ڈالر کے مقابلے تاریخی نچلی سطح پر پہنچا روپیہ، 94.28 تک گراوٹ
عالمی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سرمایہ کے انخلا کے باعث روپیہ 94.28 فی ڈالر کی تاریخی نچلی سطح پر پہنچ گیا۔ اپوزیشن نے اس معاملے پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے

ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپے میں آج غیر معمولی گراوٹ درج کی گئی اور یہ تاریخ کی نچلی ترین سطح 94.28 روپے فی ڈالر سے بھی آگے نکل گیا۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال، خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی، اس گراوٹ کی بنیادی وجہ بن رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی بازار میں برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جانے نے ہندوستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 88 فیصد تیل درآمد کرتا ہے، جس کی ادائیگی ڈالر میں ہوتی ہے۔ ایسے میں جب خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے روپیہ مزید کمزور ہوتا ہے۔ اسی دوران غیر ملکی سرمایہ کار بھی خطرے کے ماحول میں ہندوستانی بازاروں سے سرمایہ نکال کر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ اندازوں کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے اربوں ڈالر کی فروخت کی ہے، جس کا براہ راست اثر روپے کی قدر پر پڑا ہے۔
اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی جانب سے سخت موقف اور ممکنہ بندش کی دھمکی نے عالمی توانائی سپلائی کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جس سے بازار میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ یہی بے چینی کرنسی بازاروں میں بھی جھلک رہی ہے، جہاں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
روپے کی اس کمزوری کا اثر عام آدمی پر بھی واضح طور پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ چونکہ ہندوستان بڑی مقدار میں خام تیل، خوردنی تیل، الیکٹرانک اشیاء اور دیگر مصنوعات درآمد کرتا ہے، اس لیے روپے کی گراوٹ ان تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ متوقع ہے۔ اگر مہنگائی بڑھتی ہے تو ریزرو بینک آف انڈیا شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے قرض اور ای ایم آئی مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔
ادھر سیاسی محاذ پر بھی یہ معاملہ گرماتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے روپے کی گراوٹ کو لے کر نریندر مودی کی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن لیڈران کا کہنا ہے کہ اقتدار میں آنے سے قبل مودی روپیہ کمزور ہونے پر سخت بیانات دیا کرتے تھے، لیکن اب جبکہ مکمل اختیار ان کے ہاتھ میں ہے، روپے کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت معاشی محاذ پر ناکام رہی ہے اور اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو روپے پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ ایسے میں آنے والے دنوں میں مہنگائی اور مالیاتی پالیسی دونوں پر اس کے اثرات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔