بدحال معیشت سے پریشان پی ایم مودی کی ماہر اقتصادیات سے اپیل ’حکومت کی خامی بتائیں‘

میٹنگ کے بعد ماہر اقتصادیات چرن سنگھ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ دیہی علاقوں میں خرچ بڑھائے جانے کی ضرورت ہے نہ کہ انکم ٹیکس میں رعایت دینے کی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان کی معیشت دن بہ دن زوال پذیر ہے۔ اس سلسلے میں لگاتار اپوزیشن پارٹی لیڈران اور ماہرین معیشت مودی حکومت کے خلاف انگلیاں اٹھاتے رہے ہیں۔ جی ڈی پی شرح ترقی کے اندازے میں بھی ورلڈ بینک سمیت کئی اداروں نے کمی کا اشارہ دے دیا ہے۔ اس درمیان آج پی ایم نریندر مودی نے ماہرین اقتصادیات کے ساتھ میٹنگ کی۔

بدحال معیشت سے پریشان پی ایم مودی کی ماہر اقتصادیات سے اپیل ’حکومت کی خامی بتائیں‘

میٹنگ کے دوران پی ایم مودی نے اقتصادی امور کے ماہر افراد سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی خامی کو بتائیں تاکہ اصلاح کے لیے اقدام کیے جا سکیں۔ میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ و دیگر وزراء کے علاوہ نیتی آیوگ کے نائب سربراہ راجیو کمار اور چیف ورکنگ افسر امیتابھ کانت بھی شامل ہوئے۔ وزیر اعظم کے اقتصادی صلاح کار کونسل کے چیئرمین وویک دیب رائے بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔

میٹنگ کے بعد ماہر اقتصادیات چرن سنگھ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ دیہی علاقوں میں خرچ بڑھائے جانے کی ضرورت ہے نہ کہ انکم ٹیکس میں رعایت دینے کی۔ انھوں نے بتایا کہ ’’وزیر اعظم نے میٹنگ میں کہا کہ اگر حکومت کی پالیسی میں کوئی خامی ہے تو بتایا جائے وہ اصلاح کے لیے تیار ہیں۔‘‘ دراصل ملک کی معاشی حالت انتہائی خستہ ہے اور پی ایم نریندر مودی نے معاشی ترقی کو رفتار دینے کے لیے مناسب راستہ تلاش کرنے اور دیگر معاشی امور پر بات چیت کرنے کے لیے نیتی آیوگ سے منسلک ماہرین کے ساتھ میٹنگ کی۔

اس سے قبل پی ایم نریندر مودی نے پیر کے روز ملک کے سرکردہ صنعت کاروں کے ساتھ معاشی امور پر ہی بات چیت کی تھی۔ میٹنگ میں رتن ٹاٹا، مکیش امبانی اور گوتم اڈانی سمیت 11 صنعت کار شامل ہوئے تھے۔ اس دوران جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی ترکیبوں پر بات چیت کی گئی تھی۔