’حکومت مندی سے نمٹنے کے بجائے فائدہ میں چل رہی کمپنیوں کو فروخت کرنے پَر آمادہ‘

کانگریس نے کہا کہ حکومت مندی سے نپٹنے کے اقدامات نہیں کررہی ہے اور اس کے برعکس فائدہ میں چلنے والی پبلک سیکٹر کی کمپنیوں کو فروخت کرنے کی تیاری میں مصروف ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت اقتصادی مندی کے تعلق سے بات کرنے سے بچ رہی ہے اور وہ اس سے نپٹنے کے اقدامات نہیں کررہی، اس کے برعکس فائدہ میں چلنے والی پبلک سیکٹر کی کمپنیوں کو فروخت کرنے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہاکہ حکومت پرائیویٹ شعبہ سے سرمایہ کاری حاصل کرنے میں ناکام ہورہی ہے اور اب فائدہ میں چلنے والی پبلک سیکٹر کی نورتن کمپنیوں کو سرمایہ کشی کی تیاری کررہی ہے۔

کھیڑا نے کہا کہ پبلک سیکٹر کی کمپنی بی بی سی ایل فائدہ دینے والی کمپنی ہے اور 31مارچ تک اس کا فائدہ 31 فیصد تک بڑھا ہے لیکن حکومت کی اس منافع میں چلنے والی کمپنی کو 68 ہزار کروڑ روپے میں فروخت کرنے کی تیاری ہے۔ حکومت کی اسے فروخت کرنے کی تیاری پہلے سے ہی تھی اس لئے اس نے 2016 میں تین ایکٹوں کو پارلیمنٹ سے منسوخ کروا دیا اور اس کمپنی کو فروخت کرنے کا راستہ صاف کیا تھا۔

کھیڑا نے کہا کہ اسی طرح سے کنٹینر کارپوریشن آف انڈیا بھی فائدہ دینے والی کمپنی ہے لیکن اسے بھی کمزور کیا جارہا ہے تاکہ اس کی سرمایہ کشی کو آسان بنایا جاسکے۔ اسی طرح سے بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل جیسی کمپنیاں پہلے ہی بند ہونے کی دہلیز پر پہنچ چکی ہیں۔ پبلک سیکٹر کی ان کمپنیوں کو بند کرکے حکومت لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی ماہرین کے مطابق نوٹوں کی منسوخی کے بعد ملک کی شرح نمو 2سے 3فیصد کم ہوئی ہے۔ حکومت جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک رہنے کا اندازہ لگا رہی ہے لیکن ماہراقتصادیات مانتے ہیں کہ یہ اس سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ میں حکومت کا تخمینہ 7.44لاکھ کروڑ روپے تھا جو اب کم ہوکر 6.44کروڑ روپے رہ گیا ہے۔نجی سرمایہ کاری 16برس میں سب سے کم ہوئی ہے۔ حکومت مندی سے باہر نکلنے کی کوئی بھی کوشش نہیں کررہی ہے۔

Published: 9 Oct 2019, 11:10 PM