اقتصادی پیکیج میں بڑی آبادی نظر انداز ہوئی: چدمبرم

چدمبرم نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے مسلسل پانچ دن تک اس پیکیج کے بارے میں ملک کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس میں کہیں بھی عام آدمی کو راحت دینے کی بات نہیں کی گئی ہے

سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم
سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ اقتصادی سرگرمیوں کو پٹری پر لانے کے لئے حکومت نے 20 لاکھ کروڑ روپے کے جس اقتصادی پیکیج کا اعلان کیا ہے اس میں کروڑوں لوگوں نظر انداز ہوئے ہیں لہذا اس پیکیج پر اس نظر ثانی کرنی چاہئے۔

چدمبرم نے پیر کو یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے مسلسل پانچ دن تک اس پیکیج کے بارے میں ملک کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس میں کہیں بھی عام آدمی کو راحت دینے کی بات نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پیکیج میں 13 کروڑ نچلے طبقے کے غریبوں، سات کروڑ درمیانے طبقے کے کاروباریوں اور چھ کروڑ بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کے ساتھ ساتھ کسانوں، دہاڑی مزدوروں، زرعی مزدوروں اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملازمت کھونے والے لوگوں کے لئے کچھ نہیں ہے۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی پیکیج میں عام آدمی کو فائدہ دینے کے لئے اضافی خرچ کو اہمیت دئے جانے کی ضرورت تھی لیکن حکومت نے اس پر توجہ ہی نہیں دی۔ منریگا وغیرہ کے ذریعے اس مد میں ایک فیصد سے بھی کم یعنی کل 1.86 لاکھ کروڑ روپئے کا انٹطام کیا گیا ہے۔ پیکیج میں بڑی آبادی نظر انداز ہوئی ہے لہذا حکومت کو اس پیکج پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور اس میں اضافی خرچ میں کم از کم دس لاکھ کروڑ روپے کا انتظام کرنا چاہئے۔