آر بی آئی کی ’شرح میں اضافہ‘ کی پالیسیوں سے مہنگائی پر نہیں پایا جا سکتا قابو: سروے

مہنگائی پر لگام لگانے کے لیے سنٹرل بینک ریپو ریٹ کو ایک ذریعہ کی شکل میں استعمال کرتا ہے، حالانکہ بیشتر ہندوستانیوں کی رائے میں آر بی آئی کی یہ پالیسی مہنگائی کم کرنے میں ناکام ہوگی۔

مہنگائی، تصویر آئی اے این ایس
مہنگائی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مارچ 2020 میں پہلی بار لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی اور سپلائی سیریز میں رخنہ اندازی بیشتر ہندوستان کے لیے فکر کا موضوع رہی ہے۔ تب سے آئی اے این ایس-سی ووٹر ٹریکر ڈاٹا نے لگاتار دکھایا ہے کہ بیشتر ہندوستانیوں کو لگتا ہے کہ آمدنی کم ہو گئی ہے یا ٹھہر گئی ہے، جب کہ خرچ بڑھ گیا ہے۔ شاید اس صارف نظریہ کو فروغ دینے کے لیے آر بی آئی نے بڑھتی مہنگائی کے باوجود تقریباً دو سالوں تک شرح سود بڑھانے سے پرہیز کیا۔ حالانکہ جب خوردہ مہنگائی 7 فیصد پر پہنچ گئی تو آر بی آئی نے مئی 2022 میں ریپو ریٹ میں 40 بیسس پوائنٹ کا اضافہ کیا۔ اس کے بعد ابھی کچھ دنوں پہلے بھی آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے دو ماہی میٹنگ میں ریپو ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹ بڑھائے جانے کا فیصلہ لیا گیا۔

مہنگائی پر لگام لگانے کے لیے سنٹرل بینک ریپو ریٹ کو ایک ذریعہ کی شکل میں استعمال کرتا ہے۔ حالانکہ آئی اے این ایس کی طرف سے سی ووٹر کے ذریعہ کیے گئے ایک ملک گیر سروے سے پتہ چلتا ہے کہ بیشتر ہندوستانیوں یعنی 51 فیصد سے زائد کی رائے میں آر بی آئی کے ذریعہ ریپو ریٹ میں کیا گیا اضافہ مہنگائی کو کم کرنے میں ناکام ہوگا۔ درحقیقت آر بی آئی نے خود بھی اعتراف کیا ہے کہ رواں مالی سال 23-2022 میں خوردہ مہنگائی شرح 7 فیصد کے قریب رہے گی۔ آر بی آئی کی مقررہ حد (ٹالرنس لیول) 6 فیصد ہے اور شرح مہنگائی کے اس کے پار جانے کے بعد سنٹرل بینک اسے کم کرنے کی ترکیب کرتا ہے۔


کم تعلیم حاصل کرنے والے لوگوں میں 45 فیصد شرکا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے لوگوں میں 59 فیصد شرکا کا یہ ماننا ہے کہ آر بی آئی مہنگائی پر لگام نہیں لگا پائے گی۔ سروے میں شامل درج فہرست قبائل کے صرف 25 فیصد لوگوں کو بھروسہ ہے کہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مئی 2022 میں کیے گئے ایک ملک گیر سی ووٹر سروے سے پتہ چلا تھا کہ ہر 4 میں سے 3 ہندوستانیوں کو مہنگائی کے سبب گھریلو خرچ کا مینجمنٹ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔