معاشی محاذ پر مودی حکومت کی ناکامی پھر ظاہر، انڈسٹریل پروڈکشن میں 1.1 فیصد کی گراوٹ

معیشت کو لے کر سامنے آئے ایک نئے اعداد و شمار نے مودی حکومت کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ مینوفیکچرنگ، پاور اور مائننگ سیکٹر کی خراب کارکردگی کی وجہ سے اگست مہینے میں اندسٹریل پروڈکشن گھٹ کر1.1 فیصد ہو گیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

علی حیدر

مودی حکومت لگاتار دعوے کرتی آ رہی ہے کہ ملک کی معاشی حالت بحران کی شکار نہیں ہے۔ لیکن حال ہی میں معاشی محاذ پر مودی حکومت کو تازہ جھٹکا لگا ہے۔ اب تازہ اعداد و شمار ظاہر کر رہے ہیں کہ ملک بحران یعنی مندی کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق انڈسٹریل پروڈکشن میں 1.1 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔

حکومت کی جانب سے جمعہ کو جاری اعداد و شمار کے مطابق آئی آئی پی میں تقریباً 77 فیصد کا تعاون رکھنے والے مینوفیکچرنگ سیکٹر کا پروڈکشن اگست 2019 میں 1.1 فیصد گر گیا جب کہ اگست 2018 میں اس میں 4.8 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا تھا۔

معیشت کو سستی سے باہر نکالنے کے لیے مودی حکومت نے گزشتہ دنوں کئی بڑے فیصلے لیے لیکن اس کے باوجود انڈسٹری کی رفتار میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ تہواری سیزن کے باوجود انڈسٹری، خصوصاً آٹو اور کنزیومر ڈیوریبلس میں ابھی تک خاص ڈیمانڈ نہیں دیکھی گئی ہے۔ مسافر گاڑیوں کی گھریلو فروخت میں لگاتار 11ویں مہینے گراوٹ درج کی گئی ہے۔ سوسائٹی آف انڈین آٹو موبائل مینوفیکچررس (ایس آئی اے ایم) نے ستمبر مہینے کے فروخت کے اعداد و شمار جاری کر دیئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق مسافر گاڑیوں کی گھریلو فروخت ستمبر میں 23.69 فیصد سے گھٹ کر 2 لاکھ 23 ہزار 317 یونٹ رہ گئی۔ گزشتہ سال اس مہینے میں 2 لاکھ 92 ہزار 660 مسافر گاڑی فروخت ہوئے تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق سبھی درجات کی گاڑیوں کی فروخت 22.41 فیصد گھٹ کر 20 لاکھ 4 ہزار 932 یونٹ رہ گئی۔ گزشتہ سال اسی مہینے میں 25 لاکھ 84 ہزار 62 گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں۔

حال ہی میں موڈیز انوسٹرس سروسز نے 20-2019 میں ہندوستان کے جی ڈی پی اضافہ کی امکانی شرح 6.20 فیصد سے گھٹا کر 5.80 کر دی۔ موڈیز کا کہنا ہے کہ ہندوستانی معیشت نرمی سے کافی متاثر ہے اور اس کے کچھ اسباب طویل مدتی اثر ڈالنے والے ہیں۔