یوم آزادی پر خصوصی پیشکش: بغیر معاشی آزادی کے حقیقی آزادی نہیں مل سکتی... پی چدمبرم

سات فیصد شرح ترقی لاکھوں ملازمتیں پیدا نہیں کرے گی۔ یہ ہندوستان کو دنیا کی تیزی رفتار بڑی معیشتوں میں سے ایک ہونے کا تمغہ بھلے ہی دے دے، لیکن یہ انتہائی غریب اور بے روزگار طبقہ کے لیے بے معنی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پی. چدمبرم

آزادی، ایک تحریری آئین، حکومت کے پارلیمانی نظام اور قانون کی حکومت کے بہت سارے مقاصد ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ ملک کے لوگوں کی سماجی اور معاشی ترقی کی قیادت کریں گے۔ 1947 میں ملک کی حکومت کے لیے ذمہ داری لینے کا تصور کیجیے، جب 83 فیصد آبادی ناخواندہ تھی، پیدائش کے وقت زندگی کی امید 32 سال تھی، جب فی کس آمدنی 247 روپے سالانہ تھی۔ جواہر لال نہرو اور کانگریس نے بہادری کے ساتھ اس چیلنج کو قبول کیا۔

15 اگست 1947 سے ہندوستان نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ یہ طویل سفر معیشت نے بھی طے کیا ہے۔ تب سے آج تک ہماری معیشت کئی گنا بڑھی ہے اور 19-2018 میں 14077586 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ راجیہ سبھا میں 20-2019 کے بجٹ پر بولتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ "اگر جی ڈی پی کی شرح ترقی 12 فیصد ہے تو جی ڈی پی کا سائز ہر چھ سالوں میں دوگنا ہو جائے گا۔ اگر یہ شرح 11 فیصد ہے تو اس کا سائز ہر سات سالوں میں دوگنا ہو جائے گا۔"

1991 اور 2017 کے درمیان واقعی میں جی ڈی پی کا سائز تین بار دوگنا ہوا۔ اس لیے میں نے وزیر مالیات سے گزارش کی کہ 25-2024 میں پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت کے نشانے کے ساتھ نہیں رکنا چاہیے بلکہ یہ بھی بتایا کہ اس کے بعد چھ یا سات سالوں میں معیشت کا سائز 10 ٹریلین ڈالر ہو جائے گا۔ اس کے بعد یہ چھ یا سات سالوں میں 20 ٹرین ڈالر پہنچ جائے گا۔

20-2019 کا بجٹ بہت جلد ہی واضح ہو چکا ہے۔ اِس یا اُس تجویز کے بارے میں لوگوں کے درمیان کوئی 'بات چیت' نہیں ہے۔ تلخی سے بھرے ہیں، لیکن خوف سے خاموش ہیں۔ امیر راحت میں ہیں کہ انھیں چھوڑ دیا گیا ہے۔ متوسط طبقہ کا خواب ٹوٹ چکا ہے، کیونکہ اس پر نئے بوجھ ڈالے گئے ہیں۔ غریبوں نے اپنی قسمت پر صبر کر لیا ہے۔ درمیانے سائز کے کارپوریٹ (4000) اپنی طرف پھینکے ٹکڑوں کی گنتی کر رہے ہیں۔ کسی بھی حکومت کی پالیسی بچت اور سرمایہ کو فروغ کرنے والی، اسپتالوں اور اسکولوں و کالجوں کی تعمیر اور انھیں بہتر بنانے والی، سڑکوں کی تعمیر، اہلیت والے انفراسٹرکچر کی تعمیر اور شہروں و قصبوں کو خوبصورت بنانے والی ہونی چاہیے۔

حکومت کو لے کر اس بنیادی سچائی کو سمجھنے میں بی جے پی حکومت ناکام رہی ہے۔ نتیجتاً اچھی پالیسیوں کو پورا کرنے میں بھی وہ پوری طرح ناکام ہوئی ہے۔ اس کی بہترین مثال جی ایس ٹی ہے۔ حکومت کے وزیر نئے ٹیکس نظام کو نافذ کرنے اور اس کے تجزیے میں ناکام رہے۔ کئی طرح کی بے ضابطگیوں اور مایوسیوں کی شکل میں اس کا نتیجہ سامنے آیا۔

حکومت نے 20-2019 میں جی ڈی پی میں سات یا آٹھ فیصد اضافہ کا وعدہ کیا۔ یہ صرف ایک فیصد کا فرق نہیں ہے۔ یہ لگاتار اوسط (ماڈریٹ) ترقی اور ممکنہ طور سے تیز ترقی کے درمیان کا فرق ہے۔ بہت سارے آبزرورس نے نشان زد کیا کہ بجٹ تقریر میں اس کا کوئی اشارہ نہیں تھا کہ کیا حکومت ماڈریٹ گروتھ (7 فیصد یا کم) کے ساتھ مطمئن ہے یا اس کا نشانہ تیز ترقی (8 فیصد سے زیادہ) کا ہے۔ میرا سمجھنا ہے کہ حکومت ماڈریٹ گروتھ کے ساتھ مطمئن ہے۔ اعلیٰ اور تیز رفتار ترقی کے لیے ڈیولپمنٹ کے سبھی چاروں انجنوں کو رفتار دینی ہوتی ہے۔

موجودہ حکومت میں صرف 19-2018 میں برآمدگی (مرچنڈائز) 315 ارب کو پار کر پایا۔ یہ 14-2013 میں طے کیا گیا تھا، پھر بھی شرح ترقی گزشتہ سال کے مقابلے اوسط 9 فیصد ہی تھی۔ سرمایہ کم ہوا ہے۔ بہت سارے سرمایہ کار حالیہ ہفتوں میں ہندوستان سے جا چکے ہیں۔

7 فیصد شرح ترقی ملکیت بڑھنے یا فلاح کو بڑھانے کے لیے مناسب نہیں ہوگی۔ یہ لاکھوں ملازمتیں پیدا نہیں کرے گی۔ یہ نچلے پائیدان پر کھڑے 20 فیصد لوگوں کی فی کس آمدنی کو نہیں بڑھائے گی۔ یہ ہندوستان کو دنیا کی تیزی سے بڑھتی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہونے کا تمغہ بھلے ہی دے دے لیکن یہ انتہائی غریب، بے روزگار اور نظر انداز و کمزور طبقہ کے لیے بے معنی ہے۔

اس یومِ آزادی کے موقع پر غریبوں، بے روزگاروں اور استحصال زدہ لوگوں سے پوچھیے۔ ان سے پوچھیے کیا ان کے پاس جشن منانے کی کوئی وجہ ہے۔ جب تک معاشی آزادی نہیں ہے تب تک سچی آزادی نہیں ہو سکتی۔ جب تک حقیقی آزاد نہیں ہے، تب تک غریبی یا بے روزگاری یا استحصال کو ختم کرنے کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔ اور جب تک ملک میں یہ چیزیں ہیں، آزادی خطرے میں ہوگی۔

Published: 15 Aug 2019, 3:10 PM
next