیکسیشن ، ٹیلی کام سیکٹر اور بینکنگ سیکٹر پر توجہ مرکوز کرنے والی وسیع اصلاحات سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہونے کی امید ہے ۔ ساتھ ہی پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (پی ایل آئی) اسکیم گھریلومینوفیکچرنگ اور برآمدات کے لیے بہتر اشارے ہیں۔

وہیں عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر کی قلت ، اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں ، ان پٹ کے اخراجات اضافہ اور عالمی مالیاتی مارکیٹ میں ممکنہ اتار چڑھاؤ کے ساتھ ہی مستقبل میں کووڈ-19 وبا کی غیر یقینی صورتحال معیشت کی ترقی کے امکانات کے لیے بڑے خطرات ہیں ۔ ان تمام وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی سال 2021-22 کے لیے جی ڈی پی کا تخمینہ 9.5 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے ۔ اس سے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں اقتصادی ترقی کی شرح 7.9 فیصد ، تیسری سہ ماہی میں 6.8 فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں 6.1 فیصد رہنے کا اندزہ ہے ۔ اگلے مالی سال 2022-23 میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح 17.2 فیصد رہنے کا اندزہ ہے۔


پالیسی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں

مہنگائی بڑھنےاور کورونا کی دوسری لہر کے بعد معاشی سرگرمیوں کے پٹری پر لوٹنے کا حوالہ دیتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے ریپو ریٹ اور دیگر پالیسی شرحوں کوحسب سابق رکھنےکا فیصلہ کیا ہے۔ آر بی آئی کے گورنرشکتی کانت داس کی صدارت میں مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی آج تین روزہ دو ماہانہ جائزہ میٹنگ میں تمام پالیسی شرحوں کوحسب سابق رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ریپو ریٹ 4 فیصد ، ریورس ریپو ریٹ 3.35 فیصد ، مارجنل اسٹینڈنگ فیسلیٹی ریٹ 4.25 فیصد اور بینک ریٹ کو 4.25 فیصد پر مستحکم رکھا گیا ہے ۔ کیش ریزرو کا تناسب 4 فیصد اورایس ایل آر 18 فیصد پر رہے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔