مشکل میں امبانی خاندان، بلیک منی ایکٹ کے تحت نوٹس جاری

انکم ٹیکس محکمہ کی جانچ اس وقت شروع ہوئی جب حکومت کو 2011 میں جنیوا کے ایچ ایس بی سی بینک میں اکاؤنٹ رکھنے والے تقریباً 700 ہندوستانی شہریوں اور کمپنیوں کی جانکاری ملی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

انکم ٹیکس محکمہ کی ممبئی یونٹ نے کاروباری مکیش امبانی کی فیملی کے اراکین کو 2015 بلیک منی ایکٹ کے تحت نوٹس بھیجا ہے۔ محکمہ نے یہ کارروائی مختلف ممالک کی ایجنسیوں سے ملی خبروں کی بنیاد پر ہوئی جانچ کے بعد کی ہے۔ انکم ٹیکس محکمہ کی طرف سے یہ نوٹس انتہائی خاموشی کے ساتھ 28 مارچ 2019 کو بھیجا گیا۔ مکیش امبانی کی بیوی نیتا امبانی اور ان کے تین بچوں کو یہ نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ نوٹس کے مطابق مکیش امبانی کی فیملی پر مبینہ طور پر بیرون ممالک میں غیر اعلانیہ بیرون ملکی آمدنی اور ملکیت رکھنے کا الزام ہے۔

قابل ذکر ہے کہ انکم ٹیکس محکمہ کی جانچ اس وقت شروع ہوئی جب حکومت کو 2011 میں جنیوا کے ایچ ایس بی سی بینک میں اکاؤنٹ رکھنے والے تقریباً 700 شہریوں اور کمپنیوں کی جانکاری ملی تھی۔ اس کے بعد ’دی انڈین ایکسپریس‘ اور ’دی انٹرنیشنل کنسورٹیم آف انوسٹی گیٹیو جرنلسٹ‘ نے مل کر فروری 2015 میں ایک بڑی جانچ کو انجام دیا تھا۔ اس جانچ کو ’سوئس لیکس‘ نام دیا گیا تھا۔ جانچ میں ایچ ایس بی سی بینک میں اکاؤنٹ ہولڈروں کی تعداد بڑھ کر 1195 ہونے کی بات سامنے آئی تھی۔ ’انڈین ایکسپریس‘ کی جانچ میں ہی پہلی بار یہ انکشاف ہوا تھا کہ کس طرح ’ٹیکس ہیون‘ سمجھنے جانے والے ممالک میں کھلی آف شور کمپنیوں کا ایچ ایس بی سی جنیوا بینک کے 14 اکاؤنٹس سے رشتہ تھا۔ وہیں، ان سبھی کمپنیوں کے ایک بے حد پیچیدہ نظام کے ذریعہ ریلائنس گروپ سے تعلق ہونے کی بھی بات سامنے آئی تھی۔ ان 14 اکاؤنٹس میں 601 ملین ڈالر کی رقم جمع تھی۔

4 فروری 2019 کی انکم ٹیکس محکمہ کی جانچ رپورٹ اور 28 مارچ 2019 کو بھیجے گئے نوٹس کی تفصیلات سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ان 14 کمپنیوں میں سے ایک کیپٹل انویسٹمنٹ ٹرسٹ کے منافع کنندگان کے طور پر امبانی فیملی کے اراکین کا نام سامنے آیا۔ انکم ٹیکس محکمہ کی طرف سے بھیجے گئے نوٹس اور الزامات پر انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے کچھ سوال پوچھے تھے، جن کے جواب میں ریلائنس ترجمان نے کہا کہ ’’ہم آپ کے ای میل میں لکھی ہر بات کو خارج کرتے ہیں۔ ہمیں ایسا کوئی نوٹس بھی نہیں ملا ہے۔‘‘ حالانکہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو جانکاری ملی ہے کہ سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز کے اعلیٰ افسران اور ممبئی یونٹ کےا فسروں کے درمیان طویل غور و خوض کے بعد نوٹس بھیجے گئے۔ نوٹس بھیجے جانے کے کچھ دن پہلے ہی اس کے لیے فائنل کلیئرنس دیا گیا۔ جانکاری کے مطابق یہ نوٹس ممبئی کے ایڈیشنل کمشنر آف انکم ٹیکس (3)3 کے دفتر کی جانب سے بھیجے گئے۔

Published: 14 Sep 2019, 10:10 AM