پارلیمنٹ میں اقتصادی جائزہ 20-2019 پیش، دوسری ششماہی میں بہتری کی امید!

وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے اقتصادی سروے کی کاپیاں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پیش کیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دوسری ششماہی میں 10 مثبت عوامل کی وجہ سے معیشت رفتار پکڑے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پارلیمنٹ میں جمعہ کوپیش کیے گئے اقتصادی جائزہ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں معیشت رفتار پکڑے گی اور پورے مالی سال کے دوران شرح نمو 5 فیصدرہے گی جبکہ آئندہ مالی سال میں اس کے بڑھ کر 6 سے ساڑھے سات فیصدکے درمیان رہنے کاامکان ہے۔

وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے اقتصادی سروے کی کاپیاں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پیش کیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دوسری ششماہی میں 10 مثبت عوامل کی وجہ سے معیشت رفتار پکڑے گی۔ اس میں شیئر بازارسرمایہ کاری کے مضبوط رجحان، راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ، مانگ میں اضافہ، دیہی کھپت کا مثبت منظر نامہ، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی، مصنوعات سازی میں مسلسل بہتری، اشیا کی برآمدات میں اضافہ، غیرملکی زرمبادلہ کی ریکارڈ سطح اور اشیااور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) وصولی میں مثبت اضافہ شامل ہے۔

ان سبھی عوامل کی وجہ سے رواں مالی سال میں جی ڈی پی شرح ترقی پانچ فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیاگیاہے ۔ساتھ ہی آئندہ مالی سال میں شرح ترقی بڑھ کر چھ سے ساڑھے چھ فیصد کےدرمیان رہنے کا امکان ہے۔

اقتصادی سروے 20۔2019 کی جھلکیاں

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش اقتصادی سروے 20۔2019 کے اہم نقاط حسب ذیل ہیں:ہندوستان میں ’اسمبلی ان انڈیا‘ اور ’میک ان انڈیا‘ منصوبہ کو ایک ساتھ ملانے سے برآمد بازار میں ہندوستان کی حصہ داری 2025 تک 5ء3 فیصد اور 2030 تک 6 فیصد ہوجائے گی۔

  • سال 2025 تک ملک میں اچھے تنخواہ والی چار کروڑ نوکریاں ہوں گی اور 2030 تک ان کی تعداد آٹھ کروڑ ہوجائے گی۔
  • سال 2025 تک ہندوستان کو پانچ ہزار ارب والی معیشت بنانے کے لئے ضروری ویلیو اڈیشن میں نٹ ورک پیداوار کی برآمد ایک تہائی کا اضافہ کرے گا۔
  • کل پیداواروں کی برآمد میں 9ء10 فیصد اور مینوفیکچرنگ پیداواروں کی برآمد میں 4ء13 فیصد کااضافہ۔
  • کل برآمد پیداواروں میں 6ء8 فیصد اور مینوفیکچرنگ پیداواروں کی برآمدات میں 7ء12 فیصد کا اضافہ۔
  • فی برس ہندوستان کے مینوفیکچرنگ پیداواروں کی تجارت سرپلس میں 7ء0 فیصد اور مجموعی پیداواروں کی تجارت سرپلس میں 3ء2 فیصد کا اضافہ ہوا۔
  • کاروباری سہولت ریکنگ میں سال 2019 میں ہندوستان 63ویں مقام پر۔
  • سال 2019 میں پبلک شعبوں کے بینکوں میں اوسطا فی ایک روپے کے سرمایہ کاری پر 23 پیسے کا خسارہ ہوا جبکہ نجی شعبہ کے بینکوں میں 6ء9 پیسے کا منافع ہوا۔
  • ہندوستان کی جی ڈی پی 20۔2019 کی پہلی ششماہی میں 8ء4 فیصد رہا۔
  • چالو کھاتہ خسارہ کم ہوکر 20۔2019 کی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی کا 5ء1 فیصد رہا۔
  • غیر ملکی کرنسی کا ذخیرہ 10 جنوری 2020 تک 2ء461 ارب ڈالر رہا۔
  • ہندوستان کی اعلی پانچ تجارتی شراکت دار امریکہ، چین، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، سعودی عرب اور ہانگ کانگ ہیں۔
  • اعلی برآمدات اشیا۔ پٹرولیم پیداوار، قیمتی پتھر، طبی نسخے اور نامیاتی، سونا اور دیگر قیمتی دھات ہیں۔
  • اعلی درآمد اشیا۔ کچے پٹرولیم، سونا، پٹرولیم پیداوار، کوئلہ، کوک اور بریکیٹس ہیں۔
  • ہندوستان کا لاجسٹکٹس صنعت سال 2020 تک 215 ارب ڈالر تک ہوجائے گا۔
  • کل ایف ڈی آئی سال 20۔2019 کی پہلی ششماہی میں 4ء38 ارب ڈالر رہی۔
  • ملک کے 56ء24 فیصد جغرافیاتی علاقے میں جنگل اور درخت کوور۔
  • دیہی علاقوں میں 21ء1 اور شہری علاقوں میں 39ء1 کروڑ نئے روزگاروں سمیت تقریبا 62ء2 کروڑ نئے روزگار پیدا کئے گئے۔
  • معیشت میں مجموعی رسمی روزگار میں 12۔2011 کے آٹھ فیصد کے مقابلے میں سال 18۔2017 میں 98ء9 فیصد کا اضافہ۔
  • مشن اندردھنش کے تحت پورے ملک میں 680 ضلعوں میں 39ء3 کروڑ بچوں اور 18ء87 لاکھ حاملہ خواتین کو ٹیکہ لگایا گیا۔
  • گاؤں میں تقریبا 7ء76 فیصد اور شہروں میں 96 فیصد خاندانوں کے پاس پختہ گھر۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)