پی ایم مودی نے کہا ’حکومت کے پہلے 6 مہینے میں ترقی ہوئی‘، اعداد و شمار نے کھولی قلعی

پی ایم مودی نے اپنے دوسرے دور کے پہلے 6 مہینے کو ترقی والا، سماجی خود مختاری والا اور ملک کے اتحاد کو مضبوطی دینے والا بتایا ہے۔ لیکن ترقی کے محاذ پر مندی چھائی ہے اور سماج میں تفریق کا ماحول ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز اپنی حکومت کے دوسرے دور کے پہلے 6 مہینوں کو کچھ اس طرح متعارف کرایا ہے کہ اس میں ترقی کی زبردست لہر دیکھنے کو ملی ہے۔ انھوں نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے ’’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس اور سب کا وِشواس کے منتر 130 کروڑ ہندوستانیوں کے آشیرواد سے این ڈی اے حکومت لگاتار ہندوستان کی ترقی اور 130 کروڑ لوگوں کی زندگی کو مضبوط بنانے کے لیے نئی توانائی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔‘‘


پی ایم مودی کا کہنا ہے کہ ’’گزشتہ 6 مہینے کے دوران ترقی کو رفتار دینے، سماجی خود مختاری کو بڑھانے اور ہندوستان کے اتحاد کو مضبوطی دینے کے لیے تمام فیصلے لیے گئے ہیں۔ ہم آنے والے وقت میں ایسے مزید قدم اٹھانے والے ہیں تاکہ ایک خوشحال اور ترقی یافتہ جدید ہندوستان کی تعمیر ہو سکے۔‘‘

وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ 130 کروڑ لوگوں کی زندگی کو مضبوط بنانے کے لیے نئی توانائی سے کام کر رہے ہیں، لیکن تین سال پہلے کی نوٹ بندی اور بغیر تیاری کے نافذ کیے گئے جی ایس ٹی نے عام ہندوستانیوں کی زندگی کو مصیبت سے بھر دیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک کے کور سیکٹر کی ترقی میں 5.8 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔

پی ایم مودی نے کہا ’حکومت کے پہلے 6 مہینے میں ترقی ہوئی‘، اعداد و شمار نے کھولی قلعی

وزیر اعظم کے اس بیان سے کم از کم ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ انھیں ملک کی زمینی حقیقت کے بارے میں ذرا بھی پتہ نہیں ہے۔ کل ہی (جمعہ کو) ملک کی ترقی کو ظاہر کرنے والے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ معاشی ترقی کی شرح ساڑھے چھ سال کی ذیلی سطح کو چھوتی ہوئی 4.5 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ 8 کور سیکٹر لہولہان ہیں۔ گزشتہ سال سے مقابلہ کریں تو شرح ترقی میں تقریباً 3 فیصد کی گراوٹ درج ہوئی ہے۔ لیکن وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

پی ایم مودی نے کہا ’حکومت کے پہلے 6 مہینے میں ترقی ہوئی‘، اعداد و شمار نے کھولی قلعی

اکتوبر ماہ میں خوردہ مہنگائی کی شرح 16 مہینے کی اونچی سطح پر ہے۔ بے روزگاری ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ صارف خرچ چار دہائی کی ذیلی سطح پر پہنچ چکا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 30 Nov 2019, 7:11 PM