مہاجر مزدوروں کے پیروں میں چھالے دیکھ پگھلا لوگوں کا من، پہنائے جوتے-چپل

اتر پردیش کے آگرہ آئی ایس بی ٹی بس اسٹینڈ پر مقامی لوگوں نے ننگے پیر چل رہے مہاجر مزدوروں کے لیے ایک چھوٹی سی مہم چلائی ہے۔ اس مہم کے تحت ننگے پیر چلنے والے مزدوروں کو جوتے-چپل دستیاب کرائے گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مہاجر مزدوروں کا اپنی ریاست کی طرف پیدل سفر ہنوز جاری ہے۔ اس درمیان انھیں کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ کئی جگہوں پر مقامی لوگ ان کی مدد کے لیے آگے آ رہے ہیں۔ اتر پردیش کے آگرہ آئی ایس بی ٹی بس اسٹینڈ پر مقامی لوگوں نے ننگے پیر چل رہے مزدوروں کے لیے ایک چھوٹی سی مہم شروع کی ہے جس کے تحت ان مزدوروں کو جوتے-چپل دستیاب کرائے جا رہے ہیں جو ننگے پیر چل رہے ہیں اور اس کی وجہ سے پیروں میں چھالے پڑ گئے ہیں۔ جن مزدوروں کے پیروں میں چپل یا جوتے نہیں ہیں، وہ اپنے پیر کا سائز چیک کر کے جوتے لے سکتے ہیں تاکہ آگے کا سفر آسان ہو سکے۔

مقامی باشندہ راجندر مگن نے اس مہم کے تعلق سے بتایا کہ "ہم نے دیکھا کہ مہاجر مزدوروں کے پیروں میں جوتے نہیں ہیں۔ چلتے چلتے ان کے پیروں میں چھالے پڑ گئے ہیں۔ اسی کو دیکھتے ہوئے تین دن پہلے ہم نے ایک چھوٹی سی مہم شروع کی تھی جس میں ہم نے اپنے جاننے والوں اور سوسائٹی کے لوگوں سے کہا کہ آپ کے پاس جو بھی اضافی جوتے-چپل ہوں وہ آپ ہمیں دے دیں۔ اس کے بعد ہم نے بڑی تعداد میں ایسے جوتے-چپل اکٹھا کر کے ایک جگہ رکھ دیئے۔"

پھر اس مہم میں دوسرے لوگ بھی شامل ہو گئے اور وہ بھی ان راستوں پر جوتے-چپل دستیاب کرانے لگے، جہاں سے مزدور گزر رہے ہیں۔ یہاں مزدور آتے ہیں، اپنے لیے جوتے یا چپل کا سائز چیک کرتے ہیں اور پھر پہن کر اپنے راستے پر آگے نکل پڑتے ہیں۔

مزدوروں کے ساتھ چل رہا ایک 10 سالہ بچہ اپنے پیر میں جوتا پہن کر سائز چیک کر رہا تھا کیونکہ وہ ننگے پیر تھا۔ جب اس سے بات کی گئی تو اس نے بتایا کہ "میں بہار سے آیا ہوں۔ میرا ایک جوتا ٹرک میں چڑھتے وقت گر گیا تھا۔ میرے پیر میں ایک ہی جوتا بچا تھا۔ یہاں آ کر مجھے اپنے ناپ کا جوتا مل گیا۔ اب بہت اچھا لگ رہا ہے۔"

دراصل کورونا وائرس انفیکشن کے سبب جاری لاک ڈاؤن کے درمیان ہزاروں کی تعداد میں مہاجر مزدور آگرہ ہوتے ہوئے اپنے گھر جا رہے ہیں۔ ان میں سے کئی کے پیروں میں چپل نہیں ہے اور جن کے پیروں میں چپل ہیں بھی تو وہ کئی سو کلو میٹر پیدل چلنے کی وجہ سے پھٹ گئی ہیں یا خراب ہو گئی ہیں۔ اتنی تیز دھوپ میں ننگے پیر چلنے کی وجہ سے بچے ہوں یا بڑے، ان کے پیروں میں چھالے پڑ جاتے ہیں۔