مودی حکومت ’معاشی بحران‘ کی بات ہی قبول نہیں کر رہی تو حل کیسے نکالے گی: منموہن

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت یہ مانتی ہی نہیں کہ ملک میں معاشی بحران ہے، تو آخر اس کا حل نکالنے کے لیے وہ کوئی قدم کس طرح اٹھائے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر زوردار حملہ کیا ہے۔ انھوں نے مودی حکومت کے دور میں معاشی حالت کو نشان زد کرتے ہوئے کہا کہ ’’موجودہ حکومت ’بحران‘ لفظ کو قبول ہی نہیں کرتی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اصلی خطرہ یہی ہے کہ اگر مسائل کی شناخت نہیں کی گئی تو اصلاحات کی کارروائی کے لیے قابل اعتبار حل کا پتہ لگائے جانے کا امکان نہیں ہے۔‘‘

ڈاکٹر منموہن سنگھ نے یہ باتیں پلاننگ کمیشن کے سابق نائب صدر مونٹیک سنگھ اہلواہی کی کتاب ’بیک اسٹیج‘ کی تقریب اجرا کے موقع پر کہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’پلاننگ کمیشن کے سابق نائب صدر نے یو پی اے حکومت کے اچھے کاموں کے ساتھ ہی اس کی کمزوریوں کے بارے میں بھی لکھا ہے جس کے لیے وہ قابل مبارکباد ہیں۔‘‘

منموہن سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’مونٹیک سنگھ اہلوایہ کی یہ کتاب ملک کے مستقبل کی ترقی میں مدد کرنے والی ہے۔ مونٹیک نے اس کتاب میں یہ بھی بتایا ہے کہ برسراقتدار پارٹی آج یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ سال 25-2024 تک 5 ٹریلین ڈالر کی اکونومی صرف ایک خواہش رکھنے والی سوچ ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ امید رکھنے کی کوئی بھی وجہ نہیں ہے کہ آئندہ تین سالوں میں کسانوں کی آمدنی دوگنی ہو جائے گی۔‘‘

اس موقع پر اہلوالیہ نے ملک کے موجودہ معاشی حالات پر کہا کہ ’’اکونومی واپس پٹری پر آ سکتی ہے۔ اور اس کی شرح ترقی 8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ لیکن پہلے حکومت کو مسئلہ کا اعتراف کرنا ہوگا۔ اس کا احساس ہونا ضروری ہے، تبھی اس کا کوئی حل نکالا جا سکے گا۔‘‘