نجکاری کے خلاف 9 لاکھ بینک ملازمین کی دو روزہ ہڑتال شروع

بینکوں کے 9 لاکھ ملازمین نے نجکاری کے خلاف 16-17 دسمبر کو ملک گیر ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بینکوں نے صارفین کو اطلاع دی ہے کہ ہڑتال کے سبب چیک کلیئرینس اور فنڈ ٹرانسفر جیسی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: عوامی شعبہ کے دو بینکوں کی نجکاری کے خلاف ملک بھر کے تقریباً 9 لاکھ ملازمین دو روزہ ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ اس ہفتہ میں سنیچر کے روز بینک کھولیں گے لیکن اتوار کے روز پھر تعطیل رہے گی۔ ایسے میں لوگوں کو بینک سے وابستہ کاموں کے سلسلہ میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز کے ریاستی کنونر مہیش مشرا نے پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس ہڑتال میں عوامی شعبہ کی 4 ہزار سے زیادہ شاخوں میں کام کرنے والے عہدیدار اور ملازمین شامل ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس میں بینکنگ قانون ترمیمی بل پیش کرنے جا رہی ہے، جس سے مستقبل میں سرکاری بینک کو نجی ہاتھوں میں دینے کا راستہ صاف ہو جائے گا۔ بینک ملازمین اور عہدیدار اس فیصلہ کے خلاف لام بند ہو کر 16 اور 17 دسمبر کو دو روزہ ملک گیر ہڑتال کریں گے۔


اس ہڑتال کی وجہ سے دو دنوں تک عام لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) سمیت بیشتر بینکوں نے اپنے ملازمین کو مطلع کیا ہے کہ ہڑتال کے سبب چیک کلیئرینس اور فنڈ ٹرانسفر جیسی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔

آل انڈیا بینک آفیسرس کنفیڈریشن (اے آئی بی او سی) کے جنرل سکریٹری سومیہ دتا نے کہا کہ بدھ کے روز ایڈیشنل لیبر کمشنر کے ساتھ مفاہمت کی کوشش ناکام رہی اور یونین ہڑتال پر جانے کے اپنے فیصلہ پر قائم رہی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔