کورونا بحران میں ہندوستان کو لگا ایک اور جھٹکا

‘فچ’ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق کورونا کی وجہ سے ہندوستان کی معیشت پر برا اثر پڑا ہے۔ اس وبا کے سبب موجودہ سال کے لیے ترقیاتی رفتار کمزور ہوئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق ہندوستان کو اب کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا بحران کے درمیان ہندوستان کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے۔ ریٹنگ ایجنسی 'فچ ریٹنگز' نے ہندوستان کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے گروتھ آؤٹ لک (ترقیاتی شرح کا اندازہ) کو 'مستحکم' سے کم کرتے ہوئے 'منفی' کر دیا ہے۔ ریٹنگ ایجنسی نے ہندوستان کے لیے پہلے کی ہی طرح ایشیور ڈیفالٹ ریٹنگ 'بی بی بی' برقرار رکھی ہے۔ یہ ریٹنگ سب سے کم سرمایہ کاری کے گریڈ کے لیے ہے۔

فچ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق کورونا وبا کی وجہ سے ہندوستان کی معیشت پر برا اثر پڑا ہے۔ اس وبا کی وجہ سے موجودہ سال کے لیے ترقیاتی رفتار کمزور ہوئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق وبا کی وجہ سے ہندوستان کے سامنے کئی طرح کے چیلنجز سامنے آئے ہیں، مثلاً قرض کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔ فچ کے مطابق ہندوستان میں سخت لاک ڈاؤن کی وجہ سے مالی سال 2021 میں معاشی سرگرمی میں 5 فیصد گراوٹ آ سکتی ہے۔ حالانکہ مالی سال 2022 میں یہ بڑھے گی۔

فچ ریٹنگز کے مطابق اس سال ہندوستان کی معاشی ترقی منفی رہے گی، لیکن مالی سال 2022 میں یہ 9.5 فیصد کے حساب سے بڑھ سکتی ہے۔ فچ ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس طرح سے ملک میں کورونا وائرس کے کیس بڑھ رہے ہیں، اس سے جوکھم بھی بڑھ رہا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان باتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے ریٹنگ ریوائز کی گئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق حالانکہ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کب تک کورونا وائرس کے چیلنجز ختم ہونے کے بعد ہندوستان ایک مستحکم گروتھ یعنی ترقیاتی رفتار کی جانب بڑھے گا۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے بھی ہندوستان کی شرح ترقی کو گھٹا دیا تھا۔ موڈیز نے ہندوستان کی سورین ریٹنگ کو 'بی اے اے 2' سے گھٹا کر 'بی اے اے 3' کر دیا تھا۔ ساتھ ہی ایجنسی نے ملک کے لیے منفی آؤٹ لک برقرار رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی قلیل مدتی مقامی کرنسی ریٹنگ کو پی-2 سے گھٹا کر پی-3 کر دیا گیا ہے۔