مہاراشٹر: مخلوط حکومت کا پہلا بجٹ، اقلیتوں کی فلاح کے لئے 550 کروڑ روپے مختص

اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے پہلی مرتبہ ایک خطیر رقم مختص کی گئی ہے اور اقلیتی طلبا کے لئے نئے تعلیمی وضائف کا اعلان کیا گیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: مہاراشٹرکی شیوسینا، کانگریس، این سی پی پرمشتمل مہا وکاس اگھاڑی والی مخلوط حکومت نے جمعہ کے روز اپنا پہلا بجٹ پیش کر دیا، جوکہ 9510 کروڑ کےخسارے کا بجٹ ہے۔ بجٹ میں پٹرول-ڈیزل کے داموں میں ایک روپیہ کا اضافہ کیئے جانے کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے پہلی مرتبہ ایک خطیر رقم 550 کروڑ روپیہ مختص کئے گئے ہیں۔ اس بجٹ میں اقلیتی طلبا کے لئے نئے تعلیمی وضائف کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

ریاستی اسمبلی میں نائب وزیر اعلی و وزیر مالیات اجیت پوار نے، جبکہ قانون ساز کونسل میں ریاستی وزیر مالیات شمبھو دیسائی نے بجٹ پیش کیا۔ گزشتہ بی جے پی حکومت نے اقلیتی فلاح کیلئے 2018-19 میں 350 کروڑ روپیہ کی رقم مختص کی تھی جبکہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی موجودہ حکومت نے اقلیتوں کے لئے 550 کروڑ روپیہ مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بھیونڈی، مالیگاوں میں دم توڑتی پارچہ جاتی صنعت کیلئے آکسیجن ثابت ہونے والی ایک نئی اسکیم کا آغاز کرتے ہوئے حکومت نے بجلی کے داموں میں تخفیف کیئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، 7995 کروڑ روپیہ کی رقم محکمہ ٹیکسٹائل کے لئے مختص کی گئی ہے، جس کے ذریعے پاور لوم صنعت سے متعلق مختلف اسکیمیں چلائی جائیں گی۔

اقلیتوں کے لئے مختص کی گئی 550 کروڑ روپیہ کی رقم کو مولانا آزاد مفت تعلیم، ڈاکٹر ذاکر حسین مدرسہ تجدید کاری اسکیم، وقف بورڈ، پری میٹرک اسکالر شپ اسکیم، اقلیتی طلبا کے لئے نئی اسکیموں، اقلیتی طالبات کیلئے ہوسٹل میں مفت کھانا دستیاب کرانا وغیرہ اسکوموں کو چلانے میں کیا جائے گا۔

ادھو ٹھاکرے حکومت نے ممبئی سے متصل ممبرا نامی علاقہ میں نئے حج ہاوس تعمیر کئے جانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ حکومت نے اقلیتی طلبا کو بیرون ملک جا کر اعلی تعلیم حاصل کرنے کے زمرے میں بھی تعلیمی وضائف دیئے جانے کا اعلان کیا ہے۔ بجٹ کے مطابق اقلیتی طلبا کو پسماندہ طبقات کے طلبا کے طرز پر تعلیمی وضائف دیئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اقلیتوں کیلئے تیار کی گئی اسکیموں کے نفاذ کے لئے بھی 120 کروڑ روپیہ کی رقم مختص کی گئی ہے۔ اسی طرح سے حضرت خواجہ شاہ میرا درگار کی تزئین کاری کیلئے بھی ضروری فنڈ مختص کیئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اقبل ازیں، نائب وزیر اعلی و وزیر مالیات اجیت پوار نے ایوان میں بجٹ تقریر پیش کی اور کسانوں، دلتوں و دیگر طبقات کیلئے کئی اعلانات کیئے۔ بجٹ میں ایک جانب جہاں کسانوں کے قرض معافی کی کئی اسکیموں کا اعلان کیا گیا ہے وہیں دوسری جانب نوجوانوں کو روزگار دستیاب کرائے جانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ حکومت نے مہاراشٹر اپرینٹس شپ نامی ایک اسکیم تیار کیئے جانے کا اعلان کیا ہے جس میں کم از کم میٹرک پاس ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو صنعتی تربیت دی جائے گی اور انہیں ماہانہ پانچ ہزار روپیہ بھی دیا جائے گا۔

بجٹ کے مطابق ریاستی حکومت کسانوں کو شمشی توانائی سے چلنے والے آبپاشی پمپ کو بھی نصب کرائے گی جس کیلئے ۶۷۰؍کروڑ روپیہ مختص کیا گیا ہے ۔ اسی طرح سے کاجو کی کاشتکاری کیلئے پندرا کروڑ روپیہ اور مچھلیوں کی افزائش کیلئے بھی ۳۲۵۴؍کروڑ روپیہ مختص کیا گیا ہے ۔ ریاست کے ساحلی مقام کوکن کی ترقی و ترویج کیلئے اور کوکن میں واقع بانکوٹ ، کیلسی گاوں ، دابھول اور جئے گڑھ کیلئے 2500 کروڑ روپیہ دیئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

حکومت نے کولہاپور، رتناگری، سندھودرگ، اکولہ اور امراوتی میں نئے ایئر پورٹ تعمیر کیئے جانے کا اعلان کیا ہے، جس کے لئے 78 کروڑ روپیہ منظور کیا گیا ہے۔ صحت کے زمرے میں حکومت نے کئی ایک نئی اسکیموں کو چلائے جانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت 75 نئے ڈائلاسس سینٹر کھولے جائیں گے جہاں عوام کو مفت ڈائلاسس کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔

حکومت نے پرانی 102 نمبر والی ایمبولینس اسکیم کی جگہ پر نئی اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں جدید آلات سے لیس 500 نئی ایمبولینس خریدی جائیں گی۔ مہاتما جیوتیبا پھولے جن آروگیہ یوجنا جس کے تحت فی الوقت 493 نجی اسپتالوں میں مفت علاج کیا جاتا ہے اب اس کی تعداد ایک ہزار تک ہو جائے گی۔

Published: 6 Mar 2020, 9:30 PM
next