امریکی مصنوعات پر مزید انڈین ٹیکس نامنظور: ٹرمپ

جاپان میں وزیر اعظم نریندر مودی سے اس ایشو پر بات چیت کے کچھ ہی دن بعد ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ امریکی مصنوعات پر ہندوستان کی طرف سے ٹیکس لگایا جانا اب قابل قبول نہیں ہوگا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر مصنوعات ٹیکس کے معاملہ پر ہندوستان کے خلاف لب کشائی کی ہے۔ جاپان میں وزیر اعظم نریندر مودی سے اس ایشو پر بات چیت کے کچھ ہی دن بعد ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ امریکی مصنوعات پر ہندوستان کی طرف سے ٹیکس لگایا جانا اب قابل قبول نہیں ہوگا۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اوساکا میں جی-20 سے الگ ٹرمپ اور مودی کے درمیان تجارتی ایشوز پر بات چیت کے بعد آگے کے قدم پر غور کرنے کے لئے دونوں ممالک کے ٹریڈ افسران ملاقات کرنے والے ہیں۔

ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا، ’’ہندوستان کو طویل مدت سے امریکی مصنوعات پر ٹیرف لگانے کی چھوٹ ملتی رہی ہے۔ یہ اب اور منظور نہیں!‘‘

اس سے پہلے پی ایم مودی سے 28 جون کو ملنے سے پہلے ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا تھا، ’’میں وزیر اعظم نریندر مودی سے مل کر کہنا چاہتا ہوں کہ سالوں سے ہندوستان نے امریکہ کے خلاف بہت زیادہ ٹیکس لگا رکھا ہے اور حال میں انہیں مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ ناقابل قبول ہے، ان ٹیکسز کو واپس لیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ یکم جون کو امریکہ کی طرف سے ہندوستان کو دیا گیا ’ترجیحی ملک‘ کا درجہ واپس لے لیا تھا جس کے بعد ہندوستانی مصنوعات پر ٹیرف میں اضافہ ہو گیا۔ اس کے جواب میں ہندوستان نے امریکہ کی 28 مصنوعات پر ٹیکس بڑھا دیا تھا، جن میں ہارلے ڈیوڈسن موٹر سائیکل اور امریکی سیب شامل تھے۔

جاپان کے اوساکا میں مودی اور ٹرمپ ملاقات کے بعد خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے نے بتایا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان تجارت پر بات چیت ہوئی ہے۔ دونوں نے اپنے اپنے کاروباری موقف پیش کیے ہیں اور اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ دنوں ممالک کے بزنس اینڈ کامرس وزراء جلد ملاقات کریں گے اور تمام معاملات حل کرنے کی سمت میں پیش قدمی کریں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ بلاشبہ صدر ٹرمپ نے اس خیال کا استقبال کیا ہے۔

Published: 10 Jul 2019, 5:10 PM