صنعت و حرفت

جیٹ ایئر ویز کے شیئرمیں 30 فیصد کی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے 830 کروڑ روپے ڈوبے

جیٹ ایئرویز کی طرف سے تمام گھریلو اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ کئے جانے کے بعد کمپنی کے شیئر میں 30 فیصد کی بھاری گراوٹ درج کی گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ممبئی: مالیاتی بحران کی وجہ سے فی الحال سروس ل بند کر چکی پرائیویٹ فضائی کمپنی جیٹ ایئر ویز کے حصص جمعرات کو 30 فیصد لڑھک گئے۔ ایئر لائنز نے بدھ کی شام اعلان کیا تھا کہ جمعرات سے اس کی تمام گھریلو اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ کی جارہی ہیں۔ اس نے کہا ہے کہ سروس کو عارضی طور پر بند کیا جا رہا ہے۔ اس کے لئے کمپنی نے نقد رقم کی کمی کا حوالہ دیا ہے۔

اس اعلان کے بعد آج صبح مارکیٹ کھلتے ہی کمپنی کا حصص 24.15 گركر 217.70 پوائنٹس پر کھلا۔ کل مارکیٹ بند ہوتے وقت یہ 241.85 پوائنٹس پر رہا تھا۔ خبریں لکھے جانے تک ایئر لائن کا شیئر 30.29 فیصد ٹوٹ کر 168.60 پوائنٹس تک نیچے آچکا تھا۔

ادھر، مالیاتی بحران کی وجہ سے فی الحال اپنی خدمات ٹھپ کر چکی پرائیویٹ فضائی کمپنی جیٹ ایئر ویز کو قرض دینے والےبینکوں نے اس کا حصہ فروخت کرنے کے لئے شروع کی گئی بولی عمل کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی قیادت میں آٹھ بینکوں کے کنسورٹیم نے جیٹ ایئر ویز میں 75 فیصد حصہ داری فروخت کے لئے بولی عمل شروع کیاہے۔ خواہشمند سرمایہ کاروں سے 12 اپریل تک تکنیکی ٹینڈر یعنی ’لیٹر آف انٹریسٹ‘ مانگے تھے. مالی بولی لگانے کی آخری تاریخ 30 اپریل ہے جبکہ بولی عمل 12 مئی تک مکمل ہونے کی امید ہے۔

کنسورٹیم نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا ’’قرض دہندگان نے کافی غوروخوض کے بعد یہ طے کیا ہے کہ جیٹ ایئر ویز کو بچانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ’لیٹر آف انٹریسٹ‘ داخل کرنے والے ان ممکنہ سرمایہ کاروں سے بولی مانگی جائے جنہیں 16 مئی کو ٹینڈر دستاویزات جاری کئے جا چکے ہیں۔ قرض دہندگان کو امید ہے کہ بولی کا عمل کامیاب رہے گا اور شفاف طریقے سے کمپنی کے شیئر کی مناسب قیمت لگائی جائے گی‘‘۔