لاک ڈاؤن 4.0: ملک میں چار کروڑ دکانیں کھلیں، خریدار غائب

آل انڈیا مرچنٹس کنفیڈریشن نے کہا کہ ملک میں 55 دن تک چلے لاک ڈاؤن کے بعد مارکیٹ تو کھل گئے ہیں اور باقاعدہ کاروبار بھی شروع ہوگیا۔ لیکن سبھی بازاروں میں دکانوں پر کام کرنے والے ملازمین کی کمی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

ہےنئی دہلی: کورونا وبا کے سبب نافذ لاک ڈاؤن میں راحت ملنے کے بعد منگل کو ملک میں تقریباً ساڑھے چارکروڑ دکانیں کھلیں لیکن خریداروں نے دکانوں کی طرف رخ نہیں کیا، دکاندار صرف اپنی دکانوں کی صاف صفائی ہی کرتے نظر آئے۔

آل انڈیا مرچنٹس کنفیڈریشن نے یہاں کہا کہ ملک میں 55 دن تک چلے لاک ڈاؤن کے بعد مارکیٹ کھل گئے اور باقاعدہ کاروبار بھی شروع ہوگیا۔ تقریباً سبھی بازاروں میں دکانوں پر کام کرنے والے ملازمین کی کمی ہے۔ کیونکہ کثیر تعداد میں ملازمین اپنی آبائی ریاست چلے گئے ہیں۔ ایک تخمینہ کے مطابق دہلی میں کام کرنے والے تقریباً 70 فیصد سے زیادہ ملازمین اپنے گاؤں چلے گئے ہیں، بازاروں میں ٹھیلہ لاگنے والے افراد بھی نظر نہیں آئے اور یومیہ مزدور بھی غائب تھے۔

دہلی میں جفت طاق نظام کی وجہ سے تقریباً پانچ لاکھ دکانیں ہی کھل سکیں، جن دکانوں کے نمبرجفت ہیں وہ کل کھلیں گی۔ آج صرف طاق نمبر کی دکانیں ہی ھلیں ہیں۔ کنفیڈریشن کے قومی جنرل سکریٹری پروین کھنڈیلوال نے بتایا کہ بیشتر تاجر دکانوں کی صفائی میں مصروف دکھے۔ دکانوں کی مکمل طور پر صاف صفائی ہونے میں کم از کم ایک ہفتہ کا وقت لگے گا۔

متعدد دکانوں میں رکھا ہوا مال خراب ہوگیا ہے جبکہ کپڑے وغیرہ کی دکانوں کو چوہوں کی وجہ سے کافی نقصان ہوا ہے۔ آل انڈیا مرچنٹس کنفیڈریشن نے کہا کہ دہلی کے زیادہ تر تاجروں کو جفت طاق کا یہ نظام راس نہیں آرہا ہے۔ تھوک مارکیٹ دہلی کے بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ہیں اور ایک ایک عمارت میں متعدد دکانیں موجود ہیں۔ اس سے تاجروں میں الجھن پیدا ہو گئی ہے۔ خریدار بھی الجھن میں مبتلا ہوں گے، کیونکہ مختلف دکانیں مختلف قسم کا کاروبار کرتی ہیں۔ خریدار اگر ایک دن بازار میں آئے گا تو یقیناً ہر طرح کا سامان نہیں خرید سکے گا۔

Published: 19 May 2020, 4:40 PM